انٹرنیٹ پر نوعمر لڑکیوں کی مسلم مردوں سے ’زبردستی‘ شادیاں، ایسا انکشاف کہ مغربی ممالک میں ہنگامہ برپاہوگیا

انٹرنیٹ پر نوعمر لڑکیوں کی مسلم مردوں سے ’زبردستی‘ شادیاں، ایسا انکشاف کہ ...
انٹرنیٹ پر نوعمر لڑکیوں کی مسلم مردوں سے ’زبردستی‘ شادیاں، ایسا انکشاف کہ مغربی ممالک میں ہنگامہ برپاہوگیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) ترقی پذیر ممالک کے مسلمانوں کے لئے یہ ایک بنیادی مسئلہ ہے کہ ہم رہنا تو امریکہ برطانیہ و دیگر جدید یورپی ممالک میں چاہتے ہیں لیکن ساتھ ہی ہماری خواہش ہوتی ہے کہ ان معاشروں میں رہتے ہوئے ہمارے بچے اسلامی اقدار پر کماحقہ عمل پیرا ہوں اور مغربیت انہیں چھو کر بھی نہ گزرے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ میں بسنے والے مختلف ایشیائی ممالک کے مسلمان اپنی بیٹیوں کی کم عمری میں ہی اپنے آبائی ملک کے کسی نوجوان سے زبردستی شادی کروا دیتے ہیں تاکہ بیٹیاں شعور کی منزل کو پہنچ کر ایسی شادی سے انکار ہی نہ کر دیں۔ برطانیہ میں مقیم مسلمانوں میں یہ رجحان بہت زیادہ پایا جا رہا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دنوں ایک 11سالہ بنگلہ دیشی لڑکی کے والدین نے اس کی سکائپ پر ہی زبردستی بنگلہ دیش میں مقیم ایک 25سالہ نوجوان سے شادی کر دی۔ سکائپ پرہونے والی اس تقریب میں دلہن کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ یہ اس کی شادی ہو رہی ہے۔ والدین نے اپنی اس بیٹی کو سکول میں داخل بھی نہیں کروا رکھا تھا اور گھر پر ہی کچھ تعلیم دیتے رہے تھے تاکہ اسے مغربی معاشرے کے اثرات سے بچا سکیں۔ اتفاق سے لڑکی کے بڑے بھائی کو سکول کی طرف سے”زبردستی کی شادی“ کے متعلق ایک کتاب دی گئی جس میں بتایا گیا تھا کہ یہ قانوناً جرم ہے۔

مزید جانئے: ”وہ دودھ جو بچوں کو ہم جنس پرست بنا دیتا ہے“

ایک روز یہ کتاب اس لڑکی نے بھی پڑھ لی اور جبری شادیوں کے خلاف کام کرنے والی ایک فلاحی تنظیم ”فریڈم“ سے رابطہ کر لیا جس نے شادی معطل کروا دی۔ فلاحی تنظیم کا کہنا ہے کہ ”برطانیہ میں مسلمان اس طرح کم عمری میں لڑکیوں کی شادی کر دیتے ہیں اور پھر انہیں اپنے شوہر کا ویزہ حاصل کرنے کے لیے مجبور کرتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ اپنی بیٹیوں کو شادی کے بعد آبائی ملک میں اس کے شوہر کے پاس بھیج دیتے ہیں اور اسے اس وقت ہی واپس برطانیہ لایا جاتا ہے جب وہ ماں بننے والی ہوتی ہے۔ پھر اس کے شوہر کا ویزہ لگوا کر اسے بھی یہاں بلا لیا جاتا ہے۔“ فریڈم کی بانی خاتون انیتا پریم کا کہنا تھا کہ ”برطانیہ میں مسلم امام سکائپ کے ذریعے ان لڑکیوں کی شادیاں کرواتے ہیں۔ایسی شادیوں میں عموماً لڑکی کے والدین نے اس کے ہونے والے شوہرسے برطانیہ کا ویزہ دلوانے کا وعدہ کر رکھا ہوتا ہے۔اسی لیے جب شادی ہو جاتی ہے تو ماں باپ اپنی بیٹی پر شوہر کا ویزہ حاصل کرنے کے لیے دباﺅ ڈالتے ہیں۔ ایسے لوگ عموماً بیٹیوں کو سکول بھجوانے کی بجائے گھر میں ہی رکھتے ہیں اور گھریلو کام کاج ہی سکھاتے ہیں۔ “

مزید : ڈیلی بائیٹس