’ہماری لڑائی اپنی جگہ لیکن اس ایک چیز کو درمیان میں نہیں لاتے‘ سعودی عرب نے ایران کو پیغام دے دیا

’ہماری لڑائی اپنی جگہ لیکن اس ایک چیز کو درمیان میں نہیں لاتے‘ سعودی عرب نے ...
’ہماری لڑائی اپنی جگہ لیکن اس ایک چیز کو درمیان میں نہیں لاتے‘ سعودی عرب نے ایران کو پیغام دے دیا

  

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی حالیہ کچھ مہینوں کے دوران عروج پر پہنچ گئی، یہاں تککہ گزشتہ ماہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور تجارتی تعلقات بھی منقطع ہوگئے، لیکن آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ بد ترین حالات میں بھی سعودی شہری ایرانی پکوانوں کو لڑائی کا حصہ بنانے پر تیار نہیں ہیں، اور ان کی مانگ اور مقبولیت جوں کی توں برقرارہے۔ 

”گلف نیوز“ کے مطابق دارالحکومت میں واقع مشہور ایرانی ریستوران ”شاحیہ“ کی ہر شاخ پر سعودی شہری اپنے من پسند کھانوں کے حصول کے لئے جمع نظر آتے ہیں۔ اگرچہ اس ریستوران کی ہر شاخ کے باہر جلی حروف میں لکھا گیا ہے کہ یہ ایرانی پکوانوں کا گھر ہے اور سعودی عرب میں ان ریستوران کے بائیکاٹ کے لئے بھی مہم چلائی گئی ہے، لیکن سعودی شہری ایرانی کھانوں کے لطف سے محروم ہونے کو تیار نہیں ہیں۔

سعودی عرب میں اس ریسٹورنٹ نے 1990ء کی دہائی میں کام شروع کیا اور اب اس کی 13 شاخیں سعودی شہریوں کو کھانے کا لطف فراہم کررہی ہیں۔ ایرانی کھانوں کے شوقین سعودیوں کا کہنا ہے کہ سیاست ایک طرف لیکن ایرانی پکوانوں کے ذائقے کا کوئی ثانی نہیں، لہٰذا اس معاملے کو لڑائی سے علیحدٰہ ہی رکھنا چاہئیے۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئےیہاں کلک کریں۔ ‎

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات چاہے جتنے بھی خراب ہوں دونوں ممالک کے درمیان تہذیب و ثقافت کے اتنے گہرے رشتے ہیں کہ جن کا ٹوٹنا ممکن نہیں۔ رواں ہفتے ابوظہبی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سعودی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ پرنس ترکی الفیصل نے اسی پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی کشیدگی اس حقیقت کو نہیں بدل سکتی کہ عرب اور ایران ایک ہی خدا اور رسول ﷺ پر یقین رکھتے ہیں اور ایک ہی مقدس کتاب کے پیروکار ہیں۔

مزید : عرب دنیا