قائداعظمؒ کا تعلیمی ویژن بھی اپنائیے

قائداعظمؒ کا تعلیمی ویژن بھی اپنائیے
 قائداعظمؒ کا تعلیمی ویژن بھی اپنائیے

  

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے نوے کی دہائی میں موٹر وے بنا کر پاکستان کو بدلنے کی بنیاد رکھ دی تھی، مگر قسمت نے ان کا ساتھ نہ دیا۔2013ء میں دوبارہ قسمت ابنہیں وزیراعظم کے منصب پر لے آئی ہے تو انہوں نے اپنے ادھورے خواب کی تکمیل کے لئے پھر سے نئے جذبے اورصدق دِل سے پاکستان کی ترقی کے لئے جدوجہد شروع کردی ہے۔تین فروری کو ہوشاب بلوچستان میں انہوں نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ہمراہ ہوشاب،تربت ،گوادر شاہراہ کا افتتاح کیا جس پر ساڑھے 13 ارب روپے لاگت آئی ہے۔ اپنی تقریر میں انہوں نے قوم کو یہ نو ید بھی سنائی کہ شاہراؤں کے یہ منصوبے پاکستان کے لئے وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان تجارتی گزرگاہ بنیں گے۔ ازبکستان، تاجکستان اور کرغزستان گوادر پورٹ استعمال کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔وزیراعظم نے یہ بھی بتایا کہ پشاور سے جلال آباد تک شاہراہ کی تعمیر کا کام بھی بڑی تیزی سے جاری ہے۔اس کے علاوہ انہوں نے لاہور کراچی موٹر وے اور دوسرے کئی بڑے تعمیراتی منصوبوں کا ذکر بھی کیا اور مُلک کو ترقی دینے کے عزم کا بھی بڑے اعتماد سے اظہارکیا۔

وزیراعظم کی طرح ان کے بھائی خادم پنجاب بھی شاہراؤں کی تعمیر میں خاصی شہرت کے حامل ہیں۔ لاہور اور راولپنڈی اسلام آبامیں میٹرو کی تعمیر، ملتان میں تیزی سے میٹرو منصوبے پر کام جاری ہے، اس کے علاوہ لاہور ہی میں اورنج ٹرین کے بہت بڑے منصوبے پر بھی بڑی تیزی سے کام جاری ہے۔ہم بھی ذاتی طور پر میاں محمد نواز شریف اور میاں شہباز شریف کے ان کارناموں پر ان کو خراج تحسین پیش کر تے ہیں اور ساتھ ان سے یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ وہ جس دلچسپی سے شاہراؤں کی تعمیر پر دن رات کام کررہے ہیں اور بڑے بڑے میگا پراجیکٹس کی تکمیل کر رہے ہیں وہیں وہ قائداعظمؒ کے ویژن کو بھی شامل کر لیں۔قائداعظم تعلیم کی اہمیت پر بہت زور دیتے تھے۔ وہ جس بھی بڑے شہر میں خطاب کے لئے جاتے تھے وہاں کی درس گاہ میں طلباء سے مخاطب ہونے کو ترجیح دیتے تھے تاکہ طلباء میں اپنے لیڈر کو دیکھ کر آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہو۔ وہ انہیں ہمیشہ زندگی میں ترقی کے لئے اعلیٰ تعلیم کے حصول پر زور دیتے۔میری خواہش یہ ہے کہ شاہراؤں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ اگر تعلیم کو بھی ویسی ہی اہمیت دے دی جائے تو ترقی کا سفر حقیقی معنوں میں شروع ہو سکتا ہے۔

میاں محمد نواز شریف نے کبھی کو ئی سٹڈی یا سروے کرایا ہے کہ موٹر وے بننے سے اس کے ارد گر د بسنے والوں کی زندگیوں پر کیا فرق پڑا ہے۔ وہاں ایجوکیشن اور ہیلتھ کی صورت حال سے عام شہری کو کیا فوائد پہنچے ہیں؟میٹرو بننے سے لاہور کی کروڑ سے اوپر آبادی کی زندگی میں کیا تبدیلی رونما ہوئی ہے؟مُلک کی ترقی میں میٹرو کا کیا کردار ثابت ہوا ہے یا مستقبل میں ہو سکتا ہے؟لا ہور میں میٹرو کے اِرد گر دمحلوں اور لاہور کے مضا فات میں پسماندہ آبادیوں میں ایجوکیشن ریٹ بڑھانے میں کیا مدد ملی ہے یا ہیلتھ کی صورت حال کتنی بہتر ہوئی ہے؟لوگوں کی معاشی حالت میں کیا انقلاب برپا ہوا ہے؟اسی طرح راولپنڈی،ملتان کی میٹرو سے سوائے سستی سواری کے اور ترقی کا کون سا زینہ طے کیا گیا ہے؟ حکومت کو یونیورسٹیوں کے متعلقہ شعبوں سے رپورٹس تیار کروانی چاہئیں کہ میٹرو سے اس خطے کو سستی، سواری کے علاوہ اورکیا فوائد ہوئے ہیں ؟اس علاقے میں کیا اس سے اہم ضروریات کونادانستہ نظر انداز کرکے مستقبل کا نقصان تو نہیں کیا گیا؟ جیسے ناخواندگی بہت بڑا مسئلہ ہے اس کے ساتھ ساتھ گندے پانی سے صحت کی بگڑتی صورت حال یا پھر اتنی رقم کو اگر اس علاقے کے لوگوں کو چھوٹی گھریلو صنعتیں لگانے کے لئے بہت کم مارک ا پ پر قرض دیا جاتا تو اس سے کئی گنا زیادہ فوائد حاصل ہو سکتے تھے۔

ہمارے ہاں یونیورسٹیوں میں شعبہ اکنامکس اور شعبہ عمرانیات کے ڈیپارٹمنٹ کی ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ مُلک کے اتنے میگا پراجیکٹس کی سٹڈی کرکے حکومت اور عوام تک صحیح اعدادو شمار پہنچاتے، مگر ہمارے ہاں یہ شعبے تحقیق کے لحاظ سے کافی بانجھ واقع ہوئے ہیں۔حکومت کو ان بڑے منصوبوں کی سٹڈی کرانی چاہئے اور اپنی ترجیحات میں شاہراؤں کی تعمیر جیسے عظیم منصوبوں کے ساتھ تعلیم کو بھی خصوصی اہمیت دینی چاہئے۔یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق ہمارے ہاں ہر سال سترلاکھ بچے سکول نہیں جاتے۔40فیصد آبادی ان پڑھ ہے۔ہمارے ہاں کوئی یونیورسٹی دنیا کی سو بہترین یونیورسٹیوں میں نہیں آتی۔

شاہراؤں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ تعلیم کو فروغ دینے اور اعلیٰ تعلیم کی اہمیت پر جب تک توجہ نہیں دی جائے گی، ترقی کا سفر ادھور رہ جائے گا اور ان شاہراؤں پر ہر سال سکول نہ جانے والے ستر لاکھ پاکستانی مستقبل میں یا ڈرائیور بن کر آئیں گے یا پھر ڈاکوہم میاں صاحبان سے کچھ نہیں مانگتے ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ دشمن کے بچوں کو پڑھانے کا جو عزم آپ نے کیا ہے وہی عزم اپنے ان ناخواندہ بچوں کو پڑھانے کا بھی کر لیں ،کیونکہ ترقی کا سفر شروع کرنے کے لئے تعلیم کی شاہراہ کو نظر انداز نہیں کیاجانا چاہئے۔

مزید : کالم