سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کو اڈیالہ جیل میں پھانسی

سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کو اڈیالہ جیل میں پھانسی

راولپنڈی(جنرل رپورٹر/نیوز رپورٹر، اے این این ،مانیٹرنگ ڈیسک)پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیرکے قتل کے مجرم ایلیٹ فورس کے سابق اہلکار ممتازحسین قادری کوپانچ سال بعد اڈیالہ جیل میں تختہ دارپرلٹکادیاگیا،ضروری قانونی کارروائی کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کر دی گئی ، نماز جنازہ آج منگل کی دوپہر لیاقت باغ راولپنڈی میں ادا کی جائے گی،تفصیلات کے مطابق سابق گورنرپنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے مجرم ممتازقادری کی سزائے موت پر ہفتہ علی الصبح عملدرآمدکردیاگیاا سے پھانسی دینے والے شخص کو خصوصی گاڑی کے ذریعے اتوارکی شب ہی لاہور سے اڈیالہ جیل راولپنڈی پہنچایا گیا جبکہ عموماً پھانسی دینے والے جلاد کو دو دن پہلے آگاہ کیا جاتا ہے کہ اسے کس جیل میں قیدیوں کو تخت دار پر لٹکانا ہے۔ مقامی پولیس کے سینئر عہدیدار سجاد گوندل نے غیر ملکی میڈیا گفتگو کرتے ہوئے ممتاز قادری کو اڈیالہ جیل میں پھانسی دیے جانے کی تصدیق کی۔ممتازقادری کو پھانسی دیے جانے کا معاملہ انتہائی خفیہ رکھا گیا اور اس بارے میں پنجاب کے محکمہ جیل خانہ جات کے چند افسران ہی باخبر تھے۔ پھانسی سے قبل جیل میں ممتاز قادری کی اس کے اہلخانہ سے آخری ملاقات کروائی گئی جبکہ پھانسی کے بعد میت ورثا ء کے حوالے کردی گئی۔ میت گھر پہنچنے پر لوگوں کی بڑی تعداد وہاں جمع ہوگئی جبکہ اس کی پھانسی کا مساجد سے بھی اعلان کیا گیا جبکہ ممتاز قادری کے بھائی ملک عابد نے کہا کہ انہیں اپنے بھائی کی پھانسی پر کوئی افسوس نہیں ہے۔ ممتاز قادری کی سزائے موت پر عمل درآمد کے بعد جڑواں شہروں میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ۔ ممتاز قادری راولپنڈی کے معروف علاقہ صادق آباد کے رہائشی تھے، راولپنڈی کی انتظامیہ نے ممتاز قادری کو پھانسی کے بعد ان کے گھر کی طرف جانے والے تمام راستوں پر بھاری سیکیورٹی تعینات کر دی تھی لیکن پھر بھی شہریوں کی بڑی تعداد نے مرحوم کے گھر کا رخ کر لیا۔ ایلیٹ فورس کے سابق اہلکار ممتاز قادری گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی سکیورٹی پر تعینات تھے اور انھوں نے چار جنوری 2011 کو اسلام آباد کے علاقے ایف سکس میں سلمان تاثیر کو سرکاری اسلحہ سے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔ممتاز قادری کو راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر 2011میں دو مرتبہ موت کی سزا سنائی تھی۔سزا کے خلاف اپیل پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے فروری 2015 میں اس مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات تو خارج کر دی تھیں تاہم سزائے موت برقرار رکھنے کا حکم دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے بھی اسی فیصلے کو دسمبر 2015 میں برقرار رکھا اور صدر مملکت نے بھی ممتاز قادری کی رحم کی اپیل بھی مسترد کرد ی تھی۔

مزید : صفحہ اول