ورلڈکپ2015، پاکستان کے پاس زمبابوے کو ہرا کو ورلڈ کپ میں واپسی کا آخری موقع

ورلڈکپ2015، پاکستان کے پاس زمبابوے کو ہرا کو ورلڈ کپ میں واپسی کا آخری موقع

  

کرکٹ ورلڈ کپ کے پول میچز جاری ہیں ہر ٹیم کامیابی کے لئے تگ و دو میں مصروف ہے ہر ٹیم کی کوشش ہے کہ وہ اپنے پول میں نمایاں پوزیشن کے ساتھ کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرلے کئی ٹیمیں دوسرے مرحلے میں پہنچنے کے لئے پر امید ہیں، جبکہ ابھی امید لگائے ہوئے ہیں پاکستان اور زمبابوے کی ٹیمیں آج میگا ایونٹ میں آمنے سامنے ہیں۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے لئے یہ میچ کوارٹر فائنل تک رسائی سے پہلے کوارٹر فائنل میچ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میچ میں کامیابی اور ناکامی قومی ٹیم کی اس ایونٹ میں مستقبل بارے فیصلہ کرے گی قومی ٹیم اپنے دو میچ ہارنے کے بعد اپنے پول میں سب سے آخری پوزیشن پر ہے اور اس کو کوارٹر فائنل تک رسائی کے لئے نہ صرف آج کا میچ بڑے مارجن سے جیتنے کی ضرورت ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس کو اپنے باقی کے تین میچوں میں بھی کامیابی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ آئرش ٹیم کی یو اے ای کے خلاف جیت کے بعد اب پاکستان کے لئے مزید مشکلات پیدا ہوگئیں ہیں اور کرکٹ ماہرین کے مطابق اس کا ورلڈ کپ میں رہنا اب معجزہ ہی ہوگا ٹیم اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہے چیف سلیکٹر معین خان کے معاملے کی وجہ سے پہلے ہی کرکٹ بورڈ اور ٹیم کی پوری دنیا میں بہت جگ ہنسائی ہوئی ہے ایسے موقع پر کیا ٹیم اب عمدہ پرفارمنس کا مظاہرہ کرسکے گی یہ ایک سوالیہ نشان بن گیا ہے زمبابوے کی ٹیم پاکستان کو ٹف ٹائم دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے اور وہ اس میچ میں کامیابی کے لئے پورا زور لگائے گی پاکستانی ٹیم کی تیاری کیسی ہے اور میچ کے حوالے سے حکمت عملی کیا ہے یہ تو آج میچ کے اختتام پر ہی واضح ہوگا لیکن اس میچ کی پاکستان کے لئے اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ٹیم اس میچ میں کامیابی حاصل کرکے ہی ورلڈ کپ میں اپنے آپ کو زندہ رکھ سکتی ہے ۔ دوسری جانب اب تک دونوں ٹیموں کے درمیا ن کھیلے گئے میچوں پر نظر دوڑا ئی جائے تو پاکستانی ٹیم کو زمبابوین ٹیم پر وزاضح برتری حاصل ہے ۔پاکستان اور زمبابوے کی ٹیموں کے مابین ورلڈ کپ مقابلوں میں5میچ کھیلے گئے جن میں سے 4میچ پاکستان نے جیتے اورایک میچ غیر فیصلہ کن رہاورلڈکپ مقابلوں میں پاکستان کا زمبابوے کے خلاف کامیابی کاتناسب100فیصد ہے پاکستان اورزمبابوے کی کرکٹ ٹیموں کے مابین 1992ء سے لے اب تک 47ون ڈے انٹرنیشنل میچ کھیلے گئے جن میں سے42میچ پاکستان نے جیتے، 3میچ ہارے ،ایک میچ برابراورایک میچ غیرفیصلہ کن رہا۔پاکستان کی کامیابی کاتناسب 92.39 فیصد ہے۔ زمبابوے نے 35میچوں میں سے 3 میچ جیتے، 42 میچ ہارے، ایک میچ برابر اور ایک میچ غیرفیصلہ کن رہا زمبابوے کی کامیابی کا تناسب7.60 فیصد ہے۔ پاکستان اورزمبابوے کے مابین کھیلے گئے ون ڈے میچوں میں زیادہ سے زیادہ رنزبنانے کا اعزاز پاکستان کے محمدیوسف کے پاس ہے۔ انہوں نے 24 میچوں کی 22 اننگز میں 73.78کی اوسط سے 1033رنزبنائے جن میں 3 سنچریاں اور7نصف سنچریاں شامل ہیں انکازیادہ سے زیادہ انفرادی سکور141رنزناٹ آؤٹ ہے۔ دوسرے نمبر پر زمبابوے کے گرانڈ ڈبلیو فلاور نے 30 میچوں کی 28اننگزمیں34.84کی اوسط سے 906 رنز بنائے جن میں ایک سنچری اور6نصف سنچریاں شامل ہیں انکازیادہ سے زیادہ انفرادی سکور 105 رنزناٹ آؤٹ ہے۔تیسرے نمبر پر بھی زمبابوے کے اینڈریو فلاورز نے 30 میچوں کی 29 اننگز میں 31.55کی اوسط سے852رنزبنائے جن میں 8نصف سنچریاں شامل ہیں انکازیادہ سے زیادہ انفرادی سکور82رنزہے۔چوتھے نمبر پر پاکستان کے انضمام الحق نے26میچوں کی 23 اننگز میں 41.75کی اوسط سے835رنزبنائے جن میں ایک سنچری اور4نصف سنچریاں شامل ہیں انکا زیادہ سے زیادہ انفرادی سکور116رنزناٹ آؤٹ ہے۔ پانچویں نمبرپرپاکستان کے یونس خان نے 20 میچوں کی 18اننگزمیں 52.86کی اوسط سے 793 رنز بنائے جن میں9 نصف سنچریاں شامل ہیں انکا زیادہ سے زیادہ انفرادی سکور90 رنز ہے۔ چھٹے نمبرپرپاکستان کے شاہدآفریدی نے 30میچوں کی 28 اننگز میں 31.75کی اوسط سے 762 رنز بنائے جن میں6نصف سنچریاں شامل ہیں انکازیادہ سے زیادہ انفرادی سکور 85 رنز ہے۔ ساتویں نمبر پر پاکستان کے سعیدانورنے15میچوں کی 15 اننگز میں 58.58کی اوسط سے703رنزبنائے جن میں 2 سنچریاں اور4نصف سنچریاں شامل ہیں انکا زیادہ سے زیادہ انفرادی سکور103رنزناٹ آؤٹ ہے۔ آٹھویں نمبر پر زمبابوے کے برینڈن ٹیلر نے 15 میچوں کی 15اننگزمیں37.28کی اوسط سے 522 رنزبنائے جن میں5 نصف سنچریاں شامل ہے انکازیادہ سے زیادہ انفرادی سکور 84 رنز ہے۔ نویں نمبر پرپاکستان کے محمدحفیظ نے9میچوں کی 9 اننگز میں 80.50کی اوسط سے483رنزبنائے جن میں2سنچریاں اورایک نصف سنچری شامل ہے انکازیادہ سے زیادہ انفرادی سکور139رنزہ ناٹ آؤٹ ہے۔دسویں نمبرپرزمبابوے کے ٹاٹینڈاتیبو نے 19میچوں کی 18اننگزمیں33.78کی اوسط سے473رنزبنائے جن میں3 نصف سنچری شامل ہیں انکازیادہ سے زیادہ انفرادی سکور81رنز ہے جبکہ زمبابوے کے گرانڈفلاورنے پاکستان کے خلاف سب سے زیادہ رنزبنائے ۔ گرانڈ ڈبلیو فلاور نے 30میچوں کی 28اننگزمیں34.84کی اوسط سے906رنزبنائے جن میں ایک سنچری اور6 نصف سنچریاں شامل ہیں انکا زیادہ سے زیادہ انفرادی سکور105رنزناٹ آؤٹ ہے۔دوسرے پر اینڈریو فلاورز نے 30 میچوں کی 29 اننگز میں 31.55کی اوسط سے852رنزبنائے جن میں 8نصف سنچریاں شامل ہیں انکازیادہ سے زیادہ انفرادی سکور82 رنز ہے۔تیسرے نمبرپربرینڈن ٹیلر نے 15 میچوں کی 15اننگزمیں37.28کی اوسط سے 522 رنزبنائے جن میں5 نصف سنچریاں شامل ہے انکازیادہ سے زیادہ انفرادی سکور 84 رنز ہے۔ چوتھے نمبرپر ٹاٹینڈاتیبو نے 19 میچوں کی 18اننگز میں33.78 کی اوسط سے 473 رنز بنائے جن میں3 نصف سنچری شامل ہیں انکازیادہ سے زیادہ انفرادی سکور81رنز ہے۔ پانچویں نمبرپرزمبابوے کے ڈی ایل ہوگٹن نے 12 میچوں کی 12 اننگز میں 38.09کی اوسط سے 419 رنزبنائے جن میں4نصف سنچریاں شامل ہیں انکازیادہ سے زیادہ انفرادی سکور73 رنزناٹ آؤٹ ہے۔ پاکستان کے اس شاندار ریکارڈ کے باوجود زمبابوے کی ٹیم پاکستان کے لئے آسان ہدف ثابت نہیں ہوگی اس ایونٹ میں اس نے اپنے کھیلے گئے میچوں میں عمدہ پرفارمنس کا مظاہرہ کیا ہے اور اسی لئے وہ پاکستان کے لئے بھی خطرہ بن سکتی ہے پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کھلاڑیوں نے پاکستان کے لئے اس میچ کو ٹیم کی بقاء کی جنگ قرار دیا ہے اگر پاکستانی ٹیم نے یہ میچ جیت بھی لیا تو اس کا امتحان ختم نہیں ہوگا کیونکہ اس کے بعد کھیلے جانے والے میچوں میں بھی اس کو محنت کی ضرورت ہوگی لیکن یہ ضرور ہے کہ اس میچ میں کامیابی کے بعد پاکستان اپنے سفر کا آغاز کرے گا اور اس کامیابی سے کھلاڑیوں کے حوصلے بلند ہوں گے جس کی ٹیم کے کھلاڑیوں کو اشد ضرورت ہے سابق کھلاڑیوں کے مطابق پاکستانی ٹیم نے اس ورلڈ کپ میں وہ کارکردگی نہیں دکھائے جس کی پوری قوم نے اس سے توقع کی ہوئی تھی لیکن ابھی بھی وقت گزرا نہیں ہے اور ایک موقع ہمارے پاس ہے اگر پاکستانی ٹیم زمبابوے کو ہرانے میں ناکام ثابت ہوتی ہے تو کسی بھی ورلڈ کپ میں اب تک پاکستان کرکٹ ٹیم کی یہ سب سے منفی کارکردگی ہوگی پاکستانی ٹیم کو اس میچ میں اہم تبدیلیاں کرنے کی ضرورت ہے جیسے کہ یونس خان کی بات جائے تو اس میچ میں ان کو ٹیم میں شامل نہیں کرنا چاہئیے کیونکہ دونوں میچوں میں انہوں نے عمدہ پرفارمنس کا مظاہرہ نہیں کیا ایسے ہی ناصر جمشید کی جگہ بھی نہیں بنتی بہرحال ٹیم کو وننگ کمبی نیشن بنانے کی ضرورت ہے ہر کھلاڑی کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہوگی سرفراز احمد کو وکٹ کیپنگ کروائی جائے اور عمر اکمل کو بطور بیٹسمین ٹیم میں شامل کیا جائے تاکہ دونوں اپنے اپنے شعبوں میں آزادنہ طور پر کھیل پیش کرسکیں آج کادن پاکستان کی کرکٹ کے لئے کیسا ثابت ہوتا ہے یہ تو آج کھیل کے بعد پتہ چل ہی جائے گا لیکن پوری قوم کی نظریں ا س وقت کرکٹ ٹیم کی جانب ہے اور سب کو امید ہے کہ پاکستانی ٹیم آج کامیابی حاصل کرکے اپنے اگلے میچوں میں بھی عمدہ پرفارمنس دے گی اور ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کرے گی یقینی طور پر پاکستان کرکٹ ٹیم کے تمام کھلاڑی بھی اس وقت ایک کامیابی کی تلاش میں ہے اور امید ہے کہ آج وہ کامیابی اس کو مل جائے گی جو ٹیم کی ورلڈ کپ میں رہنے کے لئے بہت ضروری ہے تمام کھلاڑی اگر آج اپنی اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں اور بہترین کھیل کا مظاہرہ کریں تو آج زمبابوے کو شکست دینا مشکل نہیں ہوگا اور امید ہے کہ آج پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ میں اپنی پہلی کامیائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ ورلڈ کپ میں اب تک کئی میچ کھیلے جاچکے ہیں جن میں شائقین کو بہت کانٹے دار مقابلے بھی دیکھتے کو ملے تو یک طرفہ مقابلے بھی ہوئے لیکن سب سے بڑھ کر اب تک کھیلے گئے میچوں میں ویسٹ انڈیز کی طرف سے کرس گیل نے جو کارنامہ سر انجام دیا ہے اس کو کرکٹ کی تاریخ میں یاد رکھا جائے گا انہوں نے زمبابوے کے خلاف میچ میں 215 رنز کی شاندار اننگز کھیلی اور اس طرح انہوں نے ورلڈ کپ میں پہلی ڈبل سنچری کرنے کا بھی اعزاز اپنے نام کیا اور سب سے بڑھ کر یہ بات کہ انہوں نے اس میچ میں ساتھی سمتھ کے ساتھ ریکارڈ پارنٹر شپ بھی قائم کی اس میچ میں زمبابوے کی ٹیم کو شکست تو ہوئی لیکن اس نے بھی خوب مقابلہ کیا اور عمدہ پرفارمنس کا مظاہرہ کیا یہ ریکارڈ ورلڈ کپ کرکٹ کی تاریخ میں یاد کھا جائے گا۔ ویسٹ انڈیز کے کرس گیل نے اب تک تین میچ کھیلے ہیں جن میں انہوں نے 225 رنز بنائے اور رنز کی اس دوڑ میں وہ سب سے آگے ہیں اگر بات کی جائے دوسری پوزیشن کی تو بھارت کے بیٹسمین شیکھر دھون نے اب تک دو میچ کھیلے ہیں اور انہو ں نے 210 رنز بنائے ہیں اسی طرح تیسرے نمبر پر ویسٹ انڈیز کے مارلون سیموئلز ہیں جنہوں نے اب تک تین میچوں میں 192 رنز بنائے ہیں انہوں نے سب سے بہترین اننگز 133 رنز ناٹ آؤٹ کی کھیلی ہے جبکہ اگر ٹاپ تھری باؤلرز کی بات کی جائے جنہوں نے اب تک بہترین باؤلنگ کی وجہ سے سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں تو اس میں پہلا نمبر نیوزی لینڈ کے فاسٹ باؤلر ٹم ساؤتھی کا ہے جنہوں نے تین میچوں میں 11 وکٹیں حاصل کی ہیں اور ان کی بہترین باؤلنگ 33 رنز دیکر سات وکٹیں حاصل کرنا ہے جبکہ انہوں نے چار میڈن اوور پھینکے ہیں اسی طرح دوسرے نمبر پر ویسٹ انڈیز کے جیروم ٹیلر ہیں جنہوں نے تین میچ کھیل کر اب تک 9 وکٹیں حاصل کی ہوئی ہیں جبکہ ایک میڈن اوور پھینکا ہے جبکہ ان کی اب ت کی بہترین باؤلنگ 15 رنز دیکر تین وکٹیں حاصل کرنا ہے تیسرے نمبر پر انگلینڈ کے اسٹیون فن ہیں جنہوں نے تین میچ ہی کھیلے ہیں اور انہوں نے ان میچوں میں 8 وکٹیں حاصل کی ہوئیں ہیں اسی طرح انہو ں نے تین میڈن اوور کروائے ہیں اور ان کی بہترین باؤلنگ 71 رنز کے عوض 5 وکٹیں حاصل کرنا ہے ورلڈ کپ میں کھلاڑیوں کی جانب سے عمدہ پرفارمنس کا سلسلہ تو جب تک ورلڈ کپ اختتام پزیر نہیں ہوتا جاری رہے گا ہر ریکارڈ بنتا ہی ٹوٹنے کے لئے ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کون سی ٹیم اس میگا ایونٹ میں ٹائٹل اپنے نام کرنے میں کامیاب ہوتی ہے ۔

مزید :

ایڈیشن 1 -