امریکہ کا ایک بار پھر دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں کا اعتراف

امریکہ کا ایک بار پھر دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں کا اعتراف

واشنگٹن ( مانیٹرنگ ڈیسک ،آئی این پی) امریکہ نے ایک بار پھر دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں کوتسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے لشکر طیبہ اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف موثر کاروائی کی ہے ، امریکا ضرب عضب آپریشن کی کامیابیوں کا اعتراف کرتا ہے، نیشنل ایکشن پلان پر پاکستان کی سنجیدگی کے معترف ہیں، اس وقت تمام دہشت گرد گروپ پاکستان کی خودمختاری کیخلاف سازشوں میں مصروف ہیں، افغان امن عمل میں پاکستانی کردار سے مطمئن ہیں،پاکستان سے توانائی کے شعبے میں بھی تعاون کر رہے ہیں،پاک امریکا اسڑیٹجک پارٹنر شپ آگے بڑھ رہی ہے جبکہ مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ دنیا جانتی ہے کہ پاکستانی عوام اور فورسز نے دہشتگردی کیخلاف بے انتہا قربانیاں دیں،پٹھانکوٹ حملے کی تحقیقات کیلئے پاکستان کی ٹیم آئندہ چند روز میں بھارت کا دورہ کرے گی جس کے بعد پاک بھارت خارجہ سیکرٹری مذاکرات جلد ہونگے، سیاسی اور معاشی لحاظ سے مستحکم پاکستان امریکہ کا بہترین ساتھی بن سکتا ہے،ضرب عضب کی کامیابی سب کے سامنے ہے،سیاسی اورمعاشی طورپرمستحکم پاکستان امریکا کے مفادمیں ہے،پاک امریکا تجارتی تعلقات میں بہتری کی ضرورت ہے،عالمی ادارے پاکستانی معیشت کی بہتری کااعتراف کررہے ہیں،راہداری منصوبے سے خطے کوبھی فائدہ ہوگا۔پیر کو واشنگٹن میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان سٹریٹجک مذاکرات کا چھٹا دور ہوا جس میں پاکستانی وفد کی قیادت مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور امریکی وفد کی قیادت جان کیری نے کی ۔مذاکرات کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا کہ تعلیم ، سائنس ،ٹیکنالوجی کے شعبوں میں پاکستان میں سرمایہ کاری کررہے ہیں ، ہم پاکستان سے توانائی کے شعبے میں بھی تعاون کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ تمام دہشت گرد گروپ پاکستان کی خودمختاری کے درپے ہیں ،ہم نیشنل ایکشن پلان پر پاکستان کی سنجیدگی کے معترف ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ امریکا ضرب عضب آپریشن کی کامیابیوں کا اعتراف کرتا ہے،افغانستان میں اس کے لئے پاکستانی کاوشوں کو سراہتا ہوں ،امریکا دنیا میں ایٹمی عدم پھیلاؤ کے لئے کوششیں کر رہا ہے ۔پاکستان کو بھی اس بات سنجیدگی سے لینا چاہیئے،امریکی جامعات بھی پاکستان میں اپنا کردار ادا کر ررہی ہیں،انہوں نے کہا کہ خواتین کی تعلیم کے لئے بھی امریکا پاکستان میں کردار ادا کر رہا ہے،پاک امریکا اسڑیٹجک پارٹنر شپ آگے بڑھ رہی ہے ۔ اس موقع پر مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ پاک امریکا اسٹریٹجک ڈائیلاگ پر جان کیری کا شکریہ ادا کرتا ہوں، پاکستان کی جیو پولیٹیکل صورتحال کو سمجھنے کی ضرورت ہے، امن کے لئے بھارت کی بڑھے ہیں اور تمام مسائل کا حل مذاکرا ت کے ذریعے چاہتے ہیں ، سرتاج عزیز نے کہا کہ معاشی ، سول ایشوز پر مشترکہ طور پر پانچ سال کے منصوبوں کی پلاننگ کر رہے ہیں اس سے دونوں ملکو ں کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے ۔سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان کی معیشت میں روزبروزبہتری آرہی ہے،سیاسی اورمعاشی طورپرمستحکم پاکستان امریکا کے مفادمیں ہے،پاک امریکا تجارتی تعلقات میں بہتری کی ضرورت ہے،عالمی ادارے پاکستانی معیشت کی بہتری کااعتراف کررہے ہیں،راہداری منصوبے سے خطے کوبھی فائدہ ہوگا، پاکستان میں امن وامان کی صورتحال بہترہورہی ہے، دوطرفہ تعلقات میں بہتری کے لئے جان کیری کے شکرگزارہیں، انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کے خواہاں ہیں،پاکستان افغان جنگ سے سب سے زیادہ متاثرہواہے،پاکستان کی معیشت میں روزبروزبہتری آرہی ہے، عالمی ادارے پاکستانی معیشت کی بہتری کااعتراف کررہے ہیں۔انھوں نے کہاکہ پٹھانکوٹ حملے کی تحقیقات کیلئے پاکستان کی ٹیم آئندہ چند روز میں بھارت کا دورہ کرے گی جس کے بعد پاک بھارت خارجہ سیکرٹری مذاکرات جلد ہونگے،یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ مذاکراتی عمل کی بحالی کا معاہدہ پٹھانکوٹ حملے کے بعد متاثر ہو اہے ۔

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے واضح کہا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت کے طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہا ہے اور وہ شمالی وزیرستان میں جس طرح دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کر رہا ہے وہ بہت قابل تعریف ہے۔ انہوں نے یہ بات پاکستان اور امریکہ کے درمیان سٹریٹجک ڈائیلاگ کے سالانہ اجلاس میں بتائی جس کا پہلا سیشن سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں شروع ہوا۔ قبل ازیں امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان کے مشیر خارجہ امور سرتاج عزیز کا استقبال کیا اور دو طرفہ خارجہ تعلقات کے اہم نکات پر تبادلہ خیال کیا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اس موقع پر سرتاج عزیز نے امریکہ کی طرف سے پاکستان کو آٹھ ایف 16 طیاروں کی فروخت کے عمل کو تیز کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ انسداد دہشت گردی کی فوجی مہم کیلئے یہ پاکستان کیلئے بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے آپریشن کو اس سے تقویت ملے گی اور اس طرح یہ عمل خطے میں امن کے استحکام میں بہت مددگار ثابت ہوگا۔ امریکی حکومت نے اسی مہینے میں پاکستان کی دفاعی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے آٹھ ایف 16 طیارے اور ان کے ساتھ ضروری راڈار اور الیکٹرانک سسٹم فروخت کرنے کی منظوری دی تھی۔ پاکستان طیارہ ساز کمپنیوں کو تقریباً ستر کروڑ ڈالر ادا کرے گا جبکہ ان کی کل قیمت ڈیڑھ ارب ڈالر کے قریب ہے۔ باقی رقم امریکی حکومت گرانٹ کے طور پر براہ راست ان کمپنیوں کو ادا کرے گی۔ امریکی قانون کے مطابق گرانٹ فراہم کرنے والے ایسے سودوں کی امریکی کانگریس کو توثیق کرنی ہوتی ہے اس لیے اوبامہ انتظامیہ نے فروخت کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کے بعد یہ ڈیل حتمی منظوری کیلئے کانگریس کو بھیج رکھی ہے جس کے پاس اسے مسترد یا منظور کرنے کی ایک ماہ کی مہلت ہے جو ابھی پوری نہیں ہوئی۔ کانگریس کی کمیٹیوں میں اس ڈیل پر بحث کے دوران متعدد سوال اٹھائے گئے تھے۔ اس دوران بھارت نے بھی اس ڈیل کی مخالفت کرتے ہوئے امریکہ پر زور دیا تھا کہ وہ یہ طیارے پاکستان کو فروخت نہ کرے کیونکہ اس سے برصغیر میں فوجی طاقت کا توازن بگڑ جائے گا تاہم امریکہ اپنے موقف پر برقرار ہے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری کانگریسی کی کمیٹیوں کو واضح طور پر بتا چکے ہیں کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ سرحد پر دہشت گردوں کے خلاف جو آپریشن کر رہا ہے یہ طیارے اس کو تقویت پہنچانے میں بہت اہم ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے جان کیری کے ساتھ مذاکرات کے دوران اوبامہ انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ کانگریس کو ان مثبت اقدامات کے بارے میں پوری طرح آگاہ کرے جو پاکستان امریکہ کے ساتھ باہمی مفادات کے حصول کیلئے اٹھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو زمینی حقائق کے بارے میں ہونے والی تبدیلیوں سے بھی آگاہ کرنا ضروری ہے جو گزشتہ دو اڑھائی سال میں پیدا ہوئی ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ نے پاکستانی مشیر کے ساتھ مذاکرات میں اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ پاکستان اور روس نے اپنے ایٹمی ذخیرے کو کم کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے مشیر خارجہ کو بتایا کہ وہ پاکستان کے وزیراعظم نوازشریف کی واشنگٹن میں مارچ کے مہینے میں امد کے منتظر ہیں جب وہ صدر اوبامہ کی میزبانی میں ہونے والی عالمی لیڈروں کی ایٹمی سکیورٹی کے حوالے سے سربراہ کانفرنس میں شرکت کریں گے۔

مزید : صفحہ اول