سوچ سے خیال تک

سوچ سے خیال تک

  

بہت سی تحریریں پڑھتے ہوئے تاثر ملتا ہے کہ شاید لکھنا نہایت آسان کام ہے سچی بات ہے کہ لکھنا ہر گز آسان نہیں۔ اس میں محنت ،مطالعہ اور تخلیق سب ہی درکار ہوتی ہیں۔اگر ایک شے کی بھی کمی ہو تو تحریر اپنا اثر، حُسن اور کشش کھو دیتی ہے اور اگر زور لگا کر کچھ بتانے کی کوشش بھی کی جائے تو قاری زور لگانے کے باوجود چند سطروں سے زیادہ نہیں پڑھ سکتا اور اصل تحریر مغز سے نا واقف رہتا ہے اس لئے کوشش یہ ہوتی ہے کہ اصلاحی تحریر ہو۔

کہا جاتا ہے موت کو یادرکھو لیکن موت کی آرزونہ کرو کیونکہ زندگی خدا تعالیٰ کی دی ہوئی نعمت ہے اور نعمت پر رب کا شکر ادا کیا جاتا ہے اس کے خاتمے کی آرزو نہیں کی جاتی۔

بعض انسان بلبل اور بعض گدھ کی مانند ہوتے ہیں بلکہ میں تو کہوں گا انسان کی خوشبو بھی ہوتی ہے جو پھولوں کی خوشبو کی طرح الگ الگ اور مختلف ہوتی ہے بعض خوشبو تیز اور بعض بھینی ہوتی ہے۔ انسان ظاہر کا نام ہر گز نہیں بلکہ یہ تو باطن ،عادت اور کردار کا نام ہوتا ہے انسان وہ نہیں جو سب کو نظر آرہا ہوتا ہے بلکہ وہ ہے اس کے اندر بستاہے۔اکثر لوگ دیکھنے میں نہایت خوش لباس اور سجے ہوئے ہوتے ہیں لیکن برتاؤ میں دغا باز جھوٹے،مکار، رشوت خور اور مغرور ہوتے ہیں اور دوسروں کو اپنے مفادات کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں انگریزی کا ایک مقولہ مشہور کہ ظاہر پہ نہ جاؤ ظاہر عام طور پر نظر کا دھوکہ ہوتا ہے ،مشاہدہ کی بات ہے کہ بعض لوگوں سے انسان کی ملاقات خوش قسمتی اور بعض کے ساتھ بدقسمتی ہوتی ہے اور انسان یہ سوچتا ہے کہ کاش میرا ان سے تعارف نہ ہوتا کیونکہ ان کے شرسے وہی لوگ محفوظ رہتے ہیں جن کا ان سے پالا نہیں پڑتا انسان کی وہ قسم عظیم ترین اور اعلیٰ معیار کی ہوتی ہے جن کے اندر اللہ ھو کی گردش رہتی ہے یہ اولیاء اللہ باطن کے صاف لوگ ہوتے ہیں جو اللہ کی ہر قسم کی مخلوق سے پیار کرتے ہیں جن کے دروازے ہر غریب ،امیر خاص عام،معصوم اور بدکار،اور مسلمانوں اور غیر مسلموں کے لئے ہر وقت کھلے رہتے ہیں۔ اصل میں یہ لوگ ہم سب کے لئے مشعل راہ ہوتے ہیں حضرت شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں انسان بھی کیا عجب چیز ہے دولت کمانے کے لئے اپنی صحت کھو دیتا ہے اور پھر صحت کوپانے کے لئے دولت کھو دیتا ہے۔ اگر ہم شروع سے ہی اس احساس کے ساتھ زندگی گزاریں تو دنیا اور آخرت دونوں کا سفر ہمارے لئے کٹھن ہرگز نہ ہو۔ لیکن بدقسمتی سے ہم ایسے جیتے ہیں کہ جیسے کبھی مرنا ہی نہیں اور مرتے ہیں تو ایسے مرجاتے ہیں کہ جیسے کبھی جیئے ہی نہیں اور اوقات صرف اتنی ہے کہ جس زندگی پر انسان اکڑتا ہے وہ زندگی روح کی غلام اور کچی مٹی کے ایسے دیے کی طرح ہوتی ہے جو ہوا کے جھونکے سے بجھ جاتی ہے اور پھر مٹی(جسم) مٹی میں مل کر مٹی ہو جاتی ہے۔اگر فقط ہمیں صرف اتنا یاد رہے کیہ زمین بڑے بڑے فرعون ،قارون اور سیاسی لیڈرز کو کھا چکی ہے تو انسان کبھی بھی کسی سے دھوکہ نہ کرے غلط بیانی نہ کرے اپنی دولت کے نشہ میں بہک کر غرور نہ کرے اور خلق خداکو چھوٹا نہ سمجھے۔جب آپ اقتدار ،دولت ،شہرت اور قابلیت کو اللہ کی نعمت کی بجائے اپنی محنت اور ذوربازو کا نتیجہ سمجھنے لگتے ہیں تو یہی محنت اور نعمت میں فرق ہے۔جب آپ اسے نعمت سمجھیں گے تو ان تمام نعمتوں کو شکر کے جذبے کے تحت اپنے رب کی خوشنودی کے لئے استعمال کریں گے اور جب رب کی خوشنودی مقصود ہوگی تو پھر آپ میں غرور رہے گا نہ تکبر اور نہ ہوس بلکہ آپ کو اطمینان قلب کا تحفہ ملے گا۔لیکن دولت،شہرت ،منصب کو اپنی محنت اور ذورِ بازو کا نتیجہ سمجھا جائے تو پھر وہ تکبر کو جنم دیتا ہے۔ حیرت ہے کہ ان کی نمازیں اور ٹخنوں سے اوپر شلواریں بھی ان کے تکبر کو کھاتی ہیں اور نہ ہوس کو اور نہ ہی جھوٹ سے روکتی ہیں۔

اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے خدا ہمیں ایسی سوچ کے ساتھ زندہ رکھے کہ ہم چھوٹی چیز میں خیر ،امن اور بھلائی تلاش کریں اور اپنی سوچ کی تبدیلی کے ساتھ باطن، ظاہر عمل اور کردار کو اسلام کی روشنی میں رہتے ہوئے مثبت سمت میں رکھیں۔ (امین)

مزید :

کالم -