قصور :مسلح افراد کی سینئر صحافی جاوید ملک اور اسکے بیٹے پر فائرنگ

قصور :مسلح افراد کی سینئر صحافی جاوید ملک اور اسکے بیٹے پر فائرنگ

قصور(بیورورپورٹ)فیروز پور روڈ کالی پل کے قریب دو نامعلوم مسلح افراد نے سینئیر کالم نویس بیوروچیف خبریں جاوید ملک اور اس کے بیٹے سارنگ جاوید ملک کی کار پر فائرنگ کردی مگر وہ معجزانہ طور پر فائرنگ کی زد سے بچ گئے۔ تفصیل کے مطابق سینئیر صحافی جاوید ملک اپنے صاحبزادے سارنگ جاوید ملک کے ہمراہ 9:25بجے کے قریب فیروز پور روڈ کالی پل سے گزر رہے تھے کہ دو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر دی گاڑی کو لگنے والا فائر گاڑی کے آر پار ہوگیا مگر اللہ تعالیٰ نے باپ اور بیٹے کو خراش تک نہیں آنے دی۔ مگر دونوں نے موت کو قریب سے دیکھا ہے قصور پریس کلب کے صدر خادم علی کھوکھر، چئیرمین الحاج شوکت نقشبندی، صدر یونین آف جرنلسٹس شیخ محمد حسین، سینئیر نائب صدر منصب علی بھٹی، جنرل سیکرٹری رفیق نثار، جنرل سیکرٹری فضل حسین بھٹہ، جنرل سیکرٹری مہر محمد شفیق ،جوائنٹ سیکرٹری مہر لیاقت علی و دیگر صحافیوں نے جاوید ملک پر قاتلانہ حملے کو آزادی صحافت کے منافی قرار دیا یہ حقیقت پر مبنی خبریں شائع کرنے پر قدغن لگانے کے مترادف ہے قصور کے شہریوں ،انجمن تاجران کے نمائندوں ،وکلاء، سیاسی، سماجی اور مذہبی تنظیموں نے اس واقعہ کی پر زور مذمت کرتے ہوئے ڈی پی او قصور سے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے واضع رہے کہ جاوید ملک پر اس سے قبل بھی ان کی فیملی اور ان پر قاتلانہ حملے ہوتے رہے ہیں مگر ملزمان تا حال گرفتار نہیں ہو سکے اسی وجہ سے وہ اپنے اوپر ہونیوالے قاتلانہ حملے کا مقدمہ کے اندراج کیلئے پولیس کو کوئی تحریری درخواست نہیں دی مگر ڈی پی او قصور سید علی ناصر رضوی کے ساتھ گفتگو ہونے کے بعد مقدمہ کے اندراج کیلئے تحریری درخواست دے دی ہے کیونکہ ڈی پی او قصور ضلع قصور کے عام آدمی کو انصاف دلانے کیلئے 18گھنٹے دفتر میں کام کرتے ہیں جاوید ملک ایک سینئیر کالم نویس ،حق سچ لکھنے والا صحافت کا درخشندہ ستارہ ہے اسے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے۔ ڈی پی او قصور سیدعلی ناصر رضوی نے جاوید ملک کے دفتر میں صدر پریس کلب قصور خادم علی کھوکھر ،چئیرمین الحاج شوکت نقشبندی، صدر یونین آف جرنلسٹس شیخ محمد حسین، سیکرٹری محمد رفیق نثار، سیکرٹری فضل حسین بھٹہ، سیکرٹری مہر محمد شفیق، جوائنٹ سیکرٹری مہر لیاقت علی و دیگر صحافیوں کو یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ صحافیوں اور میڈیا کی آ زادی کا ہر ممکن تحفظ کیا جائیگا انکی پیشہ وارانہ خدمات کی راہ میں آنیوا لی رکاوٹوں کو بر داشت نہیں کیا جائے گا ۔ سینئر صحافی ،بیو رچیف خبریں جاوید ملک پر قاتلانہ حملہ کر نے والوں کا سراغ چوبیس گھنٹوں کے اندر لگا کر فائرنگ کر نے والے ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا ۔فائرنگ واقعہ کی نگرانی میں خود کر رہاہوں ۔انہوں نے کہا کہ وہ تفتیش میں سائینٹیفک طریقوں اور آ ئی ٹی سے مدد حاصل کرکے ملزموں کو قانون کے شکنجے میں لائیں گے ۔انہوں نے جاوید ملک کی سچی ۔کھری ،اصولوں پر مبنی ،بے لاگ ،ایماندارانہ صحافتی خدمات کو سراہا ۔اس موقع پر انہوں نے یہ یقین بھی دلایا کہ 15پر بار بار کالز کر نے کے باوجود کوئی Respondنہ کر نے پربھی انکوائری کی جا رہی ہے جو اہلکار بھی غیر ذمہ داری ،، فرائض میں غفلت کا مرتکب پایا گیا تو اسکے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا ۔انکے ساتھ عدم تعاون اور بد اعتمادی پیدا کر نے والے اہلکاروں کیخلا ف بھی کاروائی عمل میں لائی جائیگی ۔کیونکہ عوام خصو صاََ صحافیوں کے جان و مال عزت وآ برو کی پولیس پر ذمہ داری عائد ہو تی ہے ۔

مزید : علاقائی