تمام بینک اکاﺅنٹ ہولڈرز کی بائیو میٹرک تصدیق کرانے کا فیصلہ

تمام بینک اکاﺅنٹ ہولڈرز کی بائیو میٹرک تصدیق کرانے کا فیصلہ
تمام بینک اکاﺅنٹ ہولڈرز کی بائیو میٹرک تصدیق کرانے کا فیصلہ

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی حکومت نے دہشتگردو ں و دہشتگردی کی کارروائیوں کیلئے فنانسنگ کی روک تھام کیلئے تمام بینک اکاﺅنٹ ہولڈرز کی بائیومیٹرک تصدیق جبکہ دس ہزار ڈالر سے کم لے کر تسلسل کے ساتھ بیرون ملک سفر کرنیوالے لوگوں کی چھان بین کرنیکا فیصلہ کیاہے۔یہ اہم فیصلے وزارت خزانہ کی ذیلی کمیٹی برائے انسداد ٹیررارزم فنانسنگ کے حالیہ اجلاس میں کئے گئے ہیں۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی دارالحکومت سمیت ہر صوبے میں آئی جی آفس میں خصوصی سیل قائم کیا جائیگا اس کے علاوہ وزارت داخلہ، نیشنل کاﺅنٹر ٹیررازم اتھارٹی اور امن و امان قائم کرنے والے ادارے ملک بھر میں کالعدم تنظیموں کا نام بدل کر یاکسی دوسرے نام سے کام کرنیکی اجازت نہیں دی جائیگی اور اگر کوئی کالعدم تنظیم یا ادارہ نام بد ل کر کام شروع کرے تو فوراً اسے بھی کالعدم قرار دیدیا اسی طرح کالعدم تنظیموں کے فنڈز اور اثاثہ جات کا سُراغ لگا کر انہیں بھی منجمند کیا جائیگا یہ بھی فیصلہ ہوا ہے کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان رابطے کو موثر بنانے اور وفاقی صوبائی امن و امان قائم رکھنے والے اداروں کے درمیان موثر رابطہ سازی کے حوالے سے نیکٹا موثر نظام وضع کریگا ۔

دستاویز میں دی جانیوالی تفصیلات میں بتایا گیا کہ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ ملک میں وفاقی و صوبائی سطح سمیت کسی بھی سطح پر رجسٹرڈ ملکی و غیر این جی اوز ، خیراتی اداروں کو دوبارہ سے رجسٹریشن کروانا ہو گی دستاویز میں بتایا گیا کہ ایس ای سی پی نے آئی این جی اوز اور این پی اوز کے لائنسز کی ازسر نو تصدیق کا عمل شروع کر دیا گیا ہے ۔یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ تمام بینک اکاﺅنٹ ہولڈرز کی نادرا کے ڈیٹا بیس کیساتھ بائیومیٹرک تصدیق کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔اس کے علاوہ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ بینک کے صارفین کے بارے میں جاننے کا فارم (کے وائی سی) پُر کرنیکا اختیار بھی صرف بینک کے ایک خاص رینک کے افسران پر مشتمل ملازمین تک محدود کی اجائیگا اور ہر ملازم یہ فارم پرنہیں کر سکے گا ۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئےیہاں کلک کریں۔ ‎

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ دس ہزار ڈالر یا اس سے کم مالیت کے یوس ایس ڈالر بیرون ملک لے جانے والے لوگوں بارے بھی چھان بین کی جائیگی اور طے پایا کہ ایف بی آر ان تمام لوگوں کا مکمل ڈیٹا تیار کر کے ایف آئی اے او اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو فراہم کریگا جو دس ہزار ڈالر تک کی رقم اپنے ساتھ لیکر تسلسل کے ساتھ بیرون ملک آتے اور جاتے ہیں۔

مزید : اسلام آباد