بغداد کے سٹی بازار میں 2خودکش حملے، 76ہلاک، 100زخمی

بغداد کے سٹی بازار میں 2خودکش حملے، 76ہلاک، 100زخمی

بغداد(این این آئی) عراق کے دارالحکومت بغدادمیں دو خودکش حملوں کے نتیجے میں 76 افراد ہلاک جب کہ100 سے زائد زخمی ہوگئے،واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اورمزید حملوں سے بچنے کے لیے علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی ،جب کہ امدادی ٹیموں نے جائے وقوعہ سے زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جہاں بیشتر افراد کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے،دو خود کش بمباروں نے شہر کے شیعہ آبادی والے علاقے صدر سٹی کو نشانہ بنایا گیا،حملوں کی ذمہ داری جنگجو تنظیم داعش نے قبول کرلی ہے،برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق گزشتہ روز عراق کے دارالحکومت بغداد کے علاقے صدر سٹی کے بازارمیں دو خودکش حملوں کے نتیجے میں 76 افراد ہلاک جب کہ100 سے زائد زخمی ہوگئے، واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جب کہ امدادی ٹیموں نے جائے وقوعہ سے زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جہاں بیشتر افراد کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے،عراقی سیکیورٹی فورسز کے مطابق پہلا خود کش حملہ اس وقت کیا گیا جب بازار میں لوگ خریداری میں مصروف تھے، دھماکے کے بعد جیسے ہی سیکورٹی فورسز اور امدادی ٹیمیں پہنچیں تو دوسرے حملہ آور نے بھی خود کو دھماکے سے اڑالیا ،عراقی حکام کے مطابق دولتِ اسلامیہ شمالی اور مغربی عراق کے بڑے حصے پر قابض ہے اور حالیہ دنوں میں اس نے متعدد بار ملک کی شعیہ آبادی کو نشانہ بنایا ۔حکام کے مطابق حال ہی میں بغداد میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں میں یہ حملے سب سے شدید ہیں۔عراقی حکام کا کہنا تھا کہ مزید حملوں سے بچنے کے لیے علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی ہے،خیال رہے کہ اکثر بم دھماکے کے بعد جب جائے وقعہ پر لوگ اکھٹے ہوتے ہیں تو عسکریت پسند مزید دھماکے کرتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ جانی نقصان ہو۔جمعرات کو بغداد کی ایک شیعہ مسجد پر کیے جانے والے بم حملے کی ذمہ داری بھی دولتِ اسلامیہ نے قبول کی تھی۔ اس حملے میں 15 افراد ہلاک ہوئے تھے۔دولتِ اسلامیہ کی جانب سے انٹرنٹ پر جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ ملک کی شیعہ آبادی پر حملے جاری رکھیں گے۔

جب کہ حملوں کی ذمہ داری جنگجو تنظیم داعش نے قبول کرلی ہے،سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے بیان میں خود کو نام نہاد دولتِ اسلامیہ کہنے والے گروہ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مزید حملوں کی دھمکی دی ہے۔

مزید : عالمی منظر