یونان کو افراتفری کا شکار نہیں ہونے دے سکتے‘جرمن چانسلر

یونان کو افراتفری کا شکار نہیں ہونے دے سکتے‘جرمن چانسلر

بر لن(آن لائن)یورپ کا رخ کرنے والے پناہ گزینوں اور تارکینِ وطن کے معاملے پر یورپی یونین کے رکن ممالک کے اختلافات کے باوجود جرمن چانسلرانجیلا مر کل نے کہا ہے کہ یورپ یونان کو ’افراتفری‘ کا شکار نہیں ہونے دے سکتا۔ جرمن ٹی وی اے آر ڈی سے بات کرتے ہوئے انجیلا مر کل نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے ارکان نے یونان کو یورو کرنسی کا رکن رکھنے کی جنگ اس لیے نہیں لڑی تھی کہ اب سے یوں مصیبت میں اکیلا چھوڑ دیا جائے۔چانسلر نے ملک میں اپنی مقبولیت میں کمی کے باوجود ایک مرتبہ پھر پناہ گزینوں کے لیے جرمن سرحد کھولنے کے فیصلے کا دفاع بھی کیا۔جرمنی میں گذشتہ برس دس لاکھ سے زیادہ افراد پناہ لینے کے لیے داخل ہوئے جس کے بعد ملک کے حکمران اتحاد میں بھی اس وجہ سے اختلافات سامنے آئے ہیں۔ انہو ں نے نے پناہ گزینوں کی تعداد محدود کرنے کی تجویز رد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس کوئی ’دوسرا منصوبہ‘ نہیں اور وہ یہ راستہ تبدیل کرنے والی نہیں ہیں۔یونان کے معاملے پرانجیلا مر کل کا کہنا تھا کہ ’کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یورو کرنسی والی وہ تمام ریاستیں جنھوں نے گذشتہ برس یونان کو یورو زون میں شامل رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی تھی، ایک برس بعد یونان کو افراتفری کا شکار ہونے دیں گی؟‘یونان اس وقت وہ مرکزی دروازہ ہے جس سے پناہ گزین یورپ میں داخل ہو رہے ہیں اور اس نے آسٹریا اور دیگر ممالک کی جانب سے سرحدی پابندیوں پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔یونان نے ان ممالک کی جانب سے پناہ گزینوں کے بحران پر منعقدہ اہم اجلاس میں مدعو نہ کیے جانے پر آسٹریا سے اپنا سفیر بھی واپس بلا لیا ہے۔یورپ میں پناہ گزینوں کے بحران پر ایک اہم اجلاس ترکی اور یورپی یونین کے رکن ممالک کے درمیان سات مارچ کو منعقد ہو رہا ہے جس کے بعد اسی ماہ ایک سربراہ اجلاس بھی ہوگا۔

مزید : عالمی منظر