بھارت کا 52ارب روپے کی سرمایہ کاری اندرون ملک رکھنے کا خواب چکنا چور

بھارت کا 52ارب روپے کی سرمایہ کاری اندرون ملک رکھنے کا خواب چکنا چور

لاہور( فیصل بن نصیر) بھارت میں اندرون ملک لگائے گئے سولر پراجیکٹس میں بیرون ممالک سے سولر پینلز، سولر ماڈلز اور ان کی بیٹریوں سمیت دیگر سامان نہ منگوانے کی حکومتی شرط کو ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن نے رد کردیا، بھارت سرکار نے شمسی توانائی کے تمام پراجیکٹس میں حکم نامہ جاری کر رکھا تھا کہ کسی بھی بیرونی کمپنی کے تیار کرہ سولر سیلز اور سولر ماڈلز کو کو بھارت میں لگنے والے سولر پراجیکٹس میں لگانے کی اجازت نہیں ہو گی، صرف بھارت کی تیار کردہ سولر پراڈکٹس ہی اس کی اہل ہو ں گی،لیکن اس ضمن میں امریکہ نے بھارت کی ا س ہٹ دھرمی پر عالمی عدالت سے رجوع کر رکھا تھا جسے گزشتہ روز ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے پینل نے نا انصافی پر مبنی قانون سمجھتے ہوئے بھارت کو ایسا کرنے سے روکتے ہوئے امریکہ کی درخواست کو منظور کر لیا ہے، یاد رہے کہ اس ضمن میں چین ، برازیل ، ناروے،کوریا،جاپان، ترکی اور روس نے امریکی موقف کے حق میں رائے دی تھی۔واضع رہے کہ عالمی کلائمٹ چینج معاہدے میں بھارت کو سولر پاور پراجیکٹس کی مد میں 52ارب روپے کی رقم دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے فراہم کی جانا ہے جس میں بھارت میگا سولر پراجیکٹس لگائے گا تاکہ ملکی انڈسٹری اور گھریلو سطح پر توانائی کو بہتر بنانے اور سستی بجلی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ماحول دوست توانائی کا حصول ممکن ہو،واضع رہے کہ امریکہ نے بھارت کے خلاف 2013ء میں عالمی عدالت سے رجوع کیا تھا ، جسے عالمی کلائمٹ چینج معاہدے (پیرس ایگریمینٹ )کے بعد بھارت کی عالمی دنیا اور امریکہ کی جانب سے سولر پراجیکٹس میں 52ارب روپے کی مدد کرنے پر امریکہ کے اہم موقف کو تقویت دیتے ہوئے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن نے بھارت کے خلاف فیصلہ سنا دیا،ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بھارتی موقف سراسر یک طرفہ اور عالمی تجارتی معاہدوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی تھا لہذٰ ا اس پر بھارت کو روکا گیا ہے جبکہ بھارت کو اگلے پانچ روز میں اپیل کا حق دیا گیا ہے۔واضع رہے کہ پاکستان نہ صرف تاحال عالمی دنیا سے کسی بھی پراجیکٹ کے لئے فنڈنگ حاصل کرنے سے قاصر نظر آتا ہے جبکہ پراجیکٹ کی منظوری سے بھی کوسوں دور ہے ، اس ضمن میں نیشنل ٹرانسمیشن ایند ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) زرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سولرمنصوبوں کے تنصیبی پراجیکٹس کی ہمیشہ حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اور اس مد میں جب بھی کوئی کام شروع کیا گیا تو اسے فائلوں کی نذر کر دیا گیا۔ قائد اعظم سولر پارک بہاولپور سے بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کئے جا سکے۔وزارت کلائمٹ چینج اس ضمن میں بہت بڑا سٹیک ہولڈر ہے لیکن تاحال مذکورہ وزارت کی جانب سے بھی شمسی توانائی کی اہمیت اور اس کے منصوبوں پر کام کرنے کے لئے کوئی پراجیکٹ عالمی کلائمٹ چینج کانفرنس میں نہیں پیش کیا جا سکا تھا اور تاحال اس پر کام نہ ہونے کے برابر ہے۔

مزید : صفحہ آخر