بشارالاسد کو بخوشی یا فوجی طاقت کے ذریعے شام سے نکلنے کا فیصلہ کرنا ہو گا: سعودی عرب

بشارالاسد کو بخوشی یا فوجی طاقت کے ذریعے شام سے نکلنے کا فیصلہ کرنا ہو گا: ...

جدہ (محمد اکرم اسد) سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے واضح کیا ہے کہ شامی صدر بشارالاسد کو بخوشی یا فوجی طاقت کے ذریعے شام سے نکلنے کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ شامی بحران کا حل شام سے صدر بشارالاسد کے نکلنے میں مضمر ہے۔ ریاض میں ڈنمارک کے وزیر خارجہ کسٹیان یانسن کے ہمراہ صحافیوں سے بات چیت میں کیا۔ الجبیر نے یہ کہا کہ ہم تمام برادر اور دوست ممالک سے چاہتے ہیں کہ وہ ویسے ہی ہمارے عدالتی نظام کا احترام کریں جیسا کہ ہم ان کے عدالتی نظام کااحترام کرتے ہیں، ہم کسی پر اپنا عدالتی نظام نہیں تھوپتے لہٰذا دوسروں سے بھی اسی کے آرزو مند ہیں۔ ہمارے یہاں اظہارئے رائے کے قاعدے ضابطے ہیں، ہمیں ایک دوسرے کا احترام کرنا ہوگا۔ دو معاملات ایسے ہیں جن سے ہم کبھی دستبردار نہیں ہوئے اور نہ آج دستبردار ہوں گے اور نہ ہی آئندہ کبھی ہوں گے، ہمیں اپنے عقائد اور اپنا امن ازحد عزیز ہے۔ الجبیر نے کہا کہ ہمیں اپنے عقائد پر فخر ہے کسی سے معذرت کی کوئی ضرورت نہیں، امن وعقائد پر سودے بازی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ الجبیر نے ایک سوال پر کہا کہ شامی نظام حکومت کی جانب سے فائر بندی کی خلاف ورزیاں ہورہی ہیں۔ ہم اس سلسلے میں شام کے حامی ممالک سے مشورے کررہے ہیں۔ نئے شام میں بشار کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ اگر شامی نظام حکومت اور اس کے اتحادی سنجیدہ نہیں تو ایسی صورت میں پشاور سے پاک شام کا متبادل منصوبہ موجود ہے۔ا گر عالمی اتحاد نے شام زمینی فوج بھیجنے کا فیصلہ کیا تو سعودی عرب اس میں حصہ لے گا۔ انجینئر نے یہ بھی کہا کہ روس کا کہنا ہے کہ داعش اور النصرہ کے خلاف وہ آپریشن جاری رکھے گا۔ شام کے حامی گروپ نے اس کی منظوری دے دی ہے، اگر روس اس سلسلے میں سچا ہوگا تو اسے فائر بندی کے سلسلے میں بشارالاسد کی مدد کرنا ہوگی۔ روس اور بشارالاسد کے نظام کی جانب سے اس کی خلاف ورزیاں ہورہی ہیں۔ شام میں سیاسی حل کے لئے سمجھوتے کی پابندی کرنا ہوگی۔ ڈنمارک کے وزیر خارجہ نے بتایا کہ ہم نے عراق، شام اور یمن میں درپیش مشکلات اور داعش تنظیم کے خلاف کارروائی کے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں ملک مشترکہ منصوبے جاری رکھیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مملکت اور ڈنمارک کے درمیان تجارتی حجم 1.5 ارب یورو تک پہنچ گیا ہے اور مملکت میں ڈنمارک کی 100 کمپنیاں کام کررہی ہیں۔

مزید : صفحہ آخر