دیہی روڈز پروگرام میں ناقص کارکردگی، کنسلٹنٹ فرموں سے جواب طلب

دیہی روڈز پروگرام میں ناقص کارکردگی، کنسلٹنٹ فرموں سے جواب طلب

لاہور(شہباز اکمل جندران) خادم پنجاب دیہی روڈز پروگرام کے دوسرے فیز میں ناقص کارکردگی پر سی اینڈڈبلیو پر انگلیاں اٹھنے لگیں۔محکمے کی انتظامیہ نے اپنا غصہ کنسلٹنٹ فرموں پر جااتارا۔ ناقص کارکردگی پرایم ڈی نیسپاک ،اے زیڈ انجینئرنگ،انجینئرنگ کنسلٹنسی سروسز،ایسوسی ایٹیڈ کنسلٹنٹ انجینئرنگ اور جی ایم نیسپاک سے تحریری وضاحت طلب کرلی۔معلوم ہواہے کہ پنجاب حکومت نے نومبر2015میں 15ارب روپے کے تخمینے سے صوبے کے 36شہروں میں دیہاتی علاقوں کی لنک سٹرکوں کو وسعت دینے کے لیے خادم پنجاب دیہی روڈز پروگرام فیز ٹو پارٹ ون کا منصوبہ شروع کیا۔اور اس کی تکمیل کی ذمے داری سی اینڈڈبلیو پنجاب کو سونپی ۔لیکن سی اینڈڈبلیو پنجاب کی انتظامیہ کو اس منصوبے کو طے شدہ معیار کے مطابق مقررہ مدت میں مکمل کرنے میں ناکامی کا سامنا ہے۔جس سے محکمے کی ساکھ پر انگلیاں اٹھنے لگی ہیں۔اور انتظامیہ نے سرکاری کنسلٹنسی نیسپاک سمیت دیگر کنسلٹنٹ فرموں پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ اورایم ڈی نیسپاک ،اے زیڈ انجینئرنگ،انجینئرنگ کنسلٹنسی سروسز،ایسوسی ایٹیڈ کنسلٹنٹ انجینئرنگ اور جی ایم نیسپاک سے تحریری وضاحت طلب کرلی۔بتایا گیا ہے کہ کے پی آر آر پی فیز ٹو پارٹ ون کے معاہدے کے مطابق متذکرہ کنسلٹنٹ فرمیں پابند ہیں کہ ٹھیکیداروں کی طرف سے مکمل کیئے جانے اور زیر تکمیل کام کے معیار کو چیک کرنے کے لئے مقرر کردہ لیبارٹریوں سے ٹیسٹ کروائیں۔اور ٹیسٹوں کے رزلٹ کی روشنی میں درست اور معیاری کام کے عوض ٹھیکیداروں کو ادائیگی کرنے کی سفارش کریں۔لیکن لاہور ، ملتان، فیصل آباد، گوجرانوالہ ، میانوالی ، خوشاب ،سیالکوٹ ،نارووال ،بہاولپور، رحیم یارخان اور ڈی جی خان میں کنسلٹنٹ فرموں نے زیر تکمیل اور مکمل کیئے جانے والے کام کے بروقت ٹیسٹ نہ کروائے ۔جس سے ایک طرف منصوبے کی رفتار متاثر ہوئی تو دوسری طرف مبینہ طورپر اس میں ناقص مٹیریل استعمال کیا گیا۔ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ نیسپاک کے جنرل منیجر ہائی ویز داؤد رانا ، ایم ڈی نیسپاک اور اے زیڈ انجنئیرن ایسوسی ایٹس کے ایم ڈی زبیر عمران خواجہ کے نام پر الگ سے بھی خطوط جاری کئے گئے ہیں۔ جن میں ان سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔

مزید : صفحہ آخر