ہومیو پیتھی کے حوالے سے سست طریقہ علاج کا تاثر ختم ہونا چاہیے

ہومیو پیتھی کے حوالے سے سست طریقہ علاج کا تاثر ختم ہونا چاہیے

لاہور(پ ر) لائبہ انسٹیٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ ایڈوانسمنٹ آف ہومیوپیتھ (لرا)کے زیراہتمام، مغلپورہ میں ایک مقامی ہال میں ہومیوپیتھی پر دوسرا ماہانہ سیمینار منعقد کیا گیا جس میں ملک کے بیس اضلاع سے ہومیوڈاکٹرز نے شرکت کی۔اس سیمینارمیں ملک کے نامور ہومیو ڈاکٹربنارس خان نے ڈاکٹر حضرات کو کیس ٹیکنگ میں پیش آنے والے مسائل پر روشنی ڈالی۔ سیمینار کے استقبالی کلمات میں، ڈاکٹر آصفہ مظہر، چیئرپرسن لرانے کہا کہ ہرماہ ایسے پروگرام کا مقصدہومیو ڈاکٹرز کو نئے طریقہء علاج اور تحقیق سے روشناس کرواکربیماریوں کے طریقہء علاج میں جدت لانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اس تاثر کو ختم کرنا ہے کہ ہومیوپیتھی ایک سست طریقہ علاج ہے حالانکہ اس کو پوری دنیا میں ایک مستند طریقہ علاج تصور کیا جاتا ہے یہ طریقہ علاج ان حالات میں بھی موثرہے جہاں باقی طریقے کامیاب نہیں ہو سکتے۔ہومیو ڈاکٹر بنارس خان اعوان نے اپنے لیکچر میں کہا کہ ہومیوپیتھی باقی علاجوں سے یکسر مختلف ہے کیونکہ اس میں مرض کا نہیں، مریض کا علاج کیا جاتا ہے اور دوائی کا انتخاب مریض کی جسمانی، ذہنی کیفیت اور اس کے رویہ کی بنیاد پر کیا جاتاہے اور یہ صرف اس وقت ہی ممکن ہے جب ڈاکٹر کو کیس ٹیکنگ میں مکمل مہارت حاصل ہو۔ اپنے تین گھنٹے سے زائد لیکچر میں انہوں نے کیس ٹیکنگ پر تفصیلی بریفنگ دی اور لائیو کیس کے زریعے اس کی مزید وضاحت کی۔ لیکچر کے آخر میں شرکاء نے اس لیکچر کو انتہائی مفید قرار دیا اور زور دیا کہ اس طرح کے پروگرام باقاعدگی سے کیے جانے چاہیے تاکہ ڈاکٹرزاپنے آپ کو نئی ہونے والی تحقیق سے آگاہ رکھ سکیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1