پاکستان اور افغانستان دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ حکمت عملی بنائیں

پاکستان اور افغانستان دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ حکمت عملی بنائیں

چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے پرعزم ہیں۔ پاک فوج دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کسی بھی حد تک جائے گی شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ ملک کے کونے کونے سے دہشت گردوں کا صفایا کیا جائے گا۔ پشاور میں پاک فوج کے ان چار شہداء کی نماز جنازہ ادا کی گئی جنہوں نے ہفتے کو شوال میں دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کی لڑائی میں جامِ شہادت نوش کیا، آرمی چیف نے جنازے میں شرکت کی اور کور ہیڈکوارٹر پشاور میں افسروں اور جوانوں سے خطاب بھی کیا۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ شہید ہونے والے فوجیوں نے دہشت گردوں کو شوال سے فرار نہیں ہونے دیا اور اپنی جانوں کی قربانی دے کر انہیں جہنم واصل کیا۔پاک فوج کا ہر جوان دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کے لئے پرعزم ہے۔

شمالی وزیرستان کے جس علاقے میں یہ جھڑپ ہوئی ہے یہ افغانستان کی سرحد سے ملحقہ ہے اور دہشت گرد سرحد پار کرکے شوال آئے تھے اس سے پہلے جن دہشت گردوں نے آرمی پبلک سکول پشاور اورچارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی میں دہشت گردی کی وارداتیں کی تھیں وہ بھی افغانستان سے آئے اور انہیں وہیں سے کنٹرول کیا جا رہا تھا، اس کے ثبوت بھی افغان حکومت کو فراہم کئے گئے تھے، اب پھر دہشت گرد اگر شوال میں جمع ہو رہے تھے تو بظاہر ان کا مقصد وہاں دوبارہ دہشت گردی کے اڈے قائم کرنا ہی لگتا ہے۔ پاک فوج کے کیپٹن عمیر عباسی اور ان کے ساتھی جوانوں نے ان کی یہ کوشش کامیاب نہیں ہونے دی، ان سب واقعات سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ جب تک افغانستان میں دہشت گردوں کے اڈے موجود ہیں وہ موقع ملتے ہی دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے رہیں گے اس لئے تمام تر کوششیں اس بات پر مرکوز ہونی چاہئیں کہ افغان حکومت کے تعاون سے وہاں دہشت گردوں کے اڈے ختم کئے جائیں۔

آج واشنگٹن میں پاکستان اور امریکہ کے سٹرٹیجک مذاکرات کا آغاز بھی ہو رہا ہے جو موضوعات ان مذاکرات میں زیر بحث آئیں گے ان میں دہشت گردی بھی ایک اہم موضوع ہے جس پر سیر حاصل گفتگو ہونی چاہیے۔ خاص طور پر اس حوالے سے کہ پاکستان سے جو دہشت گرد فرار ہو کر افغانستان چلے جاتے ہیں اور وہاں اپنے اڈے بنا کر پاکستان میں کارروائیاں کرتے ہیں ان کے یہ ٹھکانے کیسے ختم کئے جا سکتے ہیں؟ کیونکہ جب تک یہ اڈے موجود ہیں وہ وقتاً فوقتاً ایسی کارروائیاں کرتے رہیں گے۔ یہ درست ہے کہ پاک فوج اس وقت آپریشن ضرب عضب کے آخری اور مشکل مرحلے میں ہے۔ آرمی چیف کا یہ عزم بھی ہے کہ دہشت گردوں کو ملک کے کونے کونے میں تلاش کرکے ختم کیا جائے گا لیکن گزشتہ ڈیڑھ دو برسوں میں دہشت گرد جہاں بھی بڑی واردات کرنے یا فوجیوں ، طلباء یا عام شہریوں کو شہید کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں وہاں وہاں ان کے افغان لنک ہی سامنے آئے ہیں جن کا خاتمہ ہر حالت میں ضروری ہے۔

افغانستان سے امریکی اور اتحادی فوج اگرچہ واپس جا رہی ہے تاہم جتنی فوج بھی اس وقت موجود ہے اس کی زیادہ توجہ افغان نیشنل آرمی کی تربیت پر ہے۔ افغانستان کو خود دہشت گردی کا سامنا ہے اور ابھی دو روز قبل کابل کے ایسے ہائی سیکیورٹی زون میں واردات ہوئی ہے، جہاں حفاظتی انتظامات باقی شہر کی نسبت کافی زیادہ اور بہتر ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر امریکی فوج کی موجودگی کے باوجود ایسی وارداتوں کو روکنا ممکن نہیں ہو پا رہا تو جب تمام فوجی واپس چلے جائیں گے تو پھر دہشت گردی کا مقابلہ مشکل تر ہو جائے گا۔ اس لئے امریکی فوج کو پاکستان کے ساتھ مل کر کوئی ایسی حکمت عملی تشکیل دینی چاہیے کہ جس کی وجہ سے دونوں ملکوں میں دہشت گردی پر قابو پایا جا سکے۔

پاکستان کی کوششوں سے طالبان کے مختلف گروپوں اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ ابھی تک وثوق سے تو نہیں کہا جا سکتا کہ مذاکرات کب بحال ہوں گے یا ان میں ابھی کتنی رکاوٹیں باقی ہیں کیونکہ صدر اشرف غنی قدرتی طور پر کابل میں ہونے والی دہشت گردی کی تازہ وارداتوں سے بہت دکھی ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ جو لوگ افغان شہریوں کو مار رہے ہیں ان کے ساتھ مذاکرات نہیں ہو سکتے، یہ مذاکرات ہوتے ہیں یا نہیں ہوتے، دہشت گردی پر بہرحال پاکستان اور افغان حکومتوں کو سرجوڑ کر بیٹھنا چاہیے اور سرحد پار کرکے دہشت گردی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے لئے کوئی بہتر حکمتِ عملی ترتیب دینی چاہیے۔ اب تک اس سلسلے میں کی جانے والی کوششیں تو کامیاب نہیں ہو سکیں۔

آپریشن ضرب عضب کے شروع ہونے کے بعد اگرچہ نوے فیصد سے زیادہ علاقے کو دہشت گردوں سے کلیئر کرا لیا گیا ہے اور اس علاقے میں بسنے والے پاکستانی شہریوں کی واپسی کی راہ بھی ہموار ہو گئی ہے لیکن جس تھوڑے سے علاقے میں دہشت گرد اب بھی موجود ہیں ایسے لگتا ہے کہ ان کے مواصلاتی رابطے سرحد پار علاقے سے آپریٹ کرنے والے دہشت گردوں کے ساتھ کافی مضبوط ہیں اور انہی کی وجہ سے وہ نہ صرف مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں بلکہ ان علاقوں میں بھی ان کی فوج کے ساتھ جھڑپ ہو جاتی ہے۔ اس تمام تر صورت حال کا تقاضا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی حکومتیں اور افغانستان میں موجود امریکی فوج مل کر ایسی سٹرٹیجی ترتیب دیں جو دہشت گردوں کے یہ رابطے توڑنے میں ممد و معاون ثابت ہو سکے۔ یہ بات اب ثابت ہو چکی ہے کہ اگر پاکستان اور افغانستان الگ الگ کارروائیاں کرتے رہے اور انہیں باہم مربوط کرنے کے لئے انٹیلی جنس معلومات کا نتیجہ خیز تبادلہ نہ کیا گیا اور ان کے لئے خلاف متحدہ اور مشترکہ کوششیں نہ کی گئیں تو پھر اس سلسلے میں زیادہ کامیابی نہیں مل سکے گی اور دہشت گرد وقفے وقفے سے کارروائیاں کرتے نظر آئیں گے۔

مزید : اداریہ