پاکستان اسٹیل، پی آئی اے اور طوارقی اسٹیل۔۔۔ حقائق کیا ہیں؟ ایک تفصیلی جائزہ(2)

پاکستان اسٹیل، پی آئی اے اور طوارقی اسٹیل۔۔۔ حقائق کیا ہیں؟ ایک تفصیلی ...
پاکستان اسٹیل، پی آئی اے اور طوارقی اسٹیل۔۔۔ حقائق کیا ہیں؟ ایک تفصیلی جائزہ(2)

  

پی آئی اے کی طرح بحران کی زد میں صرف پاکستان اسٹیل ہی نہیں ،بلکہ دنیا کی تمام اسٹیل ملیں آئیں،جن میں سے بہت سی تو بند ہی ہو گئیں باقی کو بروقت امداد کے ذریعے دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کر دیا گیا۔ پیپلزپارٹی کی نسبت موجودہ حکومت نے پاکستان اسٹیل کے کارخانوں کو متحرک کرنے میں زیادہ دلچسپی دکھائی، کیونکہ اس کا مقصد قومی ادارے کو نجی شعبے کے لئے پُرکشش بنانا تھا۔ حکومت نے پاکستان اسٹیل کے لئے 18ارب روپے کی رقم منظور کی، جس کا فائدہ یہ ہوا کہ اس کی استعداد جو صرف ایک فیصد رہ گئی تھی مارچ 2015ء میں بیالیس فیصد تک پہنچ گئی، لیکن غیر متوقع مشکلات کے باعث جس میں قومی سطح پر بجلی کا بریک ڈاؤن اور سوئی گیس کے پریشر میں کمی جیسے مسائل شامل تھے۔ اپریل میں پیداوار کو 32فیصد تک اور مئی میں 28فیصد تک ہی لے جایا جا سکا۔ جون میں سوئی سدرن نے واجبات کی عدم ادائیگی کے سبب سوئی گیس کی فراہمی برائے نام کر دی،جس سے پیداوار واپس ایک فیصد پر آ گئی۔ پاکستان اسٹیل نے سوئی سدرن کے اس اقدام کو امتیازی سلوک قرار دیتے ہوئے احتجاج کیا اور اپنے اعلامیے میں اس طرف توجہ دلائی کہ کراچی الیکٹرک کو جو کہ نجی شعبے میں ہے63 ارب روپے کے واجبات کے باوجود گیس کی سپلائی جاری ہے، جبکہ ایک قومی ادارے کو جو اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے، اس سے کہیں کم واجبات کے باوجود گیس کی فراہمی روک دی گئی ہے، اس احتجاج کے باوجود پاکستان اسٹیل کی کوئی شنوائی نہ ہوئی اور جون 2015ء سے اب تک پاکستان اسٹیل کی دیوہیکل مشینیں صرف سانس لینے کی حد تک زندہ ہیں۔

پی آئی اے اور پاکستان اسٹیل میں ایک قدر مشترک یہ بھی ہے کہ خرابی کی اصل وجہ سے توجہ ہٹانے کے لئے بے بنیاد وجوہات کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا رہا ہے، جن میں سے سب سے زیادہ مقبول عام وجہ سفارشی بھرتیاں اور ملازمین کی ضرورت سے زیادہ تعداد سمجھی جاتی رہی ہے۔ اس پروپیگنڈہ مہم کا بھانڈا پی آئی اے کے ملازمین کی ہڑتال کے دوران نج کاری کی حمایت اور مخالفت میں قومی سطح پر ہونے والی ایک بحث کے دوران پھوٹا۔اس حوالے سے ایک جید صحافی نے نہ صرف ایک معتبر انگریزی معاصر میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں بلکہ ٹی وی چینل پر مذاکرے کے دوران بھی بتایا کہ پی آئی اے میں آمدن اور ملازمین کا تناسب گزشتہ 13سال سے 11سے 13فیصد چلا آ رہا ہے، جبکہ یورپ کی ایئر لائنز میں یہ تناسب 20فیصد سے زائد ہے۔ انہوں نے فی جہاز ملازمین کے تناسب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تناسب میں اضافہ ملازمین کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث نہیں، بلکہ خراب حالات میں جہازوں کی تعداد کم کئے جانے کے باعث ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے اور دیگر قومی اداروں میں ملازمین کی تعداد کا نقصان سے یا تو کوئی تعلق نہیں یا برائے نام ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملازمین یا یونینوں وغیرہ کے حوالے سے دیگر مسائل تو ہو سکتے ہیں، لیکن انہیں نقصان کی وجہ قرار دینا قطعاً بے جا ہے۔ پاکستان اسٹیل میں بھی ملازمین کی تعداد کو نقصان کی وجہ قرار دینے کا ناٹک 1998ء میں نوازشریف کی حکومت کے دوران خاص طور پر رچایا گیا تھا جب پاکستان اسٹیل کو نجی شعبے میں دینے کے لئے ملازمین کی وسیع پیمانے پر چھانٹی کا منصوبہ تیار کیا گیا۔

اس زمانے میں نوازشریف کی حکومت کا تختہ تو اُلٹ گیا، لیکن پاکستان اسٹیل میں چھانٹی کے منصوبے پر کوئی آنچ نہ آئی، کیونکہ میاں صاحب نے جس محترم شخص کو یہ ذمہ داری سونپی تھی وہ مرحوم اتفاق سے پرویز مشرف کے بیچ میٹ (Batch Mate) تھے اور پرویز مشرف کی سفارش پر ہی میاں صاحب نے انہیں پاکستان اسٹیل میں ایم ڈی بنا کر بھیجا تھا، جس زمانے میں چھانٹی کے منصوبے پر عمل درآمد شروع ہوا ، ان دنوں بین الاقوامی سطح پر فولاد کی منڈی میں اس قدر کساد بازاری تھی کہ اگر پاکستان اسٹیل کے تمام ملازمین کو بھی نکال دیا جاتا، تب بھی پاکستان اسٹیل نقصان میں ہی رہتا، لیکن اتفاق سے اس دوران حالات نے یکایک کروٹ بدلی اور چین میں فولاد کی زبردست مانگ کے سبب اس کی قیمت میں پانچ سو فیصد اضافہ ہو گیا۔ پاکستان اسٹیل نے بھی اس صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مصنوعات کی قیمتیں بڑھا دیں اور خاطر خواہ منافع حاصل کیا، لیکن عوام و خواص کو یہی تاثر دیا گیا کہ یہ منافع آٹھ ہزار ملازمین کی چھانٹی سے ہونے والی بچت کے سبب ہوا اور اس طرح چھانٹی کا جواز بھی فراہم ہو گیا۔ اس قسم کے اور بھی غلط تاثرات کو اتنے تواتر سے دہرایا جاتا رہا ہے پاکستان اسٹیل قومی خزانے پر بوجھ ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اسٹیل جو 24ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہوا تھا، اپنی لاگت سے تین گنا زیادہ رقم یعنی 72ارب روپے ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کی شکل میں قومی کزانے میں جمع کرا چکا ہے۔ اس نے 1985ء میں اپنی تکمیل سے لے کر 2009ء تک 24سال کے دوران قومی خزانے سے ایک پیسہ بھی نہیں لیا اور 2009ء یا اس کے بعد بھی جو رقم اسے مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے ملی، وہ بھاری سود پر قرضوں کی شکل میں ہے،جس سے اس کے نقصانات میں اضافہ ہوا ہے۔

قومی خزانے سے اسے سرمایہ کاری کے طور پر جس مدد کی ضرورت تھی، وہ اگر بروقت مل جاتی تو اس کا آج یہ حال نہ ہوتا۔ قومی خزانے کی طرف دیکھنے سے تو اسے اسی وقت منع کر دیا گیا تھا، جب 1985ء میں اس کی تکمیل کے دو سال بعد پی سی ون کے مطابق اس کی پیداوار کو 11لاکھ ٹن سالانہ سے 22لاکھ ٹن اور پھر 30لاکھ ٹن سالانہ تک لے جایا جانا تھا۔ پہلے سے طے شدہ اس توسیعی منصوبے پر برائے نام لاگت آتی، جبکہ پیداوار میں اضافے کے ذریعے ’’اکانومی آف اسکیل‘‘ کے تحت پاکستان اسٹیل بھرپور طور پر نفع بخش ادارہ بن جاتا، لیکن توسیعی منصوبے کو صرف اس لئے نظر انداز کر دیاگیا کہ یہ فولاد ساز کارخانہ روس نے لگایا تھا جس سے ان دنوں افغانستان کی صورت حال کے سبب تعلقات دشمنی کے مراحل میں داخل ہو گئے تھے۔ ضیاء الحق کے بعد غلام اسحاق خان کے دور میں تو پاکستان اسٹیل کو یکسر بند کرنے کی باتیں ہو رہی تھیں۔ وہ تو اللہ بھلا کرے ان چند محب وطن سینئر، بیورو کریٹس کا جنہوں نے حد سے آگے جاتے ہوئے غلام اسحاق کو ایسا کرنے سے باز رکھا۔ پی آئی اے اور پاکستان اسٹیل کا قیام دراصل قومی جذبے سے بھرپور فیصلے تھے، جن کا ملک و قوم کو زبردست فائدہ ہوا۔(جاری ہے)

مزید : کالم