جرائم کے خاتمے کے لئے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی اہمیت

جرائم کے خاتمے کے لئے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی اہمیت
جرائم کے خاتمے کے لئے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی اہمیت

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

دور جدید میں جرائم کے خاتمے اور ملزم کو قرار واقعی سزا دینے کے لئے واقعاتی اور طبعی شہادت ناگزیراہمیت اختیار کر چکی ہے، کیونکہ شخصی شہادت مختلف قسم کے دباؤ،ترغیبات اور مسائل کا شکار ہو کر کیس کا رخ تبدیل کر سکتی ہے، لیکن سائنٹیفک طبعی شہادت کو نہ تبدیل کیا جا سکتاہے اور نہ ہی اس سے مفر ممکن ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کی طرح پاکستان میں بھی فرانزک لیب کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے 2007ء میں پنجاب اسمبلی نے پنجاب فرانزک لیب ایکٹ پاس کیا اور اکتوبر 2009ء میں پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی پراجیکٹ کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ فرانزک لیب ایجنسی پراجیکٹ جون 2013ء میں مکمل ہوا جہاں کرائم لیبارٹری سے متعلق تمام تر تفتیشی سہولتیں میسر ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف فرانزک لیب پر 2ارب 56کروڑ 64لاکھ 8ہزار روپے لاگت آئی، جس کے لئے تمام تر فنڈز حکومت پنجاب نے فراہم کئے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی فرانزک لیب کے قیام کے لئے پانچ یا سات سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے، جبکہ وزیراعلیٰ کی ذاتی دلچسپی سے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کا قیام محض تین سال میں مکمل ہو گیا۔ اس میں پنجاب امپلی مینٹیشن یونٹ،نیسپاک،فرانزک کنسلٹنٹ،لیب ایکیوپمنٹ وینڈرز اور دیگر کنٹریکٹرز کے تعاون کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی نہ صرف زیرتفتیش مقدمات کے لئے کام کر رہی ہے، بلکہ تجزیات کے نئے نئے طریق کار متعارف کرانے پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔ پی ایف ایس اے کے متعارف کردہ 20نئے تجزئیاتی طریق کار نہ صرف پنجاب ،بلکہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی مستعمل ہیں۔ پی ایف ایس اے کے محققین کے تحقیقاتی مقالے امریکن اکیڈمی آف فرانزک سائنسز،انٹرنیشنل ایسوسی ایشن فار ایڈنٹیفکیشن یو ایس اے،کانفرنس آن فرانزک سائنسز ترکی، عربک جرنل آف میڈیسن اینڈ فرانزک سائنس ،آسٹریلین جرنل آف فرانزک سائنس، انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف فرانزک ٹیکسیکالوجی،لاطینیا مریکن جرنل آف فارمیسی جیسے مستند جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی میں 12مختلف ڈیپارٹمنٹس واقعاتی اور طبعی شہادتوں کی تشخیص کے لئے کام کر رہے ہیں۔ ان میں آڈیوویژول انالیسس،کمپیوٹر فرانزک یونٹ،کرائم اینڈ ڈیتھ سین،ڈی این اے این سیرالوجی،فرانزک فوٹوگرافی،فائرآرمز اینڈ ٹول

مارکس،نارکوٹکس،فنگرپرنٹس،پتھالوجی،پولیگراف، کولیسچنڈ ڈاکومینٹس ،ٹیکسیکالوجی شامل ہیں۔ پی ایف ایس اے کے 8ڈویژن میں ریجنل دفاتر کام کر رہے ہیں۔ ان میں فیصل آباد، ساہیوال، سرگودھا، گوجرانوالہ،بہاولپور،ڈیرہ غازی خان،راولپنڈی اور ملتان آفس شامل ہیں، جبکہ انٹرنیٹ کے ذریعے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے لنک سے بھی رابطہ ممکن ہے۔

پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی اب تک فراہم کردہ 2لاکھ 3ہزار 154مقدمات میں سے 1لاکھ 86ہزار 939مقدمات کے بارے میں اپنی تجزیاتی رپورٹ فراہم کر چکی ہے۔ حکومت پنجاب تھانہ کلچر میں تبدیلی کے لئے فرانزک ایجنسی کا دائرہ کار ڈویژنل سطح سے سب ڈویژن اور تھانہ لیول تک بڑھائے گی۔ مستقبل میں پولیس سٹیشن کے افسران کے لئے مقدمات کی تفتیش کو مستند بنانے کے لئے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی سے مدد اور رہنمائی حاصل کرنا ضروری ہو گا۔ پی ایف ایس اے کے زیراہتمام قیدیوں کے فنگر پرنٹ حاصل کرنے کا پراجیکٹ بھی جرائم کے خاتمے میں معاونت کرے گا۔پی ایف ایس اے اپنے قیام سے تاحال قانون نافذ کرنے والے مختلف اداروں کے 8ہزار افسروں اور اہلکاروں کو فرانزک ٹریننگ بھی دے چکی ہے۔ سوات اور خیبر پختونخوا میں فرانزک لیب کے قیام کے لئے یو این ڈی پی کو فنی معاونت بھی پی ایف ایس اے نے فراہم کی اور سوات فرانزک سائنس لیبارٹری کے 18 اہلکاروں کو 6ماہ کا جامع تربیتی کورس بھی کرایا گیا۔ پی ایف ایس اے مختلف قرارداد مفاہمت کے تحت مقامی جامعات میں فرانزک ایجوکیشن کی تعلیم بھی فراہم کر رہی ہے۔

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور،یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں ماسٹرز،ایم فل اور پی ایچ ڈی طلبہ کو فرانزک سائنس پڑھائی جا رہی ہے۔ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی نے جدید اور اعلیٰ ترین آلات مہیا کئے گئے ہیں۔ جرائم اور جرائم پیشہ افراد کا ریکارڈ فراہم کرنے کے لئے ڈین این اے ڈیٹابیس ڈیڑھ کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کیا جا چکا ہے،جہاں موصول ہونے والے مقدمات کا ریکارڈ ڈی این اے ڈیٹابیس میں سٹور کیا جاتا ہے۔ وزیراعلیٰ گزشتہ مالی سال میں آتشیں اسلحے کے ڈیٹابیس پروگرام کے لئے 20 کروڑ روپے کی گرانٹ کی منظوری دے چکے ہیں، جبکہ فنگر پرنٹس ڈیٹابیس کو بھی مستقبل قریب میں ڈویلپ کیا جا رہا ہے۔ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی نہ صرف پنجاب، بلکہ دنیا بھر میں ہونے والے جرائم کے لئے اپنی خدمات فراہم کر رہی ہے۔ امریکی ریاست اوہائیو کلیولینڈ میں پولیس کی فائرنگ سے تین افراد کو گولی مارنے کے کیس میں پی ایف ایس اے کی واقعاتی شہادت کو امریکی اعلیٰ عدالت نے قبول کر کے کیس کو حل کیا۔ گجرات میں تین افراد کو قتل کر کے مشتبہ افراد کے متحدہ عرب امارات سے ناروے فرار ہونے والے کیس میں نارویجن پولیس کی رابطہ افسر مس ٹووی نے پی ایف ایس اے سے استدعا کر کے جائے وقوعہ پر دیوار میں موجود گولیاں نکال کر واقعاتی شہادت فراہم کرنے میں مدد کی۔ ان گولیوں کی مدد سے اوسلو میں مشتبہ افراد سے حاصل کردہ اسلحہ میں موجود گولیوں کو چیک کیا گیا ،جبکہ کرائم سین سے دریافت ہونے والے سگریٹ کے ٹکڑے سے بھی کیس کے سلسلے میں مدد حاصل ہوئی۔

برطانیہ کے شہریت یافتہ پاکستانی نژاد رانا طارق کی طرف سے لاہور میں اپنی ساس کو قتل کر کے برطانیہ واپس جانے کے کیس میں پی ایف ایس اے نے سکاٹ لینڈ پولیس کو واقعاتی شہادت کے حصول میں معاونت فراہم کی ،جس کے بعد ملزم کو عمر قید کی سزا دی گئی۔ مصر میں نوجوان لڑکی کے شوہر کی طرف سے بچے کے بارے میں ولدیت سے انکار کے کیس میں پی ایف ایس اے نے ڈی این اے ٹیسٹ سے ولدیت کا معاملہ حل کرنے میں معاونت کی۔۔۔ گزشتہ دنوں موٹروے پر پشاور سے اسلام آباد آنے والے دو دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا جو سی این جی سلنڈر کے اندر خطرناک اسلحہ،خودکش جیکٹ ،جدید بصری آلات اور موبائل وغیرہ چھپا کر لا رہے تھے۔ پی ایف ایس اے کی فرانزک لیب نے دہشت گردوں سے حاصل کردہ موبائل فون کا فرانزک ٹیسٹ کر کے رپورٹ پیش کی جس سے معلوم ہوا کہ ان میں سے ایک موبائل بھارتی ساختہ ہے۔ موبائل کے اندر ڈیٹا سے ملزموں کی راکٹ لانچر اسلحہ چلاتے ہوئے تصاویر بھی حاصل کی گئیں۔ موبائل کمپیوٹر فرانزک کے ذریعے ایس ایم ایس تصاویر ،آڈیوویڈیو فائلز کو حاصل کر کے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کے بارے میں اہم معلومات حاصل کی گئیں۔

مزید : کالم