وہ لوگ جنہیں جرمنی اپنے ملک میں بُلا کر نوکری دینا چاہتا ہے، اگر آپ میں بھی یہ ایک خصوصیت پائی جاتی ہے تو فائدہ اُٹھا سکتے ہیں

وہ لوگ جنہیں جرمنی اپنے ملک میں بُلا کر نوکری دینا چاہتا ہے، اگر آپ میں بھی یہ ...
وہ لوگ جنہیں جرمنی اپنے ملک میں بُلا کر نوکری دینا چاہتا ہے، اگر آپ میں بھی یہ ایک خصوصیت پائی جاتی ہے تو فائدہ اُٹھا سکتے ہیں

  

برلن(مانیٹرنگ ڈیسک)اگر آپ ہنرمند ہیں ا ور کسی یورپی ملک جانے کی خواہش رکھتے ہیں تو ہنرمندی کے ساتھ ساتھ جرمن زبان سیکھ لیں،کیونکہ جرمنی نے غیریورپی ممالک کے ہنرمند افراد کے لیے بھی اپنے دروازے کھول دیئے ہیں اور اس کی بنیادی شرائط میں ہنرمند ہونا اور جرمن زبان پر عبور حاصل ہونا شامل ہیں۔

نیوز ویب سائٹ دی لوکل ڈاٹ ڈی ای کی رپورٹ کے مطابق جرمنی نے اپنے میگریشن سسٹم میں تبدیلی کرتے ہوئے تجرباتی طور پر درجہ بندی پر مبنی امیگریشن سسٹم لاگو کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد غیریورپی ممالک کے ہنرمند افراد کو اپنی طرف راغب کرنا ہے کیونکہ یورپ کی سب بڑی معاشی طاقت جرمنی میں اس وقت ہنرمند افراد کی کمی ہے جس سے وہ پریشان ہے اور اس کمی کو پورا کرنا چاہتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بنیادی طور پر جرمنی ریاست بینڈین ورٹم برگ (Banden Wuerttemberg)نے یہ اقدام کینیڈا اور نیوزی لینڈکے امیگریشن سسٹم سے متاثر ہو کر اٹھایا ہے۔ بینڈین ورٹم برگ ریاست میں آٹوموبائل اور مشینری فرمز کا گڑھ ہے اور یہی ریاست زیادہ تر ہنرمند ورکرز کی کمی کا شکار رہتی ہے۔

مزید جانئے: وہ ملک جہاں 24 ہزار سرکاری ملازمین کو ایک ہی دن برطرف کردیا گیا، یہ لوگ کون تھے؟ ایسا انکشاف کہ پاکستانی سرکاری افسران بھی دنگ رہ جائیں

خزاں کے موسم سے جرمنی غیر یورپی ممالک کے باشندوں کو ویزے دینا شروع کرے گا اور ایک مخصوص تعداد کو اپنے ملک میں کام کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔درجہ بندی کے اس نظام میں جرمن زبان پر عبور کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔اس حوالے سے 100درجے بنائے گئے ہیں۔ ویزے کے لیے درخواست دینے والوں کو جرمن زبان پر جتنا عبور حاصل ہو گا انہیں اسی تناسب سے درجے دیئے جائیں گے۔ جرمنی کے علاوہ انگریزی اور فرانسیسی کو بھی درجہ بندی کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ درخواست دہندہ کا جرمنی سے کوئی تعلق بھی ان کے پوائنٹس میں اضافہ کرے گا۔یورپی ممالک کے باشندوں کو پوائنٹس پر مبنی اس سسٹم کے تحت ویزے حاصل کرنے کا اہل قرار نہیں دیا گیا کیونکہ یورپی باشندے پہلے ہی یورپی یونین کے قوانین کے تحت جرمنی جانے اور وہاں کام کرنے کی آزادی رکھتے ہیں۔جرمن وزیر محنت اینڈریا نیلس(Andrea Nahles)کا کہنا تھا کہ ”مستقبل میں ہمارے معیار زندگی کا انحصار اس بات ہوگا کہ ہمارے ملک میں کتنے لوگ کام کر رہے ہیں اور ملک کی خوشحالی میں حصہ ڈال رہے ہیں۔ ہم اپنے لوگوں کو بھی ہنرمند بنا رہے ہیں لیکن یہ تعداد ہمارے ملک کی ضرورت سے بہت کم ہے، اس لیے ہمیں دیگر ممالک سے بھی پڑھے لکھے ہنرمند افراد کو بلانے کی بھی ضرورت ہے۔“

مزید : بین الاقوامی