ایکشن پلان اوراین ایچ آر فار پالیسی ریسرچ کے قیام کی منظوری نیک شگون ہے، افتخار حسین

ایکشن پلان اوراین ایچ آر فار پالیسی ریسرچ کے قیام کی منظوری نیک شگون ہے، ...

لاہور (جنرل رپورٹر)ہیومن رائٹس ویلفےئر فورم کے صدر افتخار حسین نے حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ایکشن پلان اور نیشنل ہیومن رائٹس انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریسرچ کے قیام کی منظوری کے علاوہ اقلیتوں اور بچوں کے حقوق کیلئے کمیشن قائم کرنے جیسے اعلان کو نیک شگون قرار دیتے ہو ئے کہا ہے کہ اگر حکومت ملک میں انسانی حقوق کی صورت حال کو بہتر بنانے میں سنجیدہ ہے تو اس مقصد کیلئے اقدامات نظر بھی آنے چاہیں۔ گذشتہ روز ہیومین رائٹس ویلفےئر فورم کے اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہو ئے انہو ں نے کہا کہ قانون کی بالادستی کیلئے عدلیہ کا متحرک اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا شفاف نظام کے تحت ہو نا بہت ضروری ہے ۔

کیونکہ سستے اور فوری انصاف کی فراہمی میں تاخیر کی وجہ سے جرائم کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مذہب، فرقے، رنگ ونسل،ذات پات، طبقے، قبیلے اور علاقہ کی بنیاد پر تعصب اورعدم برداشت کی سوچ نے بھی پاکستان میں انسانی حقوق کے میدان میں پریشان کن حالات پیدا کر رکھے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک کے60فیصد سے زیادہ آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے ،80فیصد سے زیادہ آبادی کو ادویات اور ڈاکٹر کی سہولت دستیاب نہیں ہے جبکہ2کروڑ سے زائد بچے سکول نہیں جاتے آبادی کا ہر10واں شہری آلودہ پانی پینے اور غیر معیاری خوراک کھانے کی وجہ سے ہیپا ٹائٹس سمیت دیگر موذی امراض میں مبتلا ہے ، چوری ،ڈکیتی، راہزنی ، قتل غارت گری کی وارداتیں عام آدمی کی جان و مال کے تحفظ کے لئے مستقل خطرہ بنی ہو ئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ س حکومت معاشرے میں انسانی حقوق کے بارے شعور اور آگاہی پیدا کرنے کیلئے اقدامات کرے اس مقصد کیلئے تعلیم و صحت اور روز گار کی فراہمی جیسے انقلابی اقدامات ناگزیر ہیں ۔

مزید : میٹروپولیٹن 4