ڈیجیٹل مانیٹرنگ بریسلٹ ،متشدد شوہروں کا علاج

ڈیجیٹل مانیٹرنگ بریسلٹ ،متشدد شوہروں کا علاج
ڈیجیٹل مانیٹرنگ بریسلٹ ،متشدد شوہروں کا علاج

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تحریر: شاہدنذیر چودھری

جس ٹیکنالوجی نے ہمیں دنیا سے جوڑ رکھا اور ہماری ضرورت بن چکی ہے اس پر لعن وطعن کرنابھی ہمارا ہی وطیرہ ہے۔مثال کے طور پر ہمارے مولوی حضرات جس ٹی وی کو بدکاری کا ڈبہ کہتے تھے اب خود اس میں بیٹھے ہوئے ہیں،موبائل کو گالیاں دیتے ہیں لیکن خود اپنی سیلفیاں بنا کر سوشل میڈیا پر لگاتے ہیں ۔تصویر بنانا بدعت اور ممنوع قرار دیتے ہیں لیکن بڑے بڑے پوسٹروں ،فلیکسوں پر ذرا سی تصویر دب جائے تو غیض و غضب کا اظہار کرتے ہیں۔ایسی بے شمار چیزیں معمولات زندگی کا حصہ بن چکی ہیں جن کے بغیر آج آسودہ زندگی اور سماجی برابری کا تصوّر محال نظرآتاہے ، چونکہ تنقید کرنا آسان کام ہے اس لئے سماجی بھلائی اور سماجی استحکام کے لئے لوگوں کی تربیت کرکے مساوات و برداشت جیسے کٹھن کام کرنا انکے لئے بھاری پتھر کا درجہ رکھتے ہیں اور پاکستان میں ایک طبقہ بس یہی کئے جارہا ہے۔اسے اصلاح احوال کےلئے اپنا ٹھوس کردار ادا کرنا مشکل لگتا ہے۔

پنجاب میں حقوق نسواں بل کے بعد تشدد کا نشانہ بننے والی خواتین اور متشددشوہر کے لئے” ڈیجیٹل کڑا“ ایک ایسا قانونی ”زیور“ ہوگا جسے مرد بالخصوص علماءحضرات نے مردانگی کی توہین قراردے دیا ہے ۔حالانکہ اس سال سے جدید ٹیکنالوجی سے مرصّع یہ ڈیجیٹل کڑاعلماء کے لئے انہونا نہیں رہے گا ۔ کس قدر حیرانی کی بات ہے کہ حالیہ قانون کے تحت پنجاب میں جرم کی گواہی دینے والے ڈیجیٹل کڑے(جی پی ایس بریسلٹ)پر واویلا کیا جارہا ہے لیکن سعودی عرب نے رواں سال سے حاجیوں کو ڈیجیٹل کڑے پہنانے کاجو اعلان کیا ہے اس پر کسی نے تحفظات کا اظہار نہیں کیا۔اس کی وجہ ظاہر ہے حالات اور مقام کی نوعیت قرار دی جائے گی لیکن کیا ہمارا یہ طرز عمل دوہرا نہیں ہے کہ ایک ہی ٹیکنالوجی کا استعمال دوسری جگہ پر جا کر احسن تسلیم کرلیتے ہیں لیکن اس ٹیکنالوجی سے جب پسی ہوئی مظلوم عورت کو اخلاق باختہ اورمتشدد نکھٹوشوہروں سے بچانے کے لئے بطور سزا اور نگران کلائی یا ٹخنے سے جوڑا جائے گا تو اس کے استعمال کو یہودی ٹیکنالوجی وغیرہ قرار دیکر ملعون کہہ دیا جائے گا۔ اور یہ نہیں سوچا جائے گا کہ پاکستانی معاشرے میں ڈیجیٹل کڑے کتنی بڑی تبدیلی کا باعث بن سکتے ہیں۔

پاکستان دنیا کا واحد مہذب ملک ہے جہاں ستّر سے نوے فیصد خواتین کو کسی نہ کسی صورت میں تشدد کا شکار ہونا پڑتا ہے اور پانچ ہزار سے زائد خواتین اس تشدد کی وجہ سے ہلاک ہوجاتی ہیں۔خواتین کو ملکی ترقی کے دھارے میں لانے اور انکے مذہبی و قانونی حقوق کے تحفظ کے لئے کئی طرح کے اقدامات اٹھائے جاچکے ہیں مگر پھر بھی خواتین کو مردوں کے ظلم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسی صورتحال میں جب وہ قانون کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہیں تو گواہی نہ ہونے سے وہ انصاف سے محروم ہوجاتی ہیں ۔لہذا متاثرہ خواتین کی حفاظت کے لئے جدید ٹیکنالوجی سے مدد لینا وقت کی اہم ضرورت بن گیا ہے۔ اس وقت کئی مہذب اور ترقی یافتہ ملکوں میں اس جدید ٹیکنالوجی نے بدخصلت اور عادی مجرموں کو سیدھی راہ دکھا دی ہے۔ ان ممالک میں افرادکوجی پی ایس بریسلٹ کلائی اور ٹخنے پرباندھے جاتے ہیں ۔یہ افراد ضمانت پر رہا ہوں یا وہ عادی شراب نوش ہوں، ان کا جرم بولتا ہے تو ریکارڈ ہوتا جاتااور انکی ایک ایک حرکت کی گواہی مہیا کرتا چلا جاتا ہے۔یورپ و امریکہ میں جرم کی گواہی اور مجرموں کی نقل و حرکت کا ریکارڈ محفوظ کرنے والا یہ نظام ایک موثر اقدام سمجھا جاتا ہے۔ اسے کئی طرح سے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ امریکہ اور یورپ میں جی پی ایس بریسلٹ سماجی رویوں اور بیماریوں کو ختم کرنے کا باعث بن جاتے ہیں۔ عدالتی حکم پر کئی شرابی اداکاروں کو اینکل مانیٹرز(ٹخنے کا کڑا) لگا دیئے جاتے ہیں جبکہ ظلم و تشدد کے عادی مرد وزن کو بھی جی پی ایس بریسلٹ پہنائے جاتے ہیں۔جی پی ایس مانیٹرنگ بریسلٹ کو ذہنی و جسمانی طور پر معذور بچوں اور بوڑھوں کی حفاظت اور دیکھ بھال کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے اور اس حوالے سے جی پی ایس بریسلٹ کی کئی اقسام بھی مارکیٹ میں عام دستیاب ہیں۔ مثلاً الزائمر کے مریضوں کے لیے الگ طرح کے جی پی ایس بریسلٹ بنائے گئے ہیں تو متشدد، شرابی اور دیگر نوعیت کے عادیوں کے اعتبار سے ان کڑوں کی ٹیکنالوجی بھی مختلف ہوتی ہے۔

جی پی ایس بریسلٹ کا تصوّر خالصتاً انصاف فراہم کرکے معاشرے میں توازن اور تربیت کا ماحول پید اکرنے کی طرف اٹھایا جانے والا ایک ایساقدم تھا جسے نیو میکسیکو کے ایک جج میک نے1983ءمیں قابل استعمال بنایاتھا۔ مذکورہ جج کو جی پی ایس بریسلٹ سے جرائم روکنے کا خیال سپائیڈر مین ڈرامہ دیکھنے کے بعد آیا تھا۔ سپائیڈر مین جیسامعروف ڈرامائی کردار جی پی بریسلٹ استعمال کرتا تھا جس نے جج کو اس کے کثیر المقاصد استعمال پر مجبور کردیااور اس نے مجرموں کو مانیٹر کرانے کے لئے جی پی ایس بریسلٹ پہنوا دئیے ۔ پھر جب اس کا استعمال عام ہوا تو امریکہ و یورپ میں غیر ملکی طالب علموں بالخصوص امریکہ میں بھارتی اور برطانیہ میں شام کے طلبہ کو جی پی ایس بریسلٹ سے مانیٹر کیا جانے لگا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو جی پی ایس بریسلٹ ہوں یا اینکل مانیٹر، یہ گھر میں نظر بندی کی سزا کا ایک نرم انداز ہےں۔ گھر میں نظر بند ہونے والا گھر کی چار دیواری سے باہر نہیں نکل پاتا۔ لیکن جی پی ایس مانیٹرنگ سے منسلک جرائم پیشہ افراد آزادانہ گھومتے ہوئے بھی قید ہوتے ہیں۔ ایک منظم نظام انہیں مسلسل نظر میں رکھتا ہے۔یہی نظام پنجاب میں گھریلوخواتین کے تحفظ کے لئے استعمال ہوگا تاہم عدالتی حکم پر جی پی ایس بریسلٹ کے اطلاق کے بعد اس کے مانیٹرنگ سسٹم کے خدوخال سامنے نہیں آئے اور یہ نہیں بتایا گیا کہ جی پی ایس مانیٹرنگ کون سا محکمہ کرے گا اور اس کا انفراسٹرکچر کیا ہوگا۔ اس نظام کار کے بننے کے بعد اس کے مؤثر ہونے میں کتنا وقت لگے گا،اسکا اندازہ کرکے ہی اس نظام کی افادیت سے فائدہ اٹھایا جاسکے گا۔

مزید : بلاگ