بازار احمد خان کے منتخب نمائندوں اور عوام کا بجلی لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

بازار احمد خان کے منتخب نمائندوں اور عوام کا بجلی لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاجی ...

بنوں(نمائندہ پاکستان )بازار احمد خان کے منتخب نمائندوں اور عوام کا بجلی لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ، 92 فیصد ریکوری ہونے کے باوجود 20گھنٹے لوڈشیڈنگ ظلم وزیادتی کی انتہا ہے یونین کونسل بازار احمد خان اور یونین کونسل گڑھی شیراحمد کے منتخب نمائندوں اور عوام نے پریس کلب کے سامنے بجلی لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا بعدازاں ڈسٹرکٹ کونسلر ملک شکیل خان ، تحصیل کونسلر ملک خالد خان ، ویلج کونسل ناظمین ملک نادر خان ، تاج محمد خان ، کونسلروں مسلم خان ایڈوکیٹ ، برکت علی اور دیگر نے پریس کانفرنس میں کہا کہ بازار احمد خان فیڈر پر بجلی لوڈشیڈنگ نے عوام کا جینا محال کررکھا تھا اس سلسلے میں واپڈا کے ایس ای ، ایکسین اور ایس ڈی او سے ملاقاتیں کیں جنہوں نے بجلی دینے کیلئے ریکوری کی شرط رکھی اس سلسلے میں منتخب نمائندوں نے تمام کوٹکہ جات کے مشران کوٹاسک دیکر ہر گھر سے بجلی بل کی مد میں رقم جمع کی اور واپڈا حکام کو بجلی بل کے ذریعے 25 لاکھ روپے سے زائد رقم کی ادائیگی کی اور بازار احمد خان فیڈر پر ریکوری تناسب 92فیصد تک پہنچا دی لیکن بازار احمد خان فیڈر پر بجلی لوڈشیڈنگ میں ریلیف دینے کے بجائے 20گھنٹے تک پہنچا دی حالانکہ 24گھنٹے بجلی دینے والی ایکسپریس لائن پر بھی صرف 67 فیصد ریکوری ہوتی ہے مقررین نے بتایا کہ واپڈا ہماری قومی ملکیتی ادارہ ہے مگر اس کی مثال گائے تو ہماری ہے مگر ہمیں دودھ نہیں دیتی جیسی ہے بازار احمد خان کے علاقے میں بجلی کے گریڈسٹیشن اور گیس سپلائی سنٹر تو بنائے گئے ہیں مگر اس کا کوئی فائدہ نہیں دیاجارہا اور اس کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جنہوں نے دیہی علاقہ سورانی کو تو گیس دیا مگر شہری علاقوں کو محروم رکھا بازار احمد خان تاریخی حیثیت رکھتا ہے جو ضلع بنوں کا پہلا شہری علاقہ تھا مگر آج یہاں کے عوام بجلی گیس ، گرلز بوائز سیکنڈری سکولز وغیرہ کیلئے ترس گئے ہیں عنقریب گیس کی فراہمی کیلئے احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی اُنہوں نے واپڈا اور ضلعی انتظامیہ کو 48 گھنٹے کی ڈیڈلائن دیتے ہوئے بجلی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کامطالبہ کیا بصورت دیگر ہم قانونی اور رواجی طور پر پُرامن حتجاج کا حق رکھتے ہیں اور اس دوران کسی بھی نقصان کی ذمہ داری واپڈا اور ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر