مقبوضہ کشمیر میں مسلمان افسران کو نظم ونسق کے اہم عہدوں سے محروم رکھا جارہا ہے،کشمیر اکنامک الائنس

مقبوضہ کشمیر میں مسلمان افسران کو نظم ونسق کے اہم عہدوں سے محروم رکھا جارہا ...

سرینگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں تاجروں کی تنظیم کشمیراکنامک الائنس نے بھارت اور کشمیر کے سول سیکرٹریٹ میں اقتدار کی راہداریوں سے مسلمان افسران کو باضابطہ منصوبندی کے تحت نکالنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق کشمیر اکنامک الائنس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ مہاراشٹرہ میں ہندو انتہا پسندایک پولیس اہلکار کو اس کی داڑھی کی وجہ سے گالیاں دیتے اور اس کی داڑھی منڈواکے سڑک پر گھسیٹتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی حکمت عملی سول سیکرٹریٹ میں اپنائی جارہی ہے جہاں اہم عہدوں پرمسلمان افسران کو کرسیوں سے دور رکھا جارہاہے۔کشمیراکنامک الائنس کے چےئرمین محمد یاسین خان نے کہا کہ گزشتہ ایک سال سے مسلمان افسران کو اہم عہدوں سے محروم رکھا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں کے علاقے سروڑے میں غریب مسلمانوں کے گھروں کو اس لئے تباہ کیا گیا کیونکہ افسر شاہی میں ان کی آواز سننے والا کوئی نہیں تھا جو ہندو انتہا پسندوں کے ایجنڈے پر عملدرآمد کے بجائے انسانیت کی بنیاد پر انکے کیس کی پیروی کرتا۔ انہوں نے 2005ء میں جاری سچر کمیٹی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں بھارت میں مسلمانوں کی حالت شیڈول کاسٹ اورشیڈول ٹرائبس سے بھی بد تر بتائی گئی ہے اور اب یہی امتیاز مسلم اکثریت والے جموں وکشمیر کے ساتھ برتا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی بیوروکریسی میں صرف ڈھائی فیصد مسلمان پائے جاتے ہیں جبکہ بھارت میں مسلمانوں کی تعداد چودہ فیصد سے بھی زیادہ ہے جبکہ کشمیر کی بیورو کریسی میں مسلمانوں کا حال اس سے بھی برا ہے۔ کشمیر اکنامک الائنس کے چےئرمین نے کہا کہ مسلمان افسران کو چن چن کر نکالا جارہا ہے اورایسا لگتا ہے کہ یہ ہندو انتہا پسندوں کی سازش ہے جومقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریتی حیثیت کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔

مزید : عالمی منظر