بھارت کیخلاف اورپاکستان کے حق میں نعرے بازی کرنے والوں کیخلاف ہوں

بھارت کیخلاف اورپاکستان کے حق میں نعرے بازی کرنے والوں کیخلاف ہوں

سری نگر(کے پی آئی) مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلی کانگریسی رہنماغلام نبی آزادنے کہاکہ کانگریس کوبھارتیہ جنتاپارٹی کی طرف سے قوم پرستی کے درس کی کوئی ضرورت نہیں ۔محمدافضل گوروکی پھانسی سے متعلق پی چدمبرم کے بیان کادفاع کرتے ہوئے سابق غلام نبی آزادنے دعوی کیاکہ سابق وزیرخزانہ نے کبھی یہ نہیں کہاکہ افضل گوروکوپھانسی دینے کافیصلہ غلط تھا۔انہوں نے جواہرلعل نہریونیورسٹی میں زیرتعلیم کسی کشمیری طالب علم کوہراساں نہ کئے جانے کی یقین دہانی کراتے ہوئے تاہم واضح کیاکہ میں بھارت کیخلاف اورپاکستان کے حق میں نعرے بازی کرنے والوں کیخلاف ہوں۔ سرینگرمیں اخبارنویسوں کے سوالات کاجواب دیتے ہوئے کانگریس کے سینئرلیڈراورراجیہ سبھامیں اپوزیشن کے لیڈرغلام نبی آزاد نے کہا کہ افضل گورو کی پھانسی کے بارے میں پی چدمبرم نے جو کچھ کہا اس کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اصل میں پی چدمبرم نے انٹرویو کے دوران کہیں پر بھی یہ نہیں کہا کہ افضل گورو کو پھانسی دینے کا فیصلہ غلط تھا بلکہ بقول غلام نبی آزاد سابق وزیر خزانہ مجموعی طور اس تاثر کا ذکر کر رہے تھے جس کے تحت لوگ عمر قید اور سزائے موت کے خلاف اپنے خیالا ت کا اظہار کرتے ہیں ۔ سابق وزیر اعلی اور کانگریس کے سینئر لیڈر کے بقول پی چدمبرم نے انٹرویو کے دوران کہا کہ میں خود اس وقت یو پی اے حکومت میں تھا اور افضل گورو کو پھانسی دینے کا فیصلہ لینے میں میں بھی شامل ہوں ۔ غلام نبی آزاد نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ کے والدین میں پائی جانے والی فکر و تشویش کے بارے میں بتایا کہ پارلیمنٹ کے اندر وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ کسی بھی معصوم طالب علم کو بلا وجہ تنگ نہیں کیا جائیگا تاہم غلام نبی آزاد کا کہنا تھا کہ وہ ذاتی طور ان لوگوں کے خلاف ہیں جو اس ملک میں رہ کر پاکستان کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کوئی مسلمان ہو یا ہندو یا کوئی دوسرا مذہب ماننے والا ، ہندوستان میں رہنے والے کسی بھی شخص کو اس ملک کے خلاف نہیں بولنا چاہئے ۔

انہوں نے کہا کہ جے این یو معاملے میں جو قصوروار ہوگا س کو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا اور جو بے قصو رہوگا اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی ۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد نے سوالات کے جواب میں بتایا کہ بھارت میں مذہبی رواداری عام تھی لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی اور مرکز میں اس کی سربراہی والی حکومت نے ملک بھر میں مذہبی عدم رواداری کے حوالے سے خطرناک صورتحال پیدا کردی ۔

مزید : عالمی منظر