پاکستان سے ایک مطالبہ جس کے لئے ایرانی صدر نے خود پاکستان آنے کا فیصلہ کر لیا

پاکستان سے ایک مطالبہ جس کے لئے ایرانی صدر نے خود پاکستان آنے کا فیصلہ کر لیا
پاکستان سے ایک مطالبہ جس کے لئے ایرانی صدر نے خود پاکستان آنے کا فیصلہ کر لیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے کے بعد ایرانی صدر حسن روحانی رواں ماہ کے آخر میں پاکستان کا دورہ کریں گے ، دورے کا مقصد ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ کے حوالے سے جاری ترقیاتی کاموں کی رفتار کو تیز کرنے کے بارے میں تبادلہ خیال کرنا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ 2014ءمیں مکمل ہونا تھا لیکن تہران پر پابندیاں عائد ہونے کے بعد اس منصوبے پر کام تاخیر کا شکار ہوکر رہ گیا تھا۔ حکام کے مطابق اب اس منصوبے کے مکمل ہونے کے امکانات موجود ہیں۔ ایرانی صدر اپنے دورہ پاکستان میں اس منصوبے کی تکمیل کے حوالے سے تبادلہ خیال کریں گے جس کو پاکستان پہلے ہی ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے سے مشروط کر چکا تھا۔ تہران پر سے پابندی اٹھائے جانے کے بعد پاکستان کی جانب سے اس منصوبے کی تکمیل میں تاخیر کی صورت میں پاکستان پر لاکھوں ڈالرز جرمانے کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

ایران پاکستان سے ایل این جی پائپ لائن معاہدے پر سنجیدگی سے عمل درآمد کروانے کا خواہشمند ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین ایل این جی درآمد کرنے کے بڑے منصوبے پر عملدرآمد اسی صورت میں ممکن ہےکہ گوادر پر پائپ لائن کا جال بچھایا جا ئے ، جہاں سے ملک کو گیس کی سپلائی ممکن بنائی جائے ۔ گوادر کے مقام پر ٹرمینل کا قیام بھی اس مقصد کے حصول میں کافی معاون و مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ گوادر ایل این جی پائپ لائن منصوبہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کا متبادل ہے جس پر تہران پر عائد امریکی پابندیوں کے وجہ سے کام روک دیا گیا تھالیکن پابندیوں کے اٹھائے جانے کے بعد اب اگلے دو برس میں اس منصوبے کے مکمل ہونے کے امکانات میں اضافہ ہو گیا ہے۔اس منصوبے کے تحت ایل این جی پائپ لائن گوادار سے نوابشاہ تک بچھائی جائے گی اور گوادر پر ٹرمینل بھی تعمیر کیا جائے گااور اس پائپ لائن کو ایران کے بارڈر تک پہنچایا جائے گاجس پر 200ملین ڈالرز کی لاگت آئے گی۔

وزرات پٹرولیم کو اس منصوبے پر عملدرآمد کرنے کے حوالے سے خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حکام کے مطابق وزرات خزانہ گیس صارفین پرعائد ٹیکسوں سے حاصل ہونیوالی رقم جو کہ قریباً 300ملین ڈالرز بنتی ہے قومی بجٹ خسارے کو پورا کرنے کی مدمیں پہلے ہی استعمال کر چکی ہے اورگوادر پائپ لائن منصوبے پر خرچ آنیوالی 2بلین ڈالر کی رقم کی ادائیگی کرنے سے قاصر ہے۔وزرات پٹرولیم و معدنی ذخائر کی جانب سے وزرات خزانہ کو گیس انفراسٹریکچر ڈیویلپمنٹ ٹیکس کی مد میں جمع کئے گئے فنڈز جاری کرنے کی درخواست کی جا چکی ہے جسے ملک میں گیس درآمد کرنے کے منصوبوں پر استعمال کرنا مقصود ہے۔

وزرات خزانہ کی جانب سے فنڈ جاری کرنے کی بجائے وزرات پٹرولیم کوکمرشل بنکوں سے 100بلین روپے کے قرضے اٹھانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔اس سے قبل محکمہ گیس درآمدی ایل این جی کی ترسیل کی صلاحیت کو بہتر بنانے کےلئے پائپ لائنز کا جال بچھانے میں مصروف عمل تھا۔ تاحال گیس انفراسٹریکچر ڈیویلپمنٹ چارج کی مد میں صارفین سے 183.86بلین روپے جمع کئے جا چکے ہیں جنہیں جنوری 2012ءمیں گیس کی درآمد کے منصوبوں پر خرچ کرنا تھا جبکہ وزارت خزانہ یہ ساری رقم خرچ کر چکی ہے اور اس کے پاس اس رقم کا کچھ بھی حصہ باقی نہیں ہے۔

حکومت پاکستان گوادر ایل این جی پائپ لائن منصوبے کی مارچ کے آخر تک تکمیل کو یقینی بنانے کےلئے چینی کمپنی سے معاہدہ کرنے کے سلسلے میں بات چیت کر رہی ہے۔ اس مقصد کے حصول کےلئے چینی حکومت کی جانب سے چائنہ پٹرولیم پائپ لائن بیورو کو منتخب کیا گیا ہے جو کہ اس سارے منصوبے پر آنیوالی مالی لاگت کا 85فیصد رقم ادا کرے گی جبکہ باقی ماندہ 15فیصد حکومت پاکستان ادا کرے گی۔یہ کمپنی دنیا کے بیشتر ممالک بشمول میانمار، بنگلہ دیش، روس اور دیگر ممالک میں 8000کلومیٹرسے زائد گیس پائپ لائنز کا جال بچھا چکی ہے ۔ ترکمانستان سے چین تک پائپ لائن بچھانے کا سہرا بھی اسی کمپنی کے سر جاتا ہے۔

پاکستانی وزرات پٹرولیم کواس منصوبے کو 2017ءکے اواخر میں مکمل کرنا ضروری ہے تاہم وزرات خزانہ کی جانب سے 300ملین ڈالرز کے فنڈز جاری کئے جانے میں تاخیر اس منصوبے کی مقررہ مدت میں تکمیل کو یقینی بنانے کےلئے بڑی مشکلات کھڑی کر رہی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ فنڈز کا بروقت اجرا ءنہ ہونے سے اس منصوبے کو مقررہ وقت میں مکمل کر پانا ناممکن ہو جائے گا۔ اب وزرات پٹرولیم اس منصوبے کےلئے ضروری فنڈز کے اجراءکےلئے اکنامک کوارڈنیشن کمیٹی (ECC)کو سمری ارسال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

مزید : بین الاقوامی