سعودی کولیشن کی ملٹری ایکسرسائز’’رعدالشمال‘‘!

سعودی کولیشن کی ملٹری ایکسرسائز’’رعدالشمال‘‘!
 سعودی کولیشن کی ملٹری ایکسرسائز’’رعدالشمال‘‘!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

جب آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے تو سعودی کولیشن فورسز کی ایک جوائنٹ ملٹری ایکسرسائز چل رہی ہوگی۔ اس ایکسرسائز کا نام ’’رعدالشمال‘‘ (North Thunder) رکھا گیا ہے۔ اس کا مقصد سعودی فوج کی دفاعی صلاحیتوں کو صیقل کرنا اور ریاست کی جنگ آمادگی میں اضافہ کرنا ہے۔ اس فورس میں بہت سے عرب اور مسلم ممالک کے فوجی دستے شریک ہیں جن میں پاکستان، ترکی، مصر ،اردن، ملائیشیاء اور قطر خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ قطر کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ اگرچہ اس کی عسکری استعداد کوئی اتنی زیادہ موثر نہیں لیکن اس کی افواج کی پشت پر ’’زائد از ضرورت‘‘ امریکی تائید سایہ فگن ہے۔ 21ممالک پر مشتمل اس کولیشن کی یہ فوجی مشق اس وقت کی جا رہی ہے جب سعودی عرب نے اعلان کر رکھا ہے کہ اس کی گراؤنڈ فورسز جلد ہی شام میں داخل ہوں گے اور اگر ضرورت پڑی تو جنگی کارروائیوں میں الجھنے سے دریغ نہیں کریں گی۔ قبل ازیں سعودی کولیشن فورسز یمن پر فضائی اور زمینی حملوں میں بھی پیش پیش رہی ہیں۔ یمن میں پاک فوج کے دستوں کو سعودی عرب کی طرف سے جو درخواستِ مبارزت دی گئی تھی اور پاکستانی پارلیمان نے اس کا جو جواب دیا تھا، اس کی سب تفاصیل قارئین کو معلوم ہیں۔ لیکن تب اگر یمن میں پاک فوج کے دستے نہیں بھیجے گئے تھے تو اب اس کولیشن میں پاکستانی مسلح افواج کا دستہ شریکِ مشق ہے۔ قارئین کو شریک مشق اور شریقِ جنگ میں فرق کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا پڑے گا۔ تاہم ابھی تک اس بات کی اطلاع نہ کولیشن کی طرف سے موصول ہوئی ہے اور نہ ہی پاکستان نے یہ بتایا ہے کہ پاک فوج کے کون کون سے عناصر اس ’’رعدالشمال‘‘ میں حصہ لے رہیں اور ان کی تعداد کیا ہے۔ غیر سرکاری طور پر جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق یہ ایکسرسائز اس خطے میں اب تک کی جانے والی فوجی مشقوں میں سب سے بڑی مشق قرار دی جا رہی ہے۔ اس میں 150000 سولجرز،2540 جنگی طیارے، 20000 ٹینک اور 460 ہیلی کاپٹر حصہ لے رہے ہیں۔ تاہم یہ اعدادوشمار مبالغہ آمیز بھی بتائے جا رہے ہیں۔ دنیا بھر کے فوجی مبصروں کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ اس کولیشن میں جو 21 ممالک شامل ہیں، ان کے فوجی ترکش میں سب کو ملا کر بھی 20000ٹینک نہیں بنتے۔ کچھ یہی حال جنگی طیاروں کا بھی ہے۔ جینز ڈیفنس ویکلی ایک بڑا معروف ہفتہ واری عسکری رسالہ ہے جس میں دنیا بھر کی عسکری خبریں چھپتی ہیں۔ اس کے مدیران کا دعویٰ بھی یہی ہے کہ اس مشق میں حصہ لینے والے عناصر کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔

اس ایکسرسائز کا دورانیہ 25دنوں کا ہے۔ یہ 14فروری 2016ء کو شروع ہوئی تھی اور 10مارچ کو ’’کنگ خالد ملٹری سٹی‘‘ کے گردونواح میں اختتام پذیر ہوگی۔ یہ شہر سعودی عرب کے شمال مشرق میں واقع ہے۔ اسے امریکی فوجی انجینئروں نے 1970ء اور 1980ء کے عشروں میں تعمیر کیا تھا۔ اس میں متعدد سعودی ملٹری بریگیڈوں کی فوجی نفری کی رہائش گاہیں ہیں اور اس کی آبادی 70000افراد پر مشتمل ہے۔ اسے چونکہ اس دور کے شاہ خالد بن عبدالعزیز نے تعمیر کروایا تھا اس لئے اس کا نام ’’مدینۃ الملک خالد العسکریہ‘‘ رکھا گیا جس کا انگریزی ترجمہ ’’کنگ خالد ملٹری سٹی‘‘ ہے۔ اس کے جنوب میں ایک وسیع و عریض فضائی مستقر بھی ہے۔ پاکستانی افواج کے جو عناصر سعودی عرب بھیجے جاتے ہیں ان کو خوب معلوم ہے کہ ریاض، دمام، خمیس المشیط اور اس کنگ خالد ملٹری سٹی کی عسکری سہولیات کا کیف و کم کیا ہے اور اس میں عسکری انتظام (ایڈمنسٹریشن) اور انصرام (لاجسٹکس) کے لئے کیسی کیسی آسانیاں میسر ہیں۔۔۔ اس ایکسرسائز کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اس میں زمینی اور فضائی دستوں کے علاوہ بحری دستے اور فضائی دفاع کے دستے (Air Defence Systems) بھی شریک ہیں۔

جیساکہ آپ جانتے ہیں پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات شروع ہی سے دوستانہ رہے ہیں۔ تعلقات کی یہ دوستانہ نوعیت جن خصوصی معاملات کو محیط ہوتی ہے ان میں عسکری معاملات پیش پیش ہوتے ہیں۔ چین اور پاکستان کے باہمی روابط کی گرم جوشی کی بہت مثالیں دی جاتی ہیں لیکن ان مثالوں کی اصل اساس وہ فوجی عنصر ہے جو پاکستان اور چین کی افواج کے درمیان پایا جاتا ہے۔ میرے خیال میں چین کے بعد سعودی عرب وہ دوسرا ملک ہے جس کے ساتھ پاکستان کی دوستی کی بنیاد ’’عسکری پہلوؤں‘‘ پر انحصار رکھتی ہے۔ سعودی عرب اگرچہ پاکستان کو اس کی جنگوں کے دوران ویسی اسلحی امداد تو نہیں دے سکا جیسی بھارت کو روس اور امریکہ نے دی تھی لیکن افواج کو جنگ میں برقرار (Maintain) رکھنے کے لئے جو عناصر درکار ہوتے ہیں، ان کو دینے میں سعودیوں نے کبھی گریز نہیں کیا۔ ان عناصر میں سیاہ سونا (تیل) اور سنہری سونا (ڈالر) دونوں شامل تھے۔ دوسری طرف پاکستان نے بھی سعودیوں کو ہمیشہ وہ عناصر مہیا کئے جو سعودی عرب کی ملکی سلامتی اور یک جہتی کے لئے ضروری تھے۔ میری مراد پاکستانی فوجی دستوں کی ترسیل اور سعودی فوجی دستوں کی ٹریننگ سے ہے۔ پاک فوج نے اگرچہ اپنی عسکری تربیتی درسگاہوں میں سعودی کیڈٹوں کو ہمیشہ خوش آمدید کہا لیکن ان کو ہمیشہ وہ کڑوا کسیلا سچ نہ بتایا جو میرے خیال میں بتانا چاہیے تھا۔۔۔ اور وہ سچ یہ تھا کہ بیشتر سعودی کیڈٹس اپنے آپ کو سخت، درشت اور مشقت آزما ملٹری ڈسپلن کے تابع رکھنے سے گریزاں تھے۔ مجھے جب بھی اپنے ان سعودی بھائیوں کو اپنی ان درملٹری سگاہوں میں دیکھنے کا اتفاق ہوا یا جب بھی مختلف ذرائع سے ان کے تربیت دہندگان (Trainers) کے افکار و خیالات جاننے کا موقع ملا تو افسوس ہوا کہ یہ سعودی کیڈٹس روائتی جنگی صعوبتوں اور مشکلات کو خندہ پیشانی سے جھیلنے اور گلے لگانے کی بجائے ان سے اجتناب کرنے کی روش پر گامزن رہتے تھے۔۔۔ یہ وہی عرب تھے جن کے بارے میں اقبال نے کہا تھا:

غرض میں کیا کہوں تجھ سے کہ وہ صحرا نشیں کیا تھے

جہانگیر و جہاں دار و جہاں بان و جہاں آرا

1970ء کے عشرے کے وسطانی برسوں میں میری پوسٹنگ ایبٹ آباد میں تھی اور پاکستان ملٹری اکیڈیمی (PMA) میں جانے کا اکثر اتفاق ہوتا تھا۔ وہاں جب بھی آفیسرز /این سی اوز انسٹرکٹروں سے بات ہوتی تو وہ زیرتربیت سعودی کیڈٹوں کی تن آسانی اور شاہ خرچی کے عجیب و غریب قصے سناتے تھے۔ مثلاً کسی بیٹ مین کو 500کا نوٹ دیا اور کہا کہ فلاں برانڈ کے سگریٹ کی ایک ڈبیا کنٹین سے لا دو۔ جب وہ سگریٹ کی ڈبیا لا کر دیتا اور باقی 455 روپے واپس کرنے لگتا تو سعودی کیڈٹ اسے واپس قبول نہ کرتے اور ’’بخشیش‘‘ جان کر بیٹ مین کو دے دیتے۔ ان کو معلوم نہیں تھا کہ ان بیٹ مینوں کو پاک فوج کے اربابِ اختیار نے سختی سے منع کر رکھا تھا کہ ان کیڈٹوں سے بخشیش کے نام پر ایک ریال بھی اگر ملے تو اس کی اطلاع افسران بالا کو دی جائے۔ اس ابتدائی قسم کی اطلاعات اکثر اکیڈیمی کے افسران بالا کو ملتی رہتی تھیں اور وہ اچھے (Good) ملٹری ڈسپلن سے انحراف کرتے ہوئے سعودی افسرانِ بالا کو یہ نہیں بتاتے تھے کہ اس ’’کلچر‘‘ کی بیخ کنی میں ان کا کس قسم کا تعاون درکار ہے۔۔۔ اقبال کی اسی نظم میں کہ جس سے درجِ بالا شعر لیا گیا ہے، یہ شعر بھی ہے:

گدائی میں بھی وہ اللہ والے تھے غیور اتنے

کہ منعم کو گدا کے ڈر سے بخشش کا نہ تھا یارا

یہ میں نے صرف ایک نہائت ’’بے ضرر‘‘ اور معمولی سی مثال دی ہے۔ وگرنہ اس قسم بلکہ اس سے کئی گنا شدید تر مثالیں اور بھی تھیں جو سعودی کیڈٹوں کو مطلوبہ پروفیشنل فکر و نظر سے آراستہ کرنے میں ہمیشہ مزاحم رہیں۔ پچھلے دنوں ایس ایس جی کے ایک آفیسر سے ملاقات ہوئی اور اس نے بھی یہی شکوہ کیا کہ سعودی ملٹری نے اپنے جو افراد ایس ایس جی میں ٹریننگ کے لئے بھیجے ہیں، وہ اس تنظیم (SSG) کی جسمانی مشکلات اور نفسیاتی چیلنجوں کی دشواریوں کو برداشت کرنے میں لیت و لعل سے کام لیتے ہیں۔

میں ایکسرسائز ’’رعدالشمال‘‘ کا ذکر کر رہا تھا۔۔۔ سعودیوں کے پاس آج ماشاء اللہ بے تحاشا جدید ترین ملٹری سازوسامان جنگ ہے، اسلحہ ہے اور بارود ہے لیکن اس کو استعمال کرنے اور چلانے کے لئے جو بدنی اور دماغی Calibre درکار ہوتا ہے، اس کی کمی زیرِ تربیت سعودی افسروں اور جوانوں میں شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ بات یہ نہیں کہ سعودیوں کو اپنی ان کمزوریوں کا علم نہیں۔ ان کو سب کچھ معلوم ہے۔

میرے سامنے 1995ء میں شائع ہونے والی ایک کتاب کھلی ہوئی ہے جس کا نام ڈیزرٹ وارئر (Desert Warrior) ہے۔ مصنف کا نام جنرل خالد بن سلطان ہے۔ جنرل خالد بن سلطان کو کون نہیں جانتا؟۔۔۔وہ پہلی خلیجی جنگ (1990ء) میں امریکہ کے ساتھ جوائنٹ فورس کمانڈر تھے۔ یہ کتاب 480 صفحات پر مشتمل ہے۔ ہارپر کولن کی طرف سے شائع کی گئی ہے۔ اس کے 23ابواب ہیں اور اس کا ایک ایک صفحہ پڑھنے کے قابل ہے۔ میں سمجھتا ہوں اگر پرنس خالد بن سلطان جیسے ’’شہزادے‘‘ سعودی فوج کے جنرل ہو سکتے ہیں تو باقی سعودی شہزادے ان کی پیروی کیوں نہیں کر سکتے؟ جنرل خالد نے انگلستان کی ملٹری اکیڈیمی سینڈھرسٹ سے 1969ء میں کمیشن حاصل کیا اور اپنی اس خودنوشت (ڈیزرٹ وارئر) کے باب نمبر5میں ان مشکل ایام کی یادداشتیں قلم بند کی ہیں جو انہوں نے اکیڈیمی میں گزارے۔ میں جب بھی اس باب کو پڑھتا ہوں، دل سے دعا نکلتی ہے کہ ہر سعودی سولجر کو خدا، پرنس خالد بن سلطان کا سا دل و دماغ عطا کرے!۔۔۔ کاکول میں ٹریننگ کے دوران جس قسم کا سخت ماحول اور کڑا ڈسپلن زبان زدِ خاص و عام ہے، اسی قسم کا ماحول اور کڑا ڈسپلن سینڈھرسٹ کا بھی ہے۔ کاش جنرل خالد کی اس خود نوشت کا اردو ترجمہ شائع ہو جاتا اور پاکستانی ذہنوں میں سعودی کیڈٹوں کی آرام طلبی اور سہل کوشی کی جو جھوٹی سچی داستانیں موجود ہیں ان کا قلع قمع ہو سکتا ۔۔۔ میں کوشش کروں گا کہ جلد کم ازکم باب نمبر5کے ان 16صفحات کا ترجمہ نذر قارئین کروں، جن میں جی سی (GC) خالد بن سلطان نے اپنے دوران قیامِ سینڈھرسٹ کا دلچسپ اور سبق آموز ذکر کیا ہوا ہے!

آج بھی سعودی مسلح افواج میں جنرل خالد بن سلطان کی طرح کے کئی کمانڈر موجود ہوں گے لیکن مجھے گلہ ہے کہ ان کی تعداد اتنی زیادہ نہیں ہے جو دشمن /حریف کی جنگی استعداد کا سامنا کر سکے۔ اس کے لئے ’’رعدالشمال‘‘ جیسی ایکسرسائزیں کنڈکٹ کرنے سے پہلے ساری افواج کی نفری کو اس عسکری معیار پر لانا ہوگا جو جدید افواج کی نفریوں میں عام دیکھنے کو ملتا ہے!

مزید : کالم