اُف یہ ٹی وی

اُف یہ ٹی وی
 اُف یہ ٹی وی

  

منظر کراچی میں بوٹ بیسن پولیس تھانے کا ہے۔ ایک ٹی وی اینکر، ایک خاتون ماہر نفسیات، دو علماء حضرات، ایک پولیس افسر بیٹھے ہیں۔ پولیس افسر کے برابر میں ایک شخص بیٹھا ہے، جس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگی ہوئی ہیں۔ کیمرہ عکس بندی کررہا ہے۔ ٹی وی اینکر اس شخص سے سوال کرتا ہے کہ آخر کس وجہ سے آپ نے اپنی والدہ کو قتل کیا؟ ملزم کا جواب تھا کہ ابھی تحقیقات جاری ہیں۔ دوبارہ سوال کیا جاتا ہے کہ کوئی تو وجہ ہوگی جو قتل کا سبب بنی اور تم نے ماں جیسی ہستی کو قتل کر دیا۔ ملزم کا دوبارہ جواب تھا کہ تحقیقات جاری ہیں۔ تفصیلات بتانے سے گریز پر ٹی وی اینکر برہم ہوگئے۔ اس شخص کو کہنے لگے تو جھوٹا ہے، مکار ہے، تو نے ماں جیسی ہستی کو قتل کر دیا۔ اب بتانا بھی نہیں چاہتا کہ کن اسباب کی بناپر تو نے اپنی ماں کو قتل کیا۔ ٹی وی اینکر کی برہمی دیدنی تھی۔ اس کے منہ سے جھاگ گرنے کی کسر باقی رہ گئی تھی۔ اسے اس وجہ سے برہمی کے دورے پڑ رہے تھے کہ وہ ملزم تفصیلات سے آگاہ کرنے یا قتل کے محرکات میں حصہ دار بنانے پر تیار نہیں تھا۔ ملزم کے برابر میں پولیس افسر بیٹھا ہوا تھا جو اس مقدمے کی تفتیش کر رہا ہے۔ یہ منظر ایک ٹی وی چینل سے پیش کئے جارہے تھے۔ غرض ایک گھنٹے کے پروگرام میں مختلف طریقوں ( میں اسے ہتھکنڈے کہوں گا) سے ، ملزم سے اپنی مر ضی کا جواب حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی رہی۔ کبھی عالم حضرات مصر ہوتے کہ ملزم ٹی وی اینکر کو اپنی اس وقت کی ذہنی کیفیت سے آگاہ کرے،کبھی کہا جاتا کہ تم پر شیطانی غلبہ کیوں آیا ؟۔۔۔ غرض یہ علماء بھی اپنی کوششوں میں ناکام رہے۔

ٹی وی اسکرین پر یہ مناظر دیکھ کر کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ کیا کسی مقدمے میں نامزد کسی ملزم سے ٹی وی شو کے لئے اس طرح کے سوالات کئے جانے چاہئیں ؟ کیا قانونی عدالت سے ہٹ کر بھی کوئی عدالت لگائی جاسکتی ہے ؟ ۔۔۔ ( دنیا بھر میں عدالتیں زیر سماعت مقدمے کی کارروائی کی عکس بندی کی اجازت نہیں دیتیں ) یہ کیوں ضروری ہے کہ ابھی جو مقدمہ عدالت میں پیش نہیں ہوا ، اس کے محرکات کے بارے میں وہ شخص تفصیلات سے کسی کو آگاہ کرے، جسے پولیس نے ملزم کی حیثیت سے حراست میں لیا ہوا ہے ؟ کیا پولیس اس بات کی مجاز ہے کہ وہ ٹی وی کی ٹیم کو کسی ملزم سے تھانے کے اندر بٹھاکر اس طرح گفتگو کرنے کی اجازت دے ؟ کیا اس ملزم کو اس بات کا حق نہیں ہے کہ وہ اپنا دفاع کر سکے ؟ ابھی تو اس پر الزام ہے جس کی تفتیش کی جا رہی ہے۔۔۔ اگر اس نے جرم کیا بھی ہے تو پاکستان میں موجود فوجداری قوانین کے تحت اسے اپنا دفاع کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ وہ اپنے دفاع میں کیا کہے گا، پولیس کو اپنے بیان میں کیا اسباب بتائے گا، ٹی وی والوں نے یہ ضروری کیوں جانا کہ وہ شخص (اگر اس سے جرم سر زد ہوا بھی ہے) انہیں مکمل تفصیلات بتائے، تصویر کشی کرے، کیا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ شخص ٹی وی پر، پولیس کے تفتیشی افسر کی موجودگی میں ، اپنے جرم کا اعتراف کرے تاکہ اس کے دفاع کا راستہ مسدود ہو جائے۔ چینل بھی مختلف کھیل کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ کوئی چھوٹا کھیل ، کوئی بڑا کھیل۔ مولانا فضل الرحمان نے ہفتہ کے روز حیدرآباد میں کہا کہ ملک میں مختلف حربوں سے ذہنی خلفشار پیدا کیا جارہا ہے اور ذرائع ابلاغ بھی استعمال ہو رہے ہیں۔ وہ تو کسی اور معاملے پر رائے دے رہے تھے، لیکن ان کی بات میں وزن ہے۔

کراچی میں قتل کی ایک واردات ہوئی،جس میں پولیس نے بیٹے کو ماں کے قتل کے الزام میں حراست میں لے لیا۔ تعلیم یافتہ بیٹا عدالت کو کیا بتائے گا، یہ تو مقدمہ جب عدالت میں پیش ہو۔۔۔ لیکن ٹی وی اینکر کی لگائی گئی عدالت میں جب اس نے تفصیلات بتانے سے انکار کیا تو اسے یہ سننا پڑا کہ تو جھوٹا ہے، تو مکار ہے اور بھی بہت کچھ کہا گیا۔ کیا کسی بھی شخص کو اس طرح مطعون کرنا جائز ہے ؟ لعن طعن کے جو حربے اختیار کئے گئے، وہ قابل افسوس تھے ۔ ٹی وی اینکر جتنا سخت سست اسے کہہ سکتے تھے انہوں نے کہا۔ ٹی وی اینکر یہ بھی کہہ رہے تھے کہ تم مجھے جانتے ہو، تم نے مجھے دیکھا تو ہوگا، میں تم سے پوچھ رہا ہوں کہ تم نے اپنی ماں کو کس وجہ سے قتل کیا؟ پولیس افسران نے ٹی وی ٹیم کو اس ملزم تک رسائی کی اجازت ہی کیوں دی ؟ پولیس افسران کے ذہن میں یہ سوال کیوں نہیں ابھرا کہ دوران ملاقات ، عین ممکن تھا کہ اس ملزم کو ہی قتل کردیا جاتا۔ عام طور پر اقدام قتل کے ملزمان کی ملاقاتیں نہیں کرائی جاتیں۔ صرف اپنے مقرر کردہ وکیل سے ملاقات کرائی جاتی ہے، وہ بھی اس صورت میں کہ ملزم لاک اپ کے اندر ہوتا ہے۔ لاک اپ سے باہر پولیس افسر کے دفتر میں ملزم کو ہتھکڑی لگا کر ایسے لوگوں کے سامنے پیش نہیں کیا جاتا جو ملزم کے شناسا نہیں ہوتے۔ بہت خوب۔ ٹی وی کیمرا کیا ہوا، ایک ایسا ہتھیار ہوا کہ جسے اٹھا کر آپ جب چاہیں، کسی کی ذا تی زندگی میں مداخلت کر لیں یا گھر میں داخل ہو جائیں۔

بدھ کے روز ہی پنجاب اسمبلی نے ٹی وی چینلوں پر جرائم کی ڈرامائی تشکیل کے خلاف ایک قرار داد منظور کی ہے اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ جرائم کے واقعات کی ڈرامائی تشکیل پر پابند ی لگائی جائے۔ تمام ٹی وی چینل ایک طرف تو جرائم کے واقعات کی بھرپور تصویر کشی کرتے ہیں، ایسے پروگرام نشر کئے جاتے ہیں جن میں ٹی وی والے لوگوں کے گھروں میں بھی داخل ہوجاتے ہیں۔ اہل خانہ سے قابل اعتراض سوالات بھی کئے جاتے ہیں، لوگوں پر جرم میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کئے جاتے ہیں۔ تھانوں میں داخل ہو کر اہل کاروں کے منہ میں مائیک گھسانے کی کوشش کی جاتی ہے، اگر وہ ان کی مرضی کے جواب نہ دیں یا اپنی جان بچانے کی کوشش کریں تو ان پر گرجا جاتا ہے۔ اس سے بڑھ کر جرم کے مختلف واقعات کی ڈرامائی تشکیل کی جاتی ہے۔ اسی سلسلے میں حکمران جماعت مسلم لیگ(ن) کی پنجاب اسمبلی کی ایک خاتون رکن عظمیٰ بخاری نے ڈرامائی تشکیل پر پابندی کے لئے قرار داد پیش کی۔ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن نے ٹی وی چینلوں پر جرائم اور مقدمات کو ڈرامائی تشکیل دے کر دکھانے کے خلاف بھر پور اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے قرارداد کی حمایت کی اور اسے نہ صرف منظور کر لیا، بلکہ وفاقی حکومت سے سفارش کی کہ تمام ٹی وی چینلوں پر جرائم اور مقدمات کی ڈرامائی تشکیل پر پابندی عائد کی جائے۔

اراکین پنجاب اسمبلی سے سب ہی اتفاق کریں گے کہ ڈرامائی تشکیل والے ایسے پروگرام معاشرے میں غلط رجحان کو جنم دے رہے ہیں۔ڈرامائی تشکیل میں سر زد ہونے والے جرم کو ڈرامائی رنگ اس طرح دیا جاتا ہے جیسے اصل جرم کی حقیقی عکس بندی کی گئی ہو۔ اس طرح کے رجحان سے اول تو یہ کہ جرم کرنے کے طریقے اور انداز سے لوگوں کو آگاہ کرنا ہے، دوم گھروں میں ٹی وی بچے اور نوجوان بھی دیکھتے ہیں اور اندیشہ یہ ہوتا ہے کہ انہیں ترغیب ملے گی کہ جرم کس طرح کیا جاتا ہے؟ کیا یہ ضروری ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں شرح خواندگی بہت ہی کم ہو، ٹی وی پر وہ کچھ دکھایا جائے یا پیش کیا جائے جسے ٹی وی کے ناظرین ہضم نہ کر سکیں۔اس ملک میں تو عوام کی بھاری تعداد آج بھی اخبار میں چھپے ہوئے الفاظ کو اہمیت دیتی ہے اور ٹی وی سے نشر ہونے والے الفاظ پر یقین رکھتی ہے۔ پیمرا تو مانیٹرنگ پر توجہ دے رہا ہے اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر چینلوں کے خلاف کارروائیاں بھی کی جارہی ہیں ، لیکن چینلوں میں ذمہ داریاں نبھانے والے حضرات کو خود بھی ضابطہ اخلاق کا بار بار مطالعہ کرنا چاہئے ، کیونکہ مسئلہ کردار سازی کا ہے، کردار کشی کا نہیں ۔

مزید : کالم