’’توہین رسالت کی سزا موت ہے‘‘

’’توہین رسالت کی سزا موت ہے‘‘
 ’’توہین رسالت کی سزا موت ہے‘‘

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

میں بطور مسلمان پختہ یقین رکھتا ہوں کہ نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے کی سزا موت ہے۔ مجھے یاد آیا،کچھ برس پہلے ایک این جی او نے مجھے’’ امن ‘‘کے موضوع پر ایک سیمینار میں مدعو کیا اوروہاں توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے قانون کے خلاف دھڑا دھڑ تقریریں شروع ہو گئیں۔ مقررین کا اصرار تھا کہ امن قائم رکھنے کے لئے توہین رسالت کے قانون کا خاتمہ ضروری ہے کہ اس کا اقلیتوں کے خلاف مسلسل غلط استعمال ہو رہا ہے۔ وہ اظہار رائے کی آزادی کی آڑ میں ہر قسم کی باتیں کہنے کی آزادی چاہتے تھے۔ جب میری باری آئی تو میری تقریر پر ہنگامہ ہو گیا، انہیں اندازہ ہو گیا کہ ایک غلط مہمان اور مقرر کو بلا لیا گیا ہے، میں نے کہا اگر آپ لوگ امن کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو پھر ضروری ہے کہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی نہ کی جائے، کلمہ گو گناہ گار ہو سکتا ہے مگر اپنے نبی کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتا، وہ اپنے نبی سے محبت کے نام پر مر بھی سکتا ہے اور مار بھی سکتا ہے۔ میں نے ان سے اتفاق کیا کہ بعض مشہور واقعات میں توہین رسالت کے قانون کا غلط استعمال ہوا ہے ، بعض جگہوں پربعض لوگوں نے ذاتی دشمنی کی بنیاد پر غلط مقدمات بھی درج کروائے ہیں ۔میرا موقف تھا کہ توہین رسالت کا قانون ، الزام لگنے کے بعد ملزم کو نقصان پہنچانے کی بجائے قانون کے حرکت میں آنے کے بعد اسے جان و مال کا تحفظ فراہم کرتا ہے اگر یہ قانون ختم کر دیا جائے تو پھرمعاملات ریاست کی بجائے شہریوں کے ہاتھ میں ہوں گے ۔

کیاتوہین رسالت کی سزاپر اتفاق رائے کے بعد یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ یہ فیصلہ کون کرے گا کہ توہین رسالت ہوئی بھی ہے یا نہیں۔ کیا اس فیصلے کا اختیار کسی ایک فرد یا فرقے کو دیا جاسکتا ہے تو اس کا جواب نفی میں ہے۔ یہاں ایسے نام نہاد عالم موجود ہیں جو شیعہ ہیں تو سنیوں کو، سنی ہیں تو شیعوں کو، بریلوی ہیں تو وہابیوں کو اور وہابی ہیں تو بریلویوں کو کافر اور مرتد قرار دیتے ہیں۔ زمانہ طالب علمی کی بات ہے، میں اپنے گھر کے قریب حضرت بابا شاہ کمال کے دربار سے منسلک جامع مسجد میں نماز جمعہ اداکرنے کے لئے پہنچا تو وہاں نورانی صورت والے خطیب نے بھرپور جذبہ ایمانی کے ساتھ تقریر کرتے ہوئے کہا، جو رسول اکرم کو حاضر و ناظر نہیں مانتا، جو اللہ کے نبی سے مدد مانگنے کا منکر ہے، جو یا رسول اللہ کا نعرہ لگانے سے انکار کرتا ہے وہ گستاخ رسول ہے، وہ جہنم کا کیڑا ہے، مجھے اس تقریر پر مسلمانوں میں تفرقے کا شیطانی مقصد حاصل ہوتا نظر آیاتو چپکے سے اٹھا اور باہر نکل گیا۔ اس کے برعکس بریلویوں پر شرک کرنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے اور جب ہمارے مولوی حضرات اپنے اپنے فرقے کی کتابیں پڑھنے کے بعد دوسروں پر کفر کے فتوے لگاتے ہیں تو پھر ہمیں ضروررت محسوس ہوتی ہے کہ تمام فرقوں سے تعلق رکھنے والے اہل علم مل جل کر اختلافات کی بجائے مشترکات تلاش کریں۔ میں نے دیکھا کہ نماز جمعہ کے اجتماعات میں عام لوگ خطیب حضرات کی باتوں پرُ پرجوش ہوجاتے ہیں اور ایسے میں اگر کوئی مولوی محض اپنی تقریر کا رسپانس لینے کے لئے فتنہ بازی کرنا چاہے تو وہ اس کے لئے بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا ہے۔ سندھ حکومت کے غیر فعال ہونے پر بار بار بات کی جاتی ہے مگر کچھ عرصہ پہلے انہوں نے نماز جمعہ کے اجتماعات میں تقاریر کے یکساں ہونے کا جو فیصلہ کیا ہے، اسے علمائے کرام کی حمایت کے ساتھ پورے ملک میں نافذ کیا جاناچاہئے۔ موضوعات کا چناؤ مذہبی امور کا محکمہ علمائے کرام کے ساتھ مشاورت سے کر سکتا ہے ،نمونہ کی تقاریراور حوالے بھی خطباء تک پہنچائے جا سکتے ہیں۔

جب یہ بات طے ہو گئی کہ ذاتی یا گروہی سطح پر کسی دوسرے کو کافر ، گستاخ اور واجب القتل قرار نہیں دیا جاسکتا تو پھر یہ سوال بھی کیا جاسکتا ہے کہ اگر کسی نے شرک یا گستاخی کا عمل کیا ہے تو اسے سزا دینے کا اختیار کس کے پاس ہے؟ فرض کرلیتے ہیں کہ یہ ہر کسی کا فرض ہے کہ وہ گستاخی کرنے والے کو سزا دے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس سے پہلے گستاخی ہوئی ہے یا نہیں، اس کافیصلہ بھی وہ خود ہی کرے گا۔ کسی بھی معاشرے میں ہر فرد کو منصف بننے کااختیار نہیں دیا جا سکتا، ہر فرد شکایت کنندہ ہو سکتا ہے یا گواہ ہو سکتا ہے مگر وہ فیصلہ سنانے کا اختیار نہیں رکھ سکتا۔ یہاں ریاست کا کردار سامنے آتا ہے۔ اگر کسی بھی جگہ شرک یا توہین کی کوئی صورت نظرآتی ہے، دل و دماغ اس پر غصے میں بھی آتے ہیں تو یہاں مہذب لوگوں کواسی قانون کا سہارا لینا ہو گا جس کی مخالفت سول سوسائٹی کے نام پر کی جاتی ہے۔ ہر دوسرے الزام کی طرح اس الزام کو بھی ثابت کرنے کی ضرورت ہے ورنہ یہاں ذاتی رنجشوں اورکاروباری مفادات پر بھی ایسے الزامات لگانے کی مثالیں موجو د ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس قانون کا غلط استعمال ہوتا ہے لہٰذا اسے ختم کر دیا جائے اور میرا کہنا یہ ہے کہ قتل اور چوری جیسے جرائم کے خلاف بننے والے قوانین کا بھی غلط استعمال ہوتا ہے، ہماری جیلوں میں ایسے ہزاروں افراد موجو د ہیں جن کا نام قتل کے مقدمات میں محض دشمنی کی بنیاد پر ڈالا گیا ، کیا وجہ ہے کہ ان قوانین کے خاتمے کا مطالبہ نہیں کیا جاتا۔ سب جانتے ہیں کہ اگر یہ قوانین ختم ہو گئے تو پھر قتل اور چوری کی وارداتوں کو روکنا مشکل ہوجائے گا اور دوسرے مرحلے میں عوام ان تمام معاملات میں خود فیصلے کریں گے جو یقینی طور پر معاشرے میں دشمنی اور انتشار کا باعث بنیں گے۔

بعض لوگ دلیل دیتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رحمۃ اللعالمین ہونے کی حیثیت میں ایذا پہنچانے والوں کو معاف کیا، وہ عورت جو کوڑا پھینکتی تھی اس کے بیمار ہونے پر اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے، مکہ کے ان کافروں کوعام معافی دے دی جنہوں نے ذاتی ، خاندانی اور معاشرتی سطح پر ان کے لئے بہت زیادہ مشکلات پیدا کیں، اس عورت ہندہ کو بھی معاف کر دیا جس نے آپ کے چچا کو قتل کروانے کے بعد ان کا کلیجہ چبایا تھا۔ میںیہاں علمائے کرام اور مفتیان عظام کی اس بات کے ساتھ جاؤں گا کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذاتی اختیار تھا مگر ان کے بعد کسی کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ کائنات کی سب سے عظیم الشان ہستی کی توہین کو معاف کر دے۔ مجھے سب کویہی بتانا ہے کہ اب ہمارے پاس معافی کا اختیار نہیں ہے، ہم سب اس معاملے میں بے اختیار ہیں لہذ ا جو زبان کھولے وہ سوچ سمجھ کر کھولے، جو بھی قدم اٹھائے وہ اس کے نتائج پر غور کرنے کے بعدا ٹھائے۔ اگر توہین رسالت کے قانون کے مخالف اس معاملے کو امن کے ساتھ مشروط کرنا چاہتے ہیں تو مجھے اس سے بھی کوئی اختلاف نہیں مگر میرا موقف یہ ہے کہ امن تب ہی رہے گا جب آپ توہین سے گریز کریں گے۔ جہا ں تک جھوٹے الزامات لگانے کا تعلق ہے تو اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا، یہاں تو پورے کا پورا ایک فرقہ ہی دوسرے کو کافر ، مشرک اور گستاخ قرا ر دے دیتا ہے، ایسے میں ریاست کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ معاملات کی تحقیق کرے اور حقائق سامنے لانے کے بعد ہی اس پر فیصلہ کیا جائے۔ یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ اگر کسی شخص نے توہین نہیں کی مگر اس پر توہین کا الزام لگا دیا گیا تو اصل میں توہین الزام لگانے والے نے کی ۔کسی ایک فرد کو محض اس لئے کہ وہ داڑھی رکھے ہوئے کسی سپیکر کے سامنے کھڑا ہے کسی دوسرے کو مشرک اور گستاخ قرار دینے کا کوئی اختیار نہیں تو پھر اسے کسی بھی دوسرے کلمہ گو ( یا اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے غیر مسلم) کو سزا دینے کا اختیار کیسے دیا جا سکتا ہے، ہاں، اگر ریاست کو شکایت کی گئی اور اس نے مجرم کو سزا نہ دی تو پھر یہاں حکمران اور منصف ذمہ دارہوں گے، عوام نہیں، بار بار کہا گیا کہ لوگوں سے صرف ان کی ذمہ داریوں بارے سوال ہوگا اور کسی بھی اسلامی ریاست میں سزا دینے کی ذمہ داری کسی فرد یا گروہ کی صوابدید اور فہم پر نہیں چھوڑی جاسکتی ، ہمارا المیہ یہ ہے کہ یہاں ہر کوئی منصف اور خدائی فوجدار بنا پھرتا ہے۔ ایسے ہی انتہا پسندانہ رویوں اور تشریحات نے پاکستان کو پہلے ہی دہشت گردی کے حوالے سے جہنم بنا رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے دین کی درست فہم عطا فرماتے ہوئے ان لوگوں کے رستے پر چلائے جن پر اس کا انعام ہوا، نہ کہ ان لوگوں کے رستے پر جو اس کے غضب کا شکار ہوئے ۔۔۔ کیا یوں نہیں لگتا کہ ہم اپنے رب کے غضب کا شکار ہیں؟

مزید : کالم