نظریاتی پاکستان کانفرنس میں کتاب میلہ

نظریاتی پاکستان کانفرنس میں کتاب میلہ
نظریاتی پاکستان کانفرنس میں کتاب میلہ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری جناب شاہد رشید ایک عملی انسان ہیں۔ ایوانِ کارکنان تحریک پاکستان کو انہوں نے اہلِ نظر کا مسکن بنارکھا ہے۔ پاکستان سے پیار کرنے والوں کو وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر یہاں بلاتے ہیں۔ ہر عمر کے لوگ ان کے مہمان ہوتے ہیں۔ میری مقصدی شاعری نے جہاں مجھے نیک نامی دی ہے، وہاں شاہد رشید جیسے سچے پاکستانیوں کی محبت کا تحفہ بھی عطا کیا ہے۔ میری کتاب دوستی کا بھی اس میں یقیناًکچھ نہ کچھ عمل دخل رہا ہوگا ، کیونکہ وہ مجھے کئی بار فون کر کے کہہ چکے ہیں کہ فروغِ کتاب کے سلسلے میں میری خدمات سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ ایوانِ کارکنان تحریک پاکستان میں بھی ایک وقیع اور وسیع کتب خانہ موجود ہے، لیکن اب وہ ایوانِ قائداعظمؒ میں بھی ایک بہت بڑا کتب خانہ بنانے جارہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہاں قائد اعظم اورپاکستان سے متعلق کتابیں ہوں گی۔شاہد رشید صاحب کی کتاب دوستی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ کتابیں پڑھتے بھی ہیں اورلکھتے بھی ہیں۔ محترمہ فاطمہ جناح پر لکھی گئی ان کی کتاب اب حوالے کی کتاب بن چکی ہے۔ محترمہ پر تحقیق کرنے والا کوئی محقق ان کی اس کتاب سے صرف نظرنہیں کر سکتا۔

23،24 اور 25فروری 2016ء کو ایوانِ کارکنان تحریک پاکستان میں آٹھویں نظریہء پاکستان کانفرنس منعقد ہوئی۔ یہ کانفرنس پہلے بھی ہوتی رہی ہے، لیکن اس بار اس میں کتاب دوستی کا رنگ بھی شامل تھا۔کتاب دوستی پر لکھا گیا میرا ایک کالم پڑھ کر شاہد رشید صاحب نے مجھے فون کیا اور کہا کہ وہ اس بار کانفرنس کے موقع پر نیشنل بک فاؤنڈیشن کا کتاب میلہ لگوانا چاہتے ہیں۔ نیکی اور پوچھ پوچھ، سو میں نے فوری طور پر فاؤنڈیشن کے لاہور آفس کی ڈائریکٹر محترمہ نزہت اکبر سے رابطہ کیا۔ کتابیں چھاپ چھاپ اور بیچ بیچ کر وہ بھی کتاب کے عشق میں مبتلا ہو چکی ہیں۔ پھر سب سے بڑی بات یہ کہ انہیں اپنے متحرک اور فعال ایم ڈی ڈاکٹر انعام الحق جاوید کا بھرپور تعاون اور رہنمائی بھی حاصل ہے۔ محترمہ نزہت اکبر فوری طور پر شاہد رشید صاحب سے ملیں، میں بھی ساتھ تھا۔ یہ دیکھ کر ہم دونوں کو بہت حیرت ہوئی کہ ٹرسٹ نے پاکستان تحریک پاکستان اور قائدین تحریک پاکستان سے متعلق بہت سی کتابیں چھاپی ہیں۔ دستیاب کتابوں کا ایک ایک سیٹ انہوں نے بکمال مہربانی ہمیں عطا کیا۔’نظریۂ پاکستان‘‘ کے نام سے ایک ماہنامہ بھی جاری کر رکھا ہے۔

نیشنل بک فاؤنڈیشن ایک سرکاری ادارہ ہے اور وفاقی حکومت سے ملنے والی گرانٹ سے کتاب کے خریداروں کو عمدہ او ر معیاری ،لیکن مہنگی کتابوں پر سبسڈی فراہم کرتا ہے، مگر اس کے ’’کرتوت‘‘ سرکاری اداروں والے نہیں۔ یہ ادارہ لکھنے والوں کو وقت پر رائلٹی دیتا ہے۔ پرائیویٹ پبلشروں کی طرح یہ پراپیگنڈہ نہیں کرتا کہ کتاب بکتی نہیں۔ کتاب کی فروخت کا یہ علانیہ اظہار کرتا ہے۔ ادیب کے مفاد کا بھی خیال رکھتا ہے اور قارئین کی جیب کا خیال بھی رکھتا ہے۔ اس کتاب میلے کا پنجاب بھر سے آئے ہوئے سکولوں اور کالجوں کے اساتذہ کو بہت فائدہ ہوا۔ جو اس ادارے کی ورکنگ سے آگاہ تھے، انہوں نے اس کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ریڈرز کلب کی رکنیت حاصل کی اور پچپن فیصد رعایت پر کتابیں خریدیں اور جو اس کے بارے میں نہیں جانتے تھے، معلومات حاصل کرتے رہے۔کتاب میلے میں مجلس ترقی ادب، نظریۂ پاکستان ٹرسٹ اور ادارہ ثقافت اسلامیہ کی کتابیں بھی رکھی گئی تھیں ، لیکن پروانوں کا ہجوم، نیشنل بک فاؤنڈیشن کی شمع کی طرف رہا۔ مجلس ترقی ادب نے بہت اہم موضوعات پر نہایت عمدہ کتابیں چھاپ رکھی ہیں، لیکن بوجوہ اس کے کارکنوں میں وہ جوش نظر نہیں آتا جو این بی ایف کے کارکنوں میں محسوس ہوتا ہے۔ اس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر تحسین فراقی صاحب کے لئے مفت مشورہ ہے کہ اگر وہ بھی این بی ایف کی طرح کچھ سر گرم کتاب دوست شخصیات کو اعزازی طور پر ’’سفیر کتاب‘‘ بنانے کی روایت کا آغاز کریں تو پروانے، مجلس ترقی ادب کی شمع کی جانب بھی آ سکتے ہیں۔

نیشنل بک فاؤنڈیشن کے بک اسٹال پر جہاں عام لوگوں کا ہجوم تھا ، وہاں ادب، صحافت اور درس و تدریس کے شعبے سے بہت سی نام ور شخصیات نے بھی یہاں سے کتابیں خریدیں۔ مجیب الرحمن شامی صاحب نے این بی ایف کے ریڈرز کلب کی باقاعدہ رکنیت حاصل کی۔ وزیر اعظم کے مشیر اور کالم نگار عرفان صدیقی صاحب نے اسٹال کا خاص طور پر دورہ کیا۔ ان دنوں یہ ادارہ انہی کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ پچھلے مہینے انہوں نے ایوانِ اقبال کے پہلے فلور پر نیشنل بک فاؤنڈیشن کے نئے دفترکا افتتاح کیا تھا۔ نظریۂ پاکستان کانفرنس میں شرکت کرنے والے جن احباب نے این بی ایف کے کتاب میلے سے کتابیں خریدیں، ان میں سابق صدر محمد رفیق تارڑ، محترمہ بشریٰ رحمن، سہیل وڑائچ، ایم پی اے رانا محمد ارشد، عزیز ظفر آزاد، حمید رضا صدیقی، آصف بھلی، ظہیر بدر، جاوید اکرام، ڈاکٹر طارق سلطان، ریاض حسین چودھری، پروفیسر رضوان الحق، مظہر سلیم مجو کا، افتخار بخاری، فاطمہ قمر کے نام بھی شامل ہیں۔

آٹھویں نظریۂ پاکستان کانفرنس میں کس نے کیا کہا؟ یہ بہت سے لوگ لکھ چکے۔ آخر میں شاہد رشید صاحب کی خدمت میں ایک تجویز پیش کروں گا کہ آئندہ کانفرنس کے موقع پر ایک قومی نظریاتی مشاعرہ بھی منعقد کریں۔ میں اس سلسلے میں بھی ان کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔

مزید : کالم