شریعت میں جہیز دینے کی پابندی ہے نہ نکاح کے عوض مال کا لین دین جائز: مفتی منیب

شریعت میں جہیز دینے کی پابندی ہے نہ نکاح کے عوض مال کا لین دین جائز: مفتی منیب
شریعت میں جہیز دینے کی پابندی ہے نہ نکاح کے عوض مال کا لین دین جائز: مفتی منیب

  

لیہ (صباح نیوز) چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمن نے کہا ہے کہ شریعت میں جہیز دینے کی کوئی پابندی نہیں تاہم نکاح کے عوض کسی طرح کے مال کا لین دین جائز نہیں، جہیز نے ہمارے معاشرے میں نکاح کو انتہائی مشکل عمل بنا دیا ہے۔

”فوج میں کرپشن کی نشاندہی پر اب تک کوئی اقدام کیوں نہیں کیا گیا “، تیج بہادر نے مودی کیلئے نیا پیغام جاری کر دیا

جہیز بہت ساری معاشرتی خرابیوں کا حامل ہے، سب سے بڑی خرابی شادی اور نکاح میں رکاوٹ ہے، بعض اوقات، تعلیم یافتہ، باصلاحیت، خوبصورت دیندار اور بااخلاق لڑکیاں جہیزکی استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے بن بیاہی رہ جاتی ہیں، اس رسم کے پھیلائو میں معاشرے کی مجموعی بے حسی، خود غرضی، لالچ اور خدا خوفی کی کمی شامل ہیں، لیکن سب سے بڑی وجہ ہندوانہ رسوم ہیں، غیرملکی چینلزکے ڈراموں اور فلموں نے ہم سے ہماری ثقافت کو چھین کراپنی ثقافت کو مسلط کردیا ہے، نکاح جتنا آسان ہو گا گناہ کے دروازے اتنے ہی بند ہوںگے، شریعت میں جہیز دینے کی کوئی پابندی نہیں خاتون جنت کو سرکار دوجہاںؐ نے جو جہیز دیا وہ ہمارے معاشرے میں رائج جہیزکی طرح نہیں تھا بلکہ خانہ داری کی کم ازکم بنیادی ضروریات تھیں۔ اگر دولہا غربت کی وجہ سے گھرکا ضروری سامان خریدنے کی قدرت بھی نہ رکھتا ہو اس صورت میں دلہن کے والدین اگراس کے ساتھ مالی تعاون کرنا چاہیںتو حرج نہیں بلکہ ثواب ہے۔

مزید :

لیّہ -