پبلک سیکٹر کمپنیوں میں لیگی ارکان سمبلی کی شمولیت ،ہائی کورٹ نے چیف سیکرٹری اور متعلقہ ایم پی ایز سے جواب طلب کرلیا

پبلک سیکٹر کمپنیوں میں لیگی ارکان سمبلی کی شمولیت ،ہائی کورٹ نے چیف سیکرٹری ...
پبلک سیکٹر کمپنیوں میں لیگی ارکان سمبلی کی شمولیت ،ہائی کورٹ نے چیف سیکرٹری اور متعلقہ ایم پی ایز سے جواب طلب کرلیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کی پبلک سیکٹر کمپنیوں میں مسلم لیگ (ن) کے 12ارکان اسمبلی کی شمولیت کے خلاف تحریک انصاف کی درخواست قابل سماعت قرار دیتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب اور مسلم لیگ (ن) متعلقہ ارکان اسمبلی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تفصیلی جواب طلب کر لیاہے۔جسٹس علی اکبر قریشی نے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی میاں محمود الرشید کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی طرف سے شیراز ذکاءایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ پنجاب حکومت نے صاف پانی کمپنی، لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی، لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی، لاہور پارکنگ کمپنی اور ایگریکلچر میٹ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں مسلم لیگ (ن) کے 12اراکین اسمبلی کو شامل کر رکھا ہے جن میں ایم پی اے رمضان صدیق بھٹی، حسین جہانیاں گردیزی، نسرین نواز، کرن ڈار، امان اللہ خان، قاضی عدنان فرید، رانا بابر حسین، چودھری لعل حسین، محمود قادر خان، انجینئر قمر الاسلام راجہ، وحید گل اور ماجد ظہور شامل ہیں، انہوں نے مزید مﺅقف اختیار کیا کہ ن لیگ کے اراکین اسمبلی کمپنیوں کی آڑ میں کرپشن کر رہے ہیں اور اپنی من پسند کمپنیوں کو آگے ٹھیکے دے رہے ہیں، پبلک سیکٹر کارپوریٹ گورننس رولز کے مطابق اراکین اسمبلی کو کسی پبلک سیکٹر کمپنی میں شامل نہیں کیا جا سکتا ، پنجاب حکومت ان کمپنیوں کی آڑ میں بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات استعمال کر رہے ہیں جو آئین کے آرٹیکل 140(اے )کی خلاف ورزی ہے، انہوں نے استدعا کی کہ ان اراکین اسمبلی کی پبلک سیکٹر کمپنیوں میں تعیناتی کالعدم کی جائے، عدالت نے چیف سیکرٹری پنجاب اور 12اراکین اسمبلی سے 18مارچ تک جواب طلب کر لیاہے۔

مزید : لاہور