ملک میں خیانت اب بڑا جرم نہیں رہا،جسٹس عظمت سعید

ملک میں خیانت اب بڑا جرم نہیں رہا،جسٹس عظمت سعید

اسلام آباد(اے این این) سپریم کورٹ کے جسٹس شیخ عظمت سعیدنے کہا ہے کہ ہمارے ملک میں کرپشن اور خیانت کرنا بڑا جرم نہیں رہا ، فراڈ کے ملزمان پانچ لاکھ روپے اور دو بکرے دے کر بری ہوگئے ، نیشنل سیونگز میں فراڈ فوجداری جرم ہے،ایف آئی آر درج ہونی چاہیے تھی ، دو ہفتوں میں کارروائی سے متعلق آگاہ کیا جائے ۔ سپریم کورٹ میں نیشنل سیونگز کے افسر احسان بنگش کی کمپلسری ریٹائرمنٹ کیخلاف کیس کی سماعت جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی ۔ درخواست گزار کے وکیل عبدالرحمان صدیقی ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ نیشنل سیونگز کوہاٹ میں 5 لاکھ روپے کا فراڈ ہوا جس میں تین افراد کو نامزد کیا گیا جنہیں معمولی سزائیں دے کر چھوڑ دیا گیا ۔ فراڈ کیخلاف درخواست نہ ہونے کے باوجود احسان بنگش کو کمپلسری ریٹائرڈ کر دیا گیا ۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ نیشنل سیونگز میں فراڈ فوجداری جرم ہے ، اس کی ایف آئی آر درج ہونی چاہیے تھی ، کیا کوہاٹ میں ملکی قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا؟ ، حکومت بتائے کہ فوجداری جرم پر ذمہ داروں کیخلاف مقدمہ درج ہوا یا نہیں ۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ ملک میں خیانت یا کرپشن کرنا اب کوئی بڑا جرم نہیں رہا ۔ قومی بچت میں فراڈ کرنے والے پانچ لاکھ روپے اور دو بکرے دے کر چھوٹ گئے ۔ حکومتی وکیل نے استدعا کی کہ فوجداری کارروائی سے متعلق معلومات لینے کیلئے دو ہفتوں کا وقت دیا جائے ، عدالت نے استدعا منظور کر کے سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کر دی ۔

مزید : صفحہ اول