پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی پر موٹر سائیکل سواروں نے جشن منایا

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی پر موٹر سائیکل سواروں نے جشن منایا

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ایک مرتبہ پھر کم ہوگئی ہیں۔ جب سے قیمتوں میں کمی کا سفر شروع ہوا ہے پٹرول کی قیمت میں بیک مشت آٹھ روپے فی لیٹر کی کمی تو شاید پہلی مرتبہ ہوئی ہے، شاید یہی وجہ تھی کہ جونہی یہ خبر آئی تو پٹرولیم مصنوعات استعمال کرنے والوں کے چہروں پر رونق آگئی، سڑکوں پر کاروں سے زیادہ موٹر سائیکلیں دوڑتی ہیں اس لیے موٹر سائیکل سواروں نے اس کا زبردست خیرمقدم کیا اور سڑکوں پر ایک طرح سے جشن کا سماں تھا۔ حکومت کا تو کہنا ہے کہ اس وقت پٹرول کی قیمتیں خطے میں سب سے کم ہیں، گزشتہ ماہ جب حکومت نے قیمتیں پانچ روپے لیٹر کم کی تھیں تو اپوزیشن جماعتوں نے اس کمی کو ناکافی قرار دیا تھا اور مزید کمی کا مطالبہ کیا تھا، اپوزیشن کا موقف ہے کہ اگر پٹرول پر ٹیکس کم کردیئے جائیں تو قیمتیں مزید کم ہوسکتی ہیں لیکن حکومت غالباً یہ سوچتی ہے کہ تیل کی عالمی قیمتوں کے حوالے سے موج میلے کے یہ دن ہمیشہ نہیں رہیں گے اور کوئی نہ کوئی جھٹکا ایسے لگے گا جو قیمتوں کو پھر پر لگا دے گا تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ رواں سال قیمتوں میں اضافے کا امکان کم ہے، سال کے آخر میں شاید قیمتوں میں اضافہ ہو یا پھر اگلے سال کے شروع میں۔ اس وقت عالمی مارکیٹ میں تیل کی سپلائی میں اس لیے بھی اضافہ ہوگیا ہے کہ ایران پر عالمی اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے بعد ایران ے تیل کی پیداوار بڑھا دی ہے کیونکہ اس کے تیل کے خریداروں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ایران دنیا میں سعودی عرب کے بعد سب سے زیادہ تیل برآمد کرنے والا ملک ہے۔ ایران فی الحال تیل کی پیداوار بڑھائے رکھے گا اس لیے سال رواں میں تیل مناسب نرخوں پر ملتا رہے گا۔ تیل کی قیمتوں میں کمی سے پاکستان کی معیشت کو خاصا سہارا ملا ہے، درآمدی بل میں معتد بہ کمی آگئی ہے، اس کی وجہ سے ہر ماہ تین سو یونٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والوں کو بھی ریلیف مل رہا ہے تاہم یہی وقت ہے جب اس وقت سے پہلے پہلے درست منصوبہ بندی کرلی جائے جب قیمتیں دوبارہ بڑھنے لگیں، لیکن شیل گیس کی وجہ سے اب قیمتیں پہلے والی ہائی پچ پر شاید ہی جائیں۔ قیمتوں میں کمی کا فائد براہ راست پٹرولیم مصنوعات استعمال کرنے والوں کو تو ضرور ہو رہا ہے لیکن ٹرانسپورٹروں نے اس کمی کا فائدہ گراس روٹ لیول تک منتقل نہیں کیا۔ کرائے یا تو سرے سے کم نہیں کئے گئے یا بہت معمولی شرح سے کمی کی گئی ہے۔ مسافر بسوں ویگنوں وغیرہ اور ٹرانسپورٹ گڈز کے کرائے بھی کم نہیں ہوئے۔ ایل این جی کی قیمتیں بھی کافی کم ہوگئی ہیں، لیکن رکشوں کے کرائے بھی کم نہیں ہوسکے۔ اضلاع کی انتظامیہ کو اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ٹرانسپورٹ کے کرائے کم ہوں۔ اسی طرح اشیائے صرف بھی اب کم قیمت پر ایک مقام سے دوسرے مقام تک جائیں گی، اس لیے ان کی قیمتیں بھی کم ہونی چاہئیں۔ جب پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو ٹرانسپورٹر کوئی وقت ضائع کئے بغیر کرائے بڑھا دیتے ہیں لیکن پٹرول کی قیمتیں مسلسل کم ہو رہی ہیں تو انہوں نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور انتظامیہ بھی پراسرار طور پر کوئی کردار ادا نہیں کر رہی حالانکہ فوری ضرورت اس بات کی ہے کہ کرائے کم کئے جائیں۔ اوگرا نے اس بار کمی کا جو فارمولا پیش کیا تھا اس میں تمام پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرنے کی سفارش کی تھی تاہم مٹی کے تیل کی قیمت بڑھانے کی سفارش بھی کی گئی تھی جسے وزیراعظم نے قبول نہیں کیا۔

اسلام آباد میں مشترکہ مفادات کی کونسل (سی سی آئی) کے اجلاس میں خلاف توقع مفاہمت کی فضا غالب رہی۔ اس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ صوبہ خیبر پختونخوا کا ایک بڑا مطالبہ جو ہائیڈل بجلی کی رائلٹی سے متعلق تھا اجلاس سے پہلے ہی مانا جاچکا ہے اور رائلٹی کے 70 ارب روپے کے بقایا جات اقساط میں صوبے کو ادا کرنے کا وعدہ کیا جاچکا ہے۔ یہ سب کچھ زبانی نہیں، تحریری ہوا اور خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک اس سے مطمئن تھے۔ یہ معاہدہ نہ ہوا ہوتا تو غالباً خٹک صاحب یہ معاملہ اس اجلاس میں اٹھاتے، لیکن اجلاس سے پہلے ہی یہ مسئلہ اطمینان بخش طور پر حل ہونے کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے مثبت اثرات مشترکہ مفادات کی کونسل کے اس اجلاس پر بھی پڑے۔

اجلاس میں مفاہمانہ فضا اس لیے بھی نظر آئی کہ وزیراعظم نوازشریف نے کراچی میں گرین لائن بس ماس ٹرانزٹ سسٹم کا سنگ بنیاد رکھا ہے۔ یہ منصوبہ 17 ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہوگا اور اٹھارہ کلومیٹر سے زیادہ لمبا ہوگا۔ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ شہری اس سے استفادہ کرسکیں گے۔ کراچی کا ٹرانسپورٹ سسٹم بہت ناقص ہے اور اس میں اصلاح کی کوششیں ہمیشہ ناکام رہتی ہیں کیونکہ ٹرانسپورٹ کے پرائیویٹ مالکان ہر اس منصوبے کو ناکام کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ان کے کاروبار پر اثرانداز ہوتا ہو۔ یہ منصوبہ اگر مکمل ہوگیا تو کراچی کے شہریوں کیلئے بہترین سفری سہولتیں فراہم کرے گا، جو اس وقت پرائیویٹ بسوں اور منی بسوں میں پیک ہوکر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ کراچی دنیا کے 76 ملکوں کی آبادی سے زیادہ آبادی والا کاسمو پولیٹن شہر ہے، ایسے شہروں میں دنیا بھر میں ماس ٹرانزٹ سسٹم ہی لوگوں کے سفر کا ذریعہ ہے، لیکن عجیب اتفاق ہے ہمارے ہاں اسے ایک خصوصی عینک سے دیکھا جا رہا ہے اور لاہور کی اورنج لائن تو نکتہ چینی کا خصوصی ہدف ہے۔

انہی وجوہ کی بنا پر مشترکہ مفادات کی کونسل کے اجلاس میں کوئی گرمی سردی یا تلخی نہیں ہوئی، مردم شماری اگرچہ موخر ہوئی لیکن اس پر بھی وفاقی حکومت کے نقطہ نظر کو درست سیاق و سباق میں سمجھا گیا۔ سندھ کی حکومت اگرچہ مقررہ وقت پر مردم شماری کا کام شروع کرانے کی خواہشمند تھی تاہم فوج اس مقصد کیلئے فی الحال دستیاب نہیں تھی اس لیے یہی فیصلہ ہوا کہ چھٹی مردم شماری موخر کردی جائے اور نئی تاریخ کا فیصلہ صوبوں کی مشاورت سے کیا جائے گا۔ اجلاس میں ایک اہم فیصلہ یہ کیا گیا کہ کسی منصوبے کی دستاویزات پوری ہونے سے پہلے اس کیلئے فنڈز ریلیز نہیں کئے جائیں گے تاکہ کسی قسم کی فنانشل بے قاعدگی نہ ہو، فنانشل ڈسپلن لانے کیلئے یہ فیصلہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔

اجلاس میں ایل پی جی پالیسی کی بھی منظوری دیدی گئی۔ نئی پالیسی سے گیس کا گھریلو سلنڈر چار سو روپے تک سستا ہونے کا امکان ہے۔ نئی پالیسی کے تحت وفاقی حکومت گھریلو اور کمرشل سلنڈر کی قیمت مقرر کرے گی اس طرح من پسند قیمت مقرر کرنے کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔گزشتہ 9 برس سے ایل پی جی کی قیمت مارکیٹنگ کمپنیاں مقرر کرر ہی تھیں۔

مزید : تجزیہ