ہائی کورٹ نے کرپشن کیس میں ملوث دو سرکاری افسروں کی درخواستیں خارج کردیں

ہائی کورٹ نے کرپشن کیس میں ملوث دو سرکاری افسروں کی درخواستیں خارج کردیں
ہائی کورٹ نے کرپشن کیس میں ملوث دو سرکاری افسروں کی درخواستیں خارج کردیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکوں میں مبینہ کرپشن کی انکوائری کے خلاف محکمہ پبلک ورکس کے دو افسروں کی درخواستیں خارج کر دیں، جسٹس طارق عباسی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے محکمہ پبلک ورکس کی ایگزیکٹو انجینئرحمیرا خرم اور ایس ڈی او خورشید مرزا کی درخواستوں پر سماعت کی،د رخواست گزاروں کی طرف سے عامر سہیل ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ ایف آئی اے نے ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکوں میں مبینہ کرپشن کا مقدمہ درج کیا، ایف آئی اے کی تفتیش میں ثابت ہوا کہ جن ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکوں کا معاملہ ہے ، ان ٹھیکوں پر کبھی کام ہی شروع نہیں ہوا، سنٹرل عدالت میں ٹرائل شروع ہوا تو یہ معاملہ نیب کو منتقل ہو گیا اور نیب نے انکوائری شروع کر دی، نیب کو انکوائری کا اختیار نہیں ہے لہذا نیب کو انکوائری کرنے سے روکا جائے، نیب کے وکیل نے موقف اختیار کیاکہ اس معاملے پر ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کر دیا گیا ہے، اب ہائیکورٹ میں زیر التواءدرخواستیں غیرموثر ہیں، درخواست گزاروں کو اب ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنا چاہے، فاضل بنچ نے دونوں طرف سے دلائل سننے کے بعد درخواستیں خارج کر دیں۔

مزید : لاہور