حقوق نسواں بل، حکومت اور مذہبی قائدین ملکر معاملہ حل کریں:طاہر محمود اشرفی

حقوق نسواں بل، حکومت اور مذہبی قائدین ملکر معاملہ حل کریں:طاہر محمود اشرفی
حقوق نسواں بل، حکومت اور مذہبی قائدین ملکر معاملہ حل کریں:طاہر محمود اشرفی

  

لاہور ( نمائندہ خصوصی ) پاکستان علماءکونسل کے مرکزی چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ  بعض قوتیں ملک میں انتشار اور فساد پھیلانے کیلئے مذہبی طبقہ اور حکومت کے درمیان تصادم کی فضا پیدا کرنا چاہ رہی ہیں ۔ حقوق نسواں بل پر پنجاب حکومت کے ذمہ داران اور مذہبی قائدین کو مل بیٹھ کر معاملہ حل کرنا چاہیے ۔ ممتاز قادری کے جذبات کو استعمال کرنے والوں نے عدالت میں اس کو تنہا چھوڑ دیا۔ یہ بات پاکستان علماءکونسل کے مرکزی چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے مختلف مکاتب فکر کے علماءو مشائخ سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ۔ اس موقع پر مولانا حافظ محمد امجد، مولانا سمیع اللہ ربانی ، مولانا اسداللہ فاروق ، مولانا حافظ محمد شعیب ، مولانا محمد مشتاق لاہوری ،مولانا عبد القیوم ، مولانا اسلام الدین بھی موجود تھے ۔ انہوں نے کہا کہ توہین رسالت کے قانون کو ختم کرنے کی باتیں کرنے والے پاکستان کے حالات سے ناواقف ہیں ، توہین رسالت کے قانون کی پاکستانی عوام محافظ ہے اور اسے کوئی ختم نہیں کر سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران پیدا کیے گئے حالات سے اندازہ ہو رہا ہے کہ بعض قوتیں حکومت اور مذہبی قوتوں کے درمیان تصادم پیدا کر کے ملک میں انتشار و فساد چاہتی ہیں ۔ حکومت اور مذہبی قائدین کو اس پر غور کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں حقوق نسواں بل پر مذہبی و سیاسی جماعتوں کے تحفظات کو دور کیا جانا چاہیے اور اس کیلئے وزیر اعلیٰ پنجاب اپنا کردار ادا کریں ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام خواتین پر تشدد کی بھر پور مذمت کرتا ہے ۔ اسلام کسی بھی صورت خواتین پر تشدد کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا ۔‎

مزید : لاہور