تھانہ مانگامنڈی سے فرار ہونیوالے دو ملزمان گرفتار،جیل بھیج دیاگیا

تھانہ مانگامنڈی سے فرار ہونیوالے دو ملزمان گرفتار،جیل بھیج دیاگیا

مانگامنڈی (نمائندہ خصوصی) قتل ہونے والے کے لواحقین بابا محمد دین ولد نظام ڈوگر ،بابا محمد شفیع ولد سلطان ڈوگر نے الزام عائد کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ تھانہ مانگا منڈی کی حوالات سے 5روز قبل تالے توڑ کر فرار ہونے والے تین خطرناک ملزمان میں سے قتل میں ملوث دو خطرناک ملزمان کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا تیسر ے کا علم نہ ہے۔ انوسٹی گیشن انچارج کا موقف سجاد ارشد۔تفصیلات کے مطابق 5روز قبل تین خطرناک ملزمان تھانہ مانگا منڈی کی حوالات سے تالے توڑ کر فرار ہو گئے، انوسٹی گیشن انچارج سجاد ارشد نے مقامی صحافیوں کے سوالوں کا جواب سخت الفاظ میں دیتے ہوئے بتایا کہ جو میرے ذمہ قتل میں ملوث خطرناک ملزموں کوگرفتار کرنا تھاتو میں نے ان دونوں ملزموں صابر حسین اور ریاست علی کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا ہے۔ تیسرے فرار ہونے والے محمد عاشق کا مجھے کوئی علم نہ ہے وہ اپریشن والوں کو معلوم ہے بلکہ تیسرا فرار ہی نہیں ہوا میڈیا اور پریس والوں نے جھوٹی خبریں شائع کرکے الزام تراشی کی ہے۔ اصل حائق کے مطابق معلوم ہوا ہے کہ ڈکیتی میں مذاحمت پر ایک افراد کو قتل کرنے میں ملوث جس کا نام محمد عاشق بتایا گیا ہے مبینہ طور پر فرار ہو گیا تھا مگر ابھی تک وہ گرفتار نہیں ہو سکا ۔انوسٹی گیشن انچارج سجاد ارشد نے صحافیوں کو دھمکی امیز الفاظ میں کہا کہ پہلے بھی کئی تھانوں میں پریس والوں نے ہمارے خلاف پورے پورے صفحات پر خبریں شائع کیں ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکے آپ بھی ہمارے خلاف شائع کرکے دیکھ لیں مجھے آپ کی خبریں سے کوئی خوف نہ ہے۔ تھانہ مانگامنڈی پولیس کی لاپرواہی کی وجہ سے ملزمان فرار ہوئے تھے مگر انوسٹی گیشن انچارج اور تھانہ اپریشن انچارج اور ڈیوٹی پر موجود نائب محرر منشی نے اپنے آپ کو بچانے کیلئے مین گیٹ پر کھڑے سپاہی سنتری محمد سرور پر تمام الزام ڈال کر اس کے خلاف کاروائی شروع کر دی۔ سنتری محمد سرور نے صحافیوں کو بتایا کہ میں بے گناہ ہوں ،انچارج آپریشن محمد افضل سندھو سے موبائل پر رابطہ کیا تو انہوں نے ٹیلی فون اٹھانا گوراہ ہی نہ کیا ۔معلوم ہوا ہے کہ ملزم محمد عاشق مبینہ طور پر ابھی تک فرار ہے ۔

مزید : علاقائی