کیلی فورنیا میں نسل پرست گروہ اورمظاہرین کے درمیان تصادم، تین زخمی

کیلی فورنیا میں نسل پرست گروہ اورمظاہرین کے درمیان تصادم، تین زخمی

واشنگٹن(اے پی پی) امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا میں سفید فام نسل پرست گروہ اور ان کے مخالف مظاہرین کے درمیان تصادم کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوگئے ۔حکام کے مطابق تصادم لاس اینجلس کے نزدیک واقع شہر اینا ہائیم میں ہوا جہاں معروف تھیم پارک 'ڈزنی لینڈ' واقع ہے۔ایناہائیم پولیس کے ایک ترجمان نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ تصادم سفید فام نسل پرست گروہ 'کو کلکس کلین' کے حامیوں اور ان کے مخالف مظاہرین میں ہوا جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوئے ۔ترجمان کے مطابق 'کو کلکس کلین' کی مقامی شاخ نے امریکہ میں تارکینِ وطن کی آباد کاری کے خلاف مظاہرے کا اہتمام کیا تھا جس میں شرکت کے لیے تنظیم کے کئی ارکان وقت سے پہلے ہی مقررہ جگہ پہنچ گئے جہاں اس وقت تنظیم کے مخالفین کی جانب سے مظاہرہ کیا جارہا تھا۔پولیس کے مطابق مخالف مظاہرین نے نسل پرست تنظیم کے حامیوں کو گھیرکر نعرے بازی کی جس پر تصادم ہوا۔اسپتال ذرائع کے مطابق زخمی ہونے والے تینوں افراد کا تعلق 'کو کلکس کلین' کے مخالف مظاہرین سے ہے جن میں سے ایک شخص کو نسل پرست تنظیم کے ایک پرچم بردار رکن نے نوکیلے سرے والے ڈنڈے کے وار سے زخمی کیا۔دیگر دو افراد نسل پرست تنظیم کے کئی ارکان کے لاتوں اور گھونسوں کا نشانہ بننے کے نتیجے میں زخمی ہوئے ہیں جب کہ انہیں مبینہ طور پر چاقووں کے زخم بھی آئے ہیں۔علاقہ پولیس نے کلین کے چھ ارکان اور سات مخالف مظاہرین کو حراست میں لے لیا ہے جن کے خلاف، ترجمان کے مطابق، ہلاکت خیز ہتھیاروں سے حملے کرنے کے الزام میں قانونی کارروائی کی جارہی ہے۔کو کلکس کلین' نامی تنظیم 1866ء میں امریکہ کی جنوبی ریاست ٹینیسی میں قائم کی گئی تھی۔ ابتدا میں اس تنظیم کا مقصد آزادی حاصل کرنے والے افریقی نژاد غلاموں کو ڈرانا دھمکانا اور خوف زدہ کرنا تھا۔

بعدکے برسوں میں یہ تنظیم امریکہ کی قدامت پرست خیال کی جانے والی جنوبی ریاستوں میں خاصی مقبول ہوگئی تھی اور اس نے امریکہ بھر میں نسل پرستی کے خاتمے اور سیاہ فام باشندوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک کے خاتمے کی کوششوں کی سخت مزاحمت کی تھی۔

مزید : عالمی منظر