شرمین عبید چنائے کے لئے دوسرا آسکرا یوارڈ

شرمین عبید چنائے کے لئے دوسرا آسکرا یوارڈ

پاکستانی پروڈیوسر شرمین عبید چنائے نے پھر ایک معرکہ سر کر لیا۔ ان کی دستاویزی فلم ’’اے گرل ان ریور‘‘ کو دنیائے فلم کا سب سے بڑا ایوارڈ مل گیا۔ یہ ان کے لئے دوسرا آسکر ایوارڈ ہے، اس سے پہلے 2012ء میں بھی ان کی دستاویزی فلم ’’سیونگ فین‘‘ کو جو خواتین کو تیزاب پھینک کر بدصورت بنانے یا جان سے مارنے کے متعلق تھی یہ ایوارڈ ملا تھا، شرمین عبید کی نئی ڈاکومنٹری ایک سچی کہانی پر مشتمل ہے اور جس لڑکی کے حوالے سے یہ بنائی گئی وہ بھی ابھی زندہ ہے، اس دستاویزی فلم میں ’’غیرت کے نام پر قتل‘‘ کے مسئلہ کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ایوارڈ ملنے کے بعد شرمین عبید نے بھرے مجمع میں پوری دنیا کے سامنے یہ بھی بتا دیا کہ وزیراعظم پاکستان محمد نوازشریف نے غیرت کے نام پر قتل کے حوالے سے قانون میں ترمیم کا بھی یقین دلایا ہے۔وزیراعظم محمد نوازشریف سے شرمین عبید چنائے کی ملاقات سوئٹزر لینڈ میں ہوئی اور انہوں نے آسکر کے لئے نامزد اپنی دستاویزی فلم کے بارے میں بتایا تو وزیراعظم نے دعوت دے کر اس فلم کی رونمائی ایوان وزیراعظم میں کی اور یہ فلم منتخب مہمانوں کے روبرو دکھائی گئی جس کی سب نے تعریف کی اور توقع ظاہر کی تھی کہ یہ بھی ایوارڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی۔ وزیراعظم اور پاکستان کے زعمائے کرام نے شرمین عبید کو مبارکباد دی ہے کہ اس نے ملک کا جھنڈا ایک بار پھر سربلند کر دیا ہے۔شرمین عبید کی یہ دوسری دستاویزی فلم بھی اہم اور نازک موضوع کے حوالے سے ایک لڑکی کی بپتا پر بنائی گئی جسے غیرت کے نام پر قتل کرکے دریا میں پھینک دیا گیا لیکن مارنے والے سے بچانے والا بڑا ہے وہ لڑکی بچا لی گئی اور آج اپنے شوہر کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے۔

شرمین عبید چنائے کی اس دوسری کاوش کو بھی اب بہت سراہا جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں تو تعریف کی گئی اب ملک سے بھی مبارکبادوں کا سلسلہ شروع ہے۔ سوال یہ ہے کہ شرمین عبید نے ایک خاتون ہوتے ہوئے دو مختلف موضوع منتخب کئے اور حقائق کی روشنی میں فلمیں بنا دیں جن کو اتنی پذیرائی ملی کہ دونوں ہی آسکر حاصل کر گئیں۔ اس سے ایک تو یہ حقیقت بھی ثابت ہوتی ہے کہ صحیح موضوع کو محنت کے ساتھ فلمایا جائے تو یہ رائیگاں نہیں جاتی۔ اب اگر اس کو پیش نظر رکھا جائے تو پھر سچی کہانیوں پر مبنی اچھے موضوعات پر تو فیچر فلمیں بھی بنائی جا سکتی ہیں جو خاصی شہرت حاصل کرلیں یوں بھی ہمارے اردگرد ایسے واقعات بکھرے پڑے ہیں جن کو فلم کا موضوع بنایا جا سکتا ہے، پاکستان کی ڈوبی فلمی صنعت کو بھی ایسی ہی سوجھ بوجھ اور شعور کی ضرورت ہے۔ ہمارے فلمسازوں کو بھی حقیقی واقعات کی روشنی میں کہانی ترتیب دے کر فلم بنانا چاہیے اس سے یہ صنعت بھی ابھرے گی اور دنیائے فلم میں ملک کا نام بھی ہوگا جیسے شرمین عبید کی ذہانت اور محنت سے ہواہے۔

شرمین عبید نے بتایا اور وزیراعظم ہاؤس کے بیان میں بھی اظہار کیا گیا کہ وزیراعظم محمد نوازشریف نے ’’غیرت کے نام پر قتل‘‘ کے معاملہ پر متعلقہ قوانین میں ضروری ترامیم کی ہامی بھری اور اعلان کیا ہے۔ یقینی طور پر وزیراعظم نے وزارت قانون کو یہ ہدایت جاری کر دی ہوگی کہ قوانین کا جائزہ لے کر مناسب ترامیم کا مسودہ تیار کرکے منظور کرایا جائے۔ جہاں تک غیرت کے نام پر قتل کا تعلق ہے تو اس کی اجازت تو ہمارا دین بھی نہیں دیتا کہ جس نے جو جرم کیا اس کی سزا اسی کے مطابق ملنا چاہیے اور اس کے لئے تمام قوانین بھی موجود ہیں، یوں بھی بالغ مرد و عورت رضامندی سے نکاح کر لیں تو یہ کوئی جرم نہیں اور اس ضمن میں اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے بھی موجود ہیں، انہی فیصلوں کی روشنی میں متعلقہ قوانین میں ترامیم ہو جانا چاہیے تھی، اب بھی اگر وزیراعظم نے اعلان کیا ہے تو یہ کام مناسب وقت کے اندر ہو جانا چاہیے کہ غیرت کے نام پر قتل کے معاملات یوں بھی الجھے ہوئے ہیں اور سازشی قتل بھی ہو جاتے ہیں جنہیں غیرت کا نام دیا جاتا ہے۔

مزید : اداریہ