یہ ممتاز قادری، شرمین عبید اور بسراں بی بی کا پاکستان نہیں؟

یہ ممتاز قادری، شرمین عبید اور بسراں بی بی کا پاکستان نہیں؟
 یہ ممتاز قادری، شرمین عبید اور بسراں بی بی کا پاکستان نہیں؟

  

ایک دن میں تین خبروں نے کنفیوژ کر دیا ہے۔ کہ یہ کس کا پاکستان ہے۔ صبح صبح ممتاز قادری کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔ میں صبح چھ بجے جب اسلام آباد جانے کے لئے راوی کے پل پر پہنچا تو وہ بند تھا کہ ممتاز قادری کی پھانسی کی وجہ سے احتجاج شروع ہے۔ اس لئے جی ٹی روڈ بند ہے۔ جبکہ موٹر وے دھند کی وجہ سے بند تھی۔ ممتاز قادری کی پھانسی کی خبر ایک خاص مذہبی ذہن رکھنے والے لوگوں کے لئے شدید غم و غصہ کا باعث تھی۔ بعد میں شرمین عبید کی دوسری مرتبہ آسکر ایوارڈ جیتنے کی خبر آگئی۔ اس خبر نے ملک کے لبرل اور ترقی پسند طبقہ کی خو شی د وبالا کر دی۔ اور ترقی پسند و لبرل پھولے نہیں سما رہے تھے۔ شرمین عبید کا آسکر ان کے لئے دہلی فتح کرنے سے کم نہیں تھا۔ شام کو نئے تحفظ حقوق نسواں بل کے تحت لاہور کی بسرابی بی اپنے خاوند کے خلاف شکایت لیکر تھانہ گرین ٹاؤن پہنچ گئی۔

میں سوچ رہا ہوں کہ یہ نہ تو ممتاز قادری کا پاکستان ہے۔ نہ شرمین عبید کا پاکستان ہے۔ اور نہ ہی بسرا بی بی کا پاکستان ہے۔ ممتاز قادری پورے پاکستان میں ایک واحد مثال ہے جس کی کوئی دوسری مثال اور تقلید نہیں ملتی۔اگر یہ ممتاز قادری کا پاکستان ہو تا۔ تو چھ سال اس کا مقدمہ عدالت میں چلا ۔ ان چھ سالوں میں اس کے حق میں کوئی بڑی تحریک نہیں چل سکی۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ اس کی تاریخ پیشی پر لاکھوں نہیں تو ہزاروں لو گ اس سے اظہا ر یکجہتی کے لئے پہنچ گئے ہوں۔ یہ درست ہے کہ ایک محدود حلقہ میں ممتاز قادری کی حمایت موجود رہی ہے۔ کچھ مذہبی سیاستدان بھی ممتاز قادری کی حمایت کرتے نظر آئے۔ ایک سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے اپنے مخصوص نظریات کی وجہ سے ممتاز قادری کی وکالت کی۔ لیکن پھر بھی یہ سب اقلیت میں نظر آئے۔ پاکستان کی اکثریت کبھی کہیں بھی ممتاز قادری کی حما یت میں نظر نہیں آئی۔ ممتاز قادری کو کبھی پاکستان کی اکثریت نے بے گناہ نہیں سمجھا۔ اور نہ ہی اس کے عمل کی حمایت کی۔ ایک مذہبی اقلیت نے اس کے اقدام کو سراہا۔وہ ان کا لیڈر بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن اکثریت نے خود کو ممتاز قادری سے دور رکھا۔

ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد بھی ملک بھر میں احتجاج ہوئے ہیں ۔ سرکاری املاک کو نقصان پہنچا یا گیا۔ سڑکیں بلاک کی گئیں۔ لیکن وہ لوگ جو ممتاز قادری کے عمل اور اس کو درست سمجھتے ہیں۔ ان کے لئے بھی ممتاز قادری کو خراج تحسین پیش کرنے کا یہ درست اور صحیح طریقہ نہیں ۔ ان کو ممتاز قادری کو پر امن طریقہ سے خراج تحسین پیش کرنے کی مکمل آزادی ہے۔ اگر ایک لمحہ کے لئے ان کی منطق مان بھی لی جائے کہ ممتاز قادری بے گناہ تھا۔ تب بھی وہ پاکستان میں پہلا بے گناہ نہیں جسے پھانسی پر لٹکا یا گیا ہے۔ اس سے قبل بھٹو کی پھانسی بھی ایک متنازعہ پھانسی رہی ہے جبکہ اس عد ا لتی نظام میں خامیوں کی وجہ سے بہت سے گناہ گار بچ بھی جاتے ہیں اور بہت سے بے گناہ گرفت میں بھی آجاتے ہیں۔ اس لئے جمہوریت کی خوبصورتی اور اس کا حسن بھی یہی ہے کہ ممتاز قادری کے حامی بھی آئین وقانون کے دائرہ میں اس کو خراج تحسین پیش کر سکتے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ ممتاز قادری کی پھانسی پر پورا پاکستان اشکبار ہو۔

اسی طرح شرمین عبید بھی پاکستان کے ایک خا ص اور محدود طبقہ کی نمائندہ ہی ہو سکتی ہیں۔ وہ پاکستان کی اکثریتی خواتین کی نمائندہ نہیں ہو سکتیں۔ وہ جن مسائل کی طرف توجہ دلا رہی ہیں ۔ وہ پاکستان کی اکثریتی آبادی کے مسائل نہیں ہیں۔ یہ اکا دکا واقعات ہیں۔ جو مغرب کی توجہ حاصل کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ مغرب کے کلچر سے متصادم ہیں۔ شرمین عبید پاکستان میں مغربی کلچر کی نمائندہ تو ہو سکتی ہیں۔ لیکن وہ کسی بھی طرح پاکستان کے اکثریتی کلچر کی نمائندہ نہیں ہیں۔ غیرت کے نام پر قتل پاکستانی معاشرہ میں بہت کم ہیں۔ اس کی شرح دوسری وجوہات کی بناء پر ہونے والے قتل سے زیادہ نہیں۔ کیا جائیداد کے تنازعہ پر ہونے والے قتل غیرت کے نام پر ہونے والے قتل سے کم ہیں۔ کیا طیش میں آکر ردعمل میں ہونے والے قتل کی تعداد غیرت کے نام پر ہونے والے قتل سے کم ہے۔ پھر غیرت کے نام پر قتل ہی مغرب کا فوکس کیوں؟ یہ بھی درست ہے کہ پاکستان کی اکثریت غیرت کے نام پر قتل کی حامی نہیں ہے۔ جیسے وہ باقی کسی قتل کی حامی نہیں ہے۔ اگر غیرت کے نام پر قتل ٹھیک نہیں تو کسی بھی طرح کا قتل جائز نہیں۔ اس لئے شرمین عبید جس نظریہ کا پرچار کر ہی ہیں۔ وہ بھی میرا پاکستان نہیں ہے۔ یہ بھی ایک اقلیتی مسئلہ ہے۔ اور ایک اقلیت ہی اس کی حامی ہے۔

اسی طرح بسرابی بی کا تھانے جانا بھی کوئی ایسا اقدام نہیں، جس کی پورے پاکستان میں تائید ہو۔ ہمارے ملک میں نوے فیصد سے زیادہ خاندان معاشی مسائل کا شکار ہیں۔ ابھی ہمارے ملک کے خاندانی نظام میں گھر کی ساری معاشی ذمہ داری مرد پر ہی ہے۔ جبکہ ہم قانون ایک ایسے معاشرے کے بنا رہے ہیں جہاں مرد اور عورت معاشی ذمہ داریوں کو برابر نبھا تے ہیں۔

تینوں خبریں پاکستان کے عمومی معاشرہ کی عکاس نہیں ہیں، ہمارے مسائل ان سے بہت مختلف ہیں۔ اس طرح کی خبریں ہماری توجہ ہمارے اصل مسائل سے ہٹانے کے لئے اہم بنا دی جاتی ہیں۔

مزید : کالم