زن مرید!

زن مرید!
 زن مرید!

  

مولانا فضل الرحمان نے تحفظ حقوق نسواں بل منظور کرنے پر ارکان پنجاب اسمبلی کو ’’زن مرید‘‘کہہ دیا ہے۔ ان کے اس بیان پر ہمیں بھی ان کی طرح مشہور زمانہ شدید’’تحفظات‘‘ ہیں۔ ان کے اس بیان پر ہمارا استحقاق مجروع ہو کر پھڑپھڑا رہا ہے؟ گو ہمیں استحقاق کے صحیح معانی کا علم نہیں، لیکن چونکہ یہ لفظ ہر وقت اسمبلی کے کسی نہ کسی رکن کے زیر استعمال رہتا ہے ،اس لئے آج ہمیں بھی یہ لفظ استعمال کرنے کا قدرت نے موقع عطا کردیا ہے۔ آپ کو ہمارے بیان سے غلط فہمی ہو رہی ہے کہ ہم کوئی رکن اسمبلی ہیں۔ ایسی بات نہیں، لیکن جن کو ہم نے ووٹ دیا تھا،وہ توان ارکان میں شامل ہیں ،جن کو ’’زن مرید‘‘ کہا گیا ہے ۔ اگر ہمارے لیڈر کو کوئی ’’زن مرید‘‘ کہے گا تو ووٹ دینے والے ،یعنی مابدولت بھی تو اسی زمرے میں آئیں گے۔ ہماری وہاب الخیری کے کسی شاگرد سے درخواست ہے کہ وہ ہماری طرف سے مولانا کے خلاف موٹا،تگڑا اور پکا سا ہرجانے کا کوئی مقدمہ دائر کریں ۔ جو ہرجانہ ملے گا ،وہ ففٹی ففٹی کرلیں گے۔

تمہیدی الفاظ کے بعد اصل بات کی طرف آتے ہیں کہ مولانافضل الرحمان اور دیگر علماء حضرات نے آسمان سر پر اٹھا لیا ہے تو اتنی گھبرانے کی بات نہیں ،دوسری طرف محترمہ عظمیٰ بخاری اور ہمنوا خواتین بھی اتنی خوش نہ ہوں کہ سرے سے ہی یہ قانون ناقابل عمل ہے۔یہ بس زبانی جمع تفریق ہے ۔خواتین پر تشددکرنے والا اکثریتی طبقہ دیہاتوں ، غریب اور ان پڑھ گھرانوں سے تعلق رکھتا ہے ،جہاں عورت کلی طور پر شوہر کے زیر دست ہوتی ہے۔ اس کو اپنے حقوق کا شعور بھی نہیں ہوتا۔ اب اگر اس پر ہاتھ اٹھانے والے کو آپ کوئی کڑا ٹائپ چیز پہنا کر تمسخر کا نشانہ بنائیں اور دو دن گھر سے باہر رہنے کی سزا دیں تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ وہ واپس آکر بیوی کے پاؤں چھو لے گا؟ جس قسم کی اس کی ’’سائیکی ‘‘ہے وہ تو آتے ہی پھر اس بے چاری کو الٹے ہاتھ کا ایک ’’لپڑ‘‘ جڑ دے گا۔ اس کی شکایت کون کرے گا، کیا بیوی اس کی اطلاع کرے گی اور کیسے کرے گی؟ کیا اسے اس گھر میں پھر نہیں رہنا؟ کیا اس کے بعدمیاں بیوی پیار محبت سے باقی عمر ہنسی خوشی رہیں گے ۔ کیا اس کو طلاق سے تحفظ مل جائے گااور سب سے بڑی بات اس پر ہاتھ اٹھانے والے کے ’’سہولت کاروں‘‘ یعنی اس کی ساس اور نندوں کو بھی سزا ملے گی اور اگر سزا ملی تو کیا جوابی سزا کے طور پر اس کو گھر نکالانہیں مل جائے گا !

بات یہ ہے کہ اس قسم کی صورت حال کے ہم بحیثیت معاشرہ سبھی مجرم ہیں۔جب کوئی اس قسم کا نفسیاتی مریض گلی محلے میں آکر بڑھک۔۔۔ ہانکتا ہے کہ ’’اج میں اپنی بڈھی نوں تن کے رکھ دتا اے‘‘ ۔۔۔(ایسے لوگ اپنی جوان بیوی کو بھی بڈھی کہتے ہیں )۔۔۔ تو لوگ دلچسپی سے اس کی تفصیل پوچھنا شروع کردیتے ہیں۔ یہ کوئی نہیں کہتا کہ عورت کو مارنا کون سی مردانگی ہے ۔ اگر اتنے ہی بہادر ہو تو کسی پہلوان پر ہاتھ اٹھا کر دکھاؤ ۔ ضرورت تعلیم اورشعور بیدارکرنے کی ہے ۔ قصوروار مولانافضل الرحمان بھی ہیں، جن کو پاک چین راہداری پر تو تحفظات رہتے ہیں، مگر انہوں نے کبھی کسی جلسے میں اپنے کارکنوں کو جناب نبی کریمﷺ کی یہ حدیث نہیں بتائی کہ ’’تم میں سے اچھے وہ ہیں جو اپنی عورتوں سے اچھے ہیں‘‘ ۔۔۔قانون بنانا ہے تو اس قسم کا بنائیے کہ تیزاب پھینکنے والے کے چہرے پر بھی اسی طرح فوری تیزاب پھینکنے کی سز ادی جائے۔ صرف دو مجرموں کو سرعام ایسی سزا مل گئی تو تیسرے کی ہمت ہی نہیں رہے گی ۔

مولانافضل الرحمان نے ’’انجمن تحفظ حقوق شوہراں‘‘ بنانے کا بھی اعلان کیا ہے۔ ہم ان کی حمایت کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہمارے بھی ’’تحفظات‘‘ ہیں۔ رات کو آپ کوئی بھی ڈرامہ دیکھ لیں، بیوی بیچاری بڑی مظلوم بنی دکھائی دے گی اور شوہر اس پر ایسے ایسے ظلم کرے گاکہ عملاً یہ ناممکن ہے۔ ڈرامہ ختم ہوتو غور سے دیکھئے تو پتہ چلتا ہے کہ لکھنے والی بھی کوئی محترمہ ہی ہوتی ہیں۔ ہم نے اس موضوع پر تقریباً ایک سال پہلے ایک کالم ’’انجمن تحفظ حقوق مرداں‘‘ کے نام سے لکھا تھا۔ افسوس ہے کہ کسی نے بھی ہماری انجمن کی رکنیت قبول نہیں کی اور ہم اکلوتے ہی مرکزی صدر اور جنرل سیکرٹری ہیں۔ بیگم کو ہم نے ایک عہدے کی پیشکش کی تھی، مگر جواب میں ایک بڑی سی ’’گھوری‘‘ کے بعد ازخود یہ پیشکش واپس ہوگئی تھی ، ویسے بھی اس سلسلے میں ’’تکنیکی پرابلم‘‘ تھی ۔ ہم جناب مولانافضل الرحمان کو پیشکش کرتے ہیں کہ بجائے نئی انجمن بنانے کے یہ بنی بنائی انجمن لے لیں۔ ہم ہرجانے کا مقدمہ بھی نہیں کریں گے ۔ وہ خود صدر بن جائیں اور اپنے بھائی کو جنرل سیکرٹری بنا دیں۔ ہم خزانچی بن جائیں گے، کیونکہ امید ہے کہ مولانا کی کرشماتی شخصیت کی وجہ سے اندرونی اور بیرونی ذرائع سے کافی چندہ اکٹھا ہو جائے گا۔۔۔البتہ ہم فضل الرحمان کو حساب نہیں دیں گے ،کیونکہ اس سے ہمارا استحقاق مجروح ہوجائے گا۔ حساب ہم ایک ہی بار دیں گے، وہ بھی ’’نیب‘‘ کو ،بلکہ حساب کیا دینا ہے، سیدھے ’’پلی بارگینگ‘‘ ہی کریں گے ۔امید ہے کہ یہاں بھی ’’ففٹی ففٹی‘‘ ۔۔۔فارمولا کام کر جائے گا۔

حرف آخر یہ کہ بل تحفظ حقوق نسواں کی ہم ڈنکے کی چوٹ پر حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔ اس کی کوئی دینی ، اخلاقی یا معاشرتی وجہ نہیں ،بلکہ اس کی وجہ سے ہماراذاتی مستقبل روشن ہونے کا امکان پیدا ہوگیا ہے ۔ ہمارے پاس دو کمرے فالتو پڑے ہیں ۔ ہم نے ان کو نئے رنگ و روغن، پردوں ، قالین اور سنگل بیڈ سے آراستہ کرکے تیارکردیا ہے ،تاکہ جن شوہروں کو دو دن کے لئے گھر سے نکال باہر کیا جائے ، ان کو یہ کمرے کرائے پر دیئے جا سکیں۔ اگر آپ بھی ’’ہتھ چھٹ‘‘ ہیں تو رش سے بچنے کے لئے ابھی ایڈوانس بکنگ کرالیں۔۔۔ ایک ضروری بات یاد رکھنے کی یہ ہے کہ بیوی پر ہاتھ اٹھانے سے پہلے ایک معقول رقم جیب میں رکھنا نہ بھولیں، کیونکہ ہم ادھار نہیں کریں گے ،بلکہ کرایہ پیشگی وصول کیا جائے گا۔ ’’یہ پیشکش لامحدود مدت کے لئے ہے‘‘ ۔۔۔فقط آپ کا مخلص اور منتظر۔

مزید : کالم