معاشرتی برائیوں کی عکاس فلم ’’جشن ‘‘

معاشرتی برائیوں کی عکاس فلم ’’جشن ‘‘

حسن عباس زیدی

ڈائریکٹر شاہد عثمان کی زیر تکمیل نئی فلم ’’جشن‘‘کی شوٹنگ ان دنوں تیزی سے جاری ہے ۔معاشرتی برائیوں کی عکاس پشتو میں بنائی جانے والی فلم ’’جشن‘‘جلد عام نمائش کے لئے پیش کی جائے گی۔اس فلم کے پروڈیوسرز ڈریس ڈیزائنر بابو،آفرین، رائٹر سلیم مراداور ڈائریکٹر آف فوٹو گرافیاکرم پھلروان ہیں۔اس میگا پراجیکٹ کے اہم فنکاروں میں ارباز خان،آصف خان ،ایوب کھوسو،اچھی خان،راحیلہ آغا،آفرین،چنبیلی اور جہانگیر جانی شامل ہیں۔فلم’’جشن ‘‘میں مرکزی کردار ادا کرنے والی معروف پرفارمر و اداکارہ سدرہ نور نے کہاہے کہ فلم انڈسٹری میں تبدیلی نئے اور ٹیلنٹڈ فنکاروں کے ذریعے لائی جاسکتی ہے ۔ان کاکہناہے کہ ملک میں موجود ٹیلنٹ کی صلاحیتوں کااستعمال صحیح معنو ں میں نہیں کیاجاتایہی وجہ ہے کہ ہمارے آرٹسٹ بھارت کارخ کرتے ہیں اوربھارت نے ہمیشہ پاکستانی فنکارو ں کی صلاحیتوں کابھرپورفائدہ اٹھایاہے ۔سینئرفنکارایک اکیڈمی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ان کی رہنمائی میں نئے آرٹسٹ اپنے فن کوبہتراندازمیں اجاگرکرسکتے ہیں۔فلمسازوں اورہدایتکاروں کوچاہیے کہ وہ میرٹ پرنئے آرٹسٹوں کوفلموں میں کاسٹ کریں تاکہ نوجوان نسل بھی پاکستانی فلموں کی جانب راغب ہواورفلم انڈسٹری ترقی کرے سدرہ نور نے کہا کہ ہمارے ملک میں جدید ٹیکنالوجی متعارف ہوچکی ہے اورتعلیم یافتہ تیکنیک کاراس سے مستفید ہورہے جوکہ پاکستان فلم انڈسٹری کے لئے خوش آئندہے ۔میں اس وقت دو اورفلموں میں مرکزی کردار ادا کررہی ہوں۔ڈائریکٹرشاہد عثمان ایک محنتی ڈائریکٹر ہیں وہ اس سے قبل کئی شاہکار اور کامیاب فلمیں بنا چکے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں سدرہ نورنے کہا ہے کہ میں نے ہمیشہ کم مگر معیاری کام کو ترجیح دی ہے۔ پاکستان فلم انڈسٹری کی بحالی کے لئے انقلابی اقدامات اٹھانا ہوں گے اور اس کے لئے سٹیج ،ٹی وی میں کام کرنیوالی باصلاحیت اور خوبصورت اداکاراؤں کو بھی فلموں میں کام کرنے کے مواقع ملنے چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ فلم انڈسٹری کی ترقی میرا خواب ہے ، گو کہ میں پشتو فلموں میں بہت مصروف ہوں مگر اجتماعی طور پر میں پاکستان فلم انڈسٹری کی بحالی کی خواہشمند ہوں اور اس کے لئے ضروری ہے کہ فلم کے تمام شعبوں میں نئے لوگوں کو مواقع ملنے چاہیے اور خاص طور پر اداکاری کے میدان میں ٹی وی اور سٹیج کے باصلاحیت اداکاروں کو آگے لانا چاہیے تاکہ انڈسٹری میں نئے اداکاروں کو اپنی صلاحیتیں منوانے کا موقع مل سکے ۔ بالی ووڈ کی انڈسٹری میں نئے اداکاروں کو متعارف کروانے کا رحجان عام ہے جبکہ اس کے مقابلے میں لالی ووڈ میں پرانے اداکاروں سے ہی کام چلایا جا رہا ہے ۔جب تک نئے خون کو آگے آنے کا موقع نہیں ملتا انڈسٹری کی بحالی میں اتنی ہی مشکلات پیش آئیں گی ۔پروڈیوسر بابو نے کہا کہ میں سدرہ نور کا دل کی گہرائیو ں سے شکریہ ادا کرتا ہوں جو میری فلم میں ایک اہم رول ادا کررہی ہیں بلاشبہ وہ اس دور کی بہت بڑی فنکارہ ہیں میری فلم کے فائٹر قیصر مستانہ،تدوین کار اسدزادہ،کوریو گرافر ضمیر عباس کاہلو،نغمہ نگار سراج الدین مخلص اور رحیم الدین الفت ہیں۔اس فلم کے مدھر گیتوں کی موسیقی ماسٹر علی حیدر نے ترتیب دی ہے۔بابو نے مزید بتایا کہ میری فلم کا سکرین پلے اور مکالمے سجاد علی نے لکھے ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1