64سیاست دانوں اور معروف شخصیات کے اثاثے واپس لانے بیان حلفی طلب کرنے کی درخواست پرفریقین کے وکلاء دلائل کیلئے طلب

64سیاست دانوں اور معروف شخصیات کے اثاثے واپس لانے بیان حلفی طلب کرنے کی ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے میاں محمدنواز شریف،میاں شہباز شریف،پرویز مشرف،پرویز الہی ،چودھری شجاعت حسین،عمران خان ،سردار ایاز صادق،اسحاق ڈار،جاوید ہاشمی،فاروق ستار،شیخ رشید،نجم سیٹھی،میاں منشاء،عاصمہ جہانگیر،خواجہ شریف ،حمزہ شہباز شریف سمیت 64سیاست دانوں اور معروف شخصیات کے بیرون ملک اثاثے واپس لانے اور ان سے بیان حلفی طلب کرنے کی درخواست پرفریقین کے وکلاء کو دلائل کے لئے طلب کر لیاہے۔مسٹرجسٹس خالد محمود خان نے کیس کی سماعت کی،پرویز مشرف کے وکیل میجر ریٹائرڈ اختر شاہ نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کی لکھی ہو ئی انگریزی سمجھ نہیں آ رہی جس کی بناء پر جواب داخل نہیں کرایا،انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف عام پاکستانی ہیں ،انہوں نے منی لانڈرنگ نہیں کی ان کے خلاف بے بنیاد درخواست دائر کی گئی،میجر ریٹائرڈ اختر شاہ نے کہا کہ پرویز مشرف کی طرف سے میں خود جواب داخل کرانا چاہتا ہوں جس پر درخواست گزار نے کہا کہ اگر پرویز مشرف نے منی لانڈرنگ نہیں کی تو اپنے وکیل کی بجائے اپنی طرف سے بیان حلفی جمع کرائیں، درخواست گزار نے کہا کہ پرویز مشرف ،میاں محمدنواز شریف،شہباز شریف،پرویز الہی ،چوہدری شجاعت حسین،عمران خان، سردار ایاز صادق،اسحاق ڈار،جاوید ہاشمی،فاروق ستار،نجم سیٹھی،میاں منشاء،عاصمہ جہانگیر،خواجہ شریف ،حمزہ شہباز شریف ،شاہد خاقان عباسی،رانا تنویر اور شیخ رشید نے 400 ارب ڈالر غیر قانونی طور پر بیرون ملک منتقل کئے اور قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ نواز شریف کے صاحبزادوں نے برطانیہ میں 149جائیدادیں خریدیں جبکہ درخواست میں فریق بنائے گئے تمام سیاستدانوں نے بیرون ملک اثاثے بنا کر ملک کو کنگال کیا۔ درخواست میں بنائے گئے فریقین بیرون ملک دولت کی منتقلی سے انکاری ہیں لہذا ان سے دولت بیرون ملک منتقل نہ کرنے کے حوالے سے بیان حلفی طلب کیا جائے۔عدالت نے کیس کی مزید کارروائی 8مارچ تک ملتوی کر تے ہوئے فریقین کے وکلاء کو مزید بحث کے لئے طلب کر لیاہے۔

مزید : صفحہ آخر