بھارت مخالف مظاہرے کرنے والے افراد کے خلاف اوپن ایف آئی آر درج

بھارت مخالف مظاہرے کرنے والے افراد کے خلاف اوپن ایف آئی آر درج

سری نگر(کے پی آئی)شمالی کشمیر میں پولیس نے شہریوں کے خلاف اوپن ایف آئی آر درج کر کے بھارت مخالف مظاہرے کرنے والے افراد کے تلاش شروع کر دی ہے ۔ جاری مزاحمتی تحریک کا قلعہ سمجھنے والے پلہالن میں پولیس کی جاری پکڑ دھکڑ کے بیچ ایک اوپن ایف آئی آر نوجوانوں کے سروں پر ایک لٹکتی تلوار کی مانند ہے اور پولیس کی جانب سے کئی مطلوب افرادکی تلاش بڑے پیمانے پر جاری ہے۔ پلہالن میں نوجوانوں کو مبینہ طور زیر کرنے کیلئے پولیس اسٹیشن پٹن میں کھلا ایف آئی آر درج کرکے رکھاگیا ہے اور جو کوئی بھی پتھرا یا امن و قانون سے متعلق اس سے سنگین جرائم میں مطلوب ہوتا ہے ،اس کو اس ایف آئی آرمیں درج کیاجاتا ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ اصل میں گزشتہ برس اگست کے مہینے میں ڈی ایس پی پٹن پر پتھرا کے دوران حملہ کرکے انہیں زخمی کیاگیا جس کے بعد اس حملہ کی نسبت پولیس اسٹیشن پٹن میں ایک کھلا ایف آئی آر درج زیر نمبر 186/2015محرر27اگست 2015درج کیاگیا، جس کے پیش نظر لوگوں ،خاص کر نوجوانوں پر ننگی تلوار لٹک رہی ہے اور کئی مطلوب افراد کی بڑے پیمانے پر تلاش جاری ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی بھی شہری کو اس ایف آئی آر میں ملوث ٹھہرا کر گرفتار کیاجاسکتا ہے۔

اور اب تک چار لوگوں کو اس ایف آئی آر کے تحت گرفتار کیا جاچکا ہے جن پر پبلک سیفٹی ایکٹ کا اطلاق بھی کیا گیا ۔ گرفتار ہونے والوں میں باسط احمد پیر،عادل احمد گوجری ،محمد اشرف تانترے اورعادل احمد میرشامل ہیں اور ان سبھی کا نام انہیں پکڑنے کے بعد اس کیس میں شامل کیاگیا ۔ذرائع نے بتایا کہ اس کھلے ایف آئی آر کو ایسے ہی اس لئے رکھاگیا تاکہ بوقت ضرورت اس کا استعمال کیاجاسکے اور اب تک چونکہ چار لوگ اس کیس کے تحت گرفتار ہوچکے ہیں ،لہذا مستقبل میں امن و قانون کی صورتحال پیدا ہونے کے نتیجہ میں اس ایف آئی آر کے تحت مزید گرفتاریوں کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ یہ چاروں طلباہیں جن کی عمر بیس سال سے زیادہ نہیں ہے۔محمد وسیم نامی ایک نوجوان نے بتایا کہ کھلا ایف آئی آر پلہالن کے نوجوانوں کے سروں پر ہر دم لٹکتی تلوار کی مانند ہے اور انہیں ہمہ وقت یہ خوف طاری رہتا ہے کہ اگر انہیں گرفتار کیاجائے گا تو انہیں اس کیس میں ملوث ٹھہرایا جائے گا۔وسیم کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے پلہالن کے نوجوانوں کی پکڑ دھکڑ تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے اور نہ صرف اس کھلے ایف آئی آر کے تحت مزید گرفتاریاں ممکن ہیں بلکہ نوجوانوں کو دیگر کیسوں میں بھی گرفتار کرنے کے جتن کئے جارہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی اس کارروائی کے نتیجہ میں نوجوان طلاب میں خوف و دہشت کی لہر دوڑ گئی ہے اور اس کے نتیجہ میں نوجوان نسل میں بیزاری بڑھ رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پولیس کی ایسی ہی کارروائیوں کی وجہ سے اب تک کئی نوجوان بعد میں عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہوگئے اور اگر آج بھی یہی سلسلہ جاری رہا تو مستقبل میں بھی پکڑ دھکڑ سے تنگ آکر نوجوانوں کی جانب سے عسکریت پسندوں کی صفوں میں شمولیت کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا ۔قابل ذکر ہے کہ پلہالن میں آئے روز سیکورٹی فورسز اور نوجوانوں کے درمیاں جھڑپوں اور پتھرا کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں جبکہ ہڑتال اور مظاہرے وہاں کا معمول بن چکے ہیں تاہم مقامی لوگ فورسز کو اس کیلئے ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔حبیب اللہ نامی ایک معمر شہری کا کہنا ہے کہ اکثر و بیشتر فورسزاہلکار پتھرا کے معمولی سے واقعات کے دوران گاں میں گھس کر توڑ پھوڑ مچادیتے ہیں جس کی وجہ سے لوگ مشتعل ہوجاتے ہیں اور پھر حالات سنگین رخ اختیار کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اگر پولیس اور فورسز صبر و تحمل سے کام لیں گے تو پھر حالات خراب ہی نہیں ہونگے ۔حبیب اللہ کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کا خون گرم ہوتا ہے اور وہ فوری طور مشتعل ہوجاتے ہیں ۔ان کا کہناتھاکہ نوجوانوں کو پشت بہ دیوار کرنے کی بجائے اگر انہیں اپنانے کی کوشش کی جائے تو پلہالن میں حالات کافی حد تک بہتر ہوسکتے ہیں ۔اس ضمن میں انہوں نے فوج کی جانب سے پلہالن میں حالیہ ایام میں ہیلتھ کلب کے قیام کو احسن اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے فورسز اور عام لوگوں کے درمیان تال میل بہتر ہوسکتا ہے تاہم انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس پلہالن میں حالات کو معمول پر آتا دیکھنا نہیں چاہتی ہے اور اسی وجہ سے گاں میں زور زبر دستی اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے ۔

مزید : عالمی منظر