ممتاز قادری کے بارے فیصلے میں حکومت نے جلد بازی سے کام لیا،عبدالغفار روپڑی

ممتاز قادری کے بارے فیصلے میں حکومت نے جلد بازی سے کام لیا،عبدالغفار روپڑی

لاہور(نمائندہ خصوصی) امیر جماعت اہل حدیث پاکستان حافظ عبدالغفار روپڑی نے کہا ہے کہ ممتاز قادری کے بارے فیصلے میں حکومت نے جلد بازی سے کام لیا۔قرآن و سنت سے استدلال اور علماء کرام کے بورڈ سے مشاورت کے بعد معاملے کا حل نکالا جانا چاہیے تھا۔ پھانسی کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز سابق گورنر سلمان تاثیر کو قتل کرنے کی پاداش میں تختہ دار پر لٹکائے جانے والے ممتاز قادری کی پھانسی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حرمت رسول کیلئے آواز اٹھانے والوں پر قانونی شکنجے کسنے پر ہمیں شرم آنی چاہیے۔ گفتگو کرتے ہوئے حافظ عبدالغفار روپڑی نے کہا کہ حالیہ واقعہ سے مذہبی طبقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ملک نازک ترین صورتحال میں ہے اور دیگر مذہبی منافرت و مظاہروں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

دریں اثناء گفتگو کرتے ہوئے حافظ عبدالغفار روپڑی نے خواتین کے حقوق بارے بل کی منظوری کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ دین اسلام نے عورت کو انتہائی عزت سے نوازا ہے اور اسلام ہی خواتین کے مکمل کا ضامن ہے۔ خواتین اور اس سے بڑھ کر پوری انسانیت کے تحفظ کیلئے اسلامی قوانین سے بڑھ کر کوئی قانون نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو لبرل ازم کی طرف دھکیلنے والے حکمران اللہ کے عذاب سے ڈریں۔ حکومت اپنی روایتی ہٹ دھرمیوں کی بجائے ہوش کے ناخن لے ۔ دین اسلام کیلئے حاصل کی جانے والی تجربہ گاہ پر مغربی اقدار کے فروغ کا ایجنڈا کبھی پورا نہیں ہونے دیں گے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4