پسند کی شادی پر گولیاں مار کر نہر میں پھینکا گیا، بچ جانیوالی حافظ آباد کی صبا کی کہانی

پسند کی شادی پر گولیاں مار کر نہر میں پھینکا گیا، بچ جانیوالی حافظ آباد کی ...
پسند کی شادی پر گولیاں مار کر نہر میں پھینکا گیا، بچ جانیوالی حافظ آباد کی صبا کی کہانی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

حافظ آباد(ویب ڈیسک) شرمین عبید چنائے کی آسکر ایوارڈیافتہ ڈاکو مینٹری فلم اے گرل ان داریو: پرائس فار فوگیونس ، کی کہانی حافظ آباد کی صبا نامی 18 سالہ لڑکی کی ہے جسے اس کے رشتے داروں نے 2014 ءمیں غیرت کے نام پر فائرنگ کر کے زخمی کرنے کے بعد جھنگ برانچ نہر میں پھینک دیا تھا تاہم وہ معجزانہ طورپر بچ گئی تھی۔ چار اور پانچ جون 2014کی درمیانی رات 18سالہ صبا مقصود کو پسند کی شادی کرنے پر اس کے اہلخانہ نے حافظ آباد کے قریب فائرنگ کر کے زخمی کرنے کے بعد دریا میں پھینک دیا تھا تاہم وہ زخمی حالت میں معجزانہ طور پر زندہ بچ نکلی۔ اسے پولیس اور ریسکیو اہلکاروں نے ہسپتال منتقل کیا جہاں وہ ایک ہفتہ تک زیر علاج رہی۔ پولیس نے اس کی درخواست پر اس کے والد، چچا ، بھائی کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کیا تھا۔ صباءکے گھروالے اس کی شادی جہاں کرنا چاہتے تھے وہاں وہ شادی پر خوش نہ تھی، صباءقیصر نامی نوجوان سے پیار کرتی تھی اور اس سے شادی بھی کرناچاہتی تھی لیکن اس کے گھر والے پسند کی شادی پر خوش نہ تھے۔ بعدازاں صباءاور قیصر نے پسند کی شادی کر لی تھی۔ نیوز ایجنسیوں کے مطابق صباءنے بعد ازاں دباﺅ میں آکر حملہ آوروں کو معاف کر دیا تھا۔ شہریوں نے شرمین عبید چنائے کو آسکر ایوارڈ ملنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم کو ان پر فخر ہے۔

مزید : حافظ آباد