A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

معلوماتی سفرنامہ۔۔۔ستائیسویں قسط

معلوماتی سفرنامہ۔۔۔ستائیسویں قسط

Mar 01, 2017 | 14:12:PM

ابویحییٰ

چاول، انڈا آلو اور میں

کھانے کا ذکر آیا ہے تو اپنا معاملہ بھی بیان کردوں۔یہاں قیام کے دوران فش برگر کے علاوہ میرے مینو میں صرف تین چیزیں شامل تھیں: چاول، انڈا، آلو۔یہ صورتحال میرے دوست طارق کی کینیڈا آمد کے بعد تبدیل ہوئی جب انہوں نے کھانا پکانے کی ذمہ داری سنبھالی۔ دراصل ساری زندگی جو کام میں نے کبھی نہیں کیا وہ کچن میں جاکر کھانا پکاناتھا۔ اس معاملے میں میرے علم و ہنر کی انتہا چائے بنانااور انڈا ہالف فرائی کرنا تھا۔ اس میں بھی میرا کیا کرا یا میرے ہی سامنے آتا اور کوئی دوسرا میرے اعمال کا بوجھ اٹھانا پسند نہیں کرتا تھا۔ مجھے اپنی بنائی ہوئی چائے اور اپنا تلا ہوا انڈا خود ہی زہر مارکرناپڑتا۔

زندگی میں ہر موقع پر خواتین کے ساتھ ہونے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ جب ان کے بغیر زندگی گزارنی پڑے تو یہ ایک سزا بن جاتی ہے۔ کینیڈا کے آزاد ماحول میں یوں توکسی بھی خاتون کی خدمات حاصل کرنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔ مگر جن ’’بنیادی ضرورتوں ‘‘ کے لیے یہاں خواتین دامے ، درمے، قدمے، سخنے دستیاب تھیں وہ میرا مسئلہ نہ تھا۔ میرے مسئلے میں تو خواتین میں چاند سورج کا عکس نظر آنے کے بجائے خود چاند سورج روٹیاں لگنے لگتے ہیں۔مگر ایسی خواتین جو مرد کو باورچی خانے سے بے نیاز کردیں اب پاکستان میں بھی ناپید ہوتی جارہی ہیں تو کینیڈ امیں کہاں سے ملتیں۔

معلوماتی سفرنامہ۔۔۔چھبیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

شروع میں کچھ دن تو گزارا ہوگیا مگر آخر کار اس میدان میں کودنا پڑا۔ نگہت باجی کونیویارک فون کرکے پوچھا کہ سب سے آسان کھانا کونسا ہوتا ہے۔ جواب میں انہوں نے کہا کہ سارے کھانے آسان ہوتے ہیں۔۔۔ شرط یہ ہے کہ دوسرا بنائے۔ وہ شادی سے پہلے خود بھی اسی فارمولے پر عمل کرتی تھیں۔ یعنی شادی سے قبل ان کا واحد آؤٹ پٹ چائے تھی جسے وہ کبھی کبھار گھر والوں کے بے حد اصرار پر بنادیتیں ۔ مگر شادی کے بعد شوہر ایسے ملے جن کے دل کی طرف جانے والا واحد راستہ پیٹ سے گزرتا تھا اس لیے ا ب وہ سارے کھانے بہت اعلیٰ بنانے لگی ہیں۔ بہرحال ان سے پوچھ کر آلو چاول بنانے سیکھے۔ اگلی ڈش آلو فرائی سیکھی۔ اس دوران انڈے پر ہر ممکنہ تجربہ کرتا رہا۔ مگر اس کے علاوہ کسی چوتھی چیز کو سیکھنے کا سوچا بھی نہیں کیونکہ یہ باتیں اگر میری منکوحہ کے علم میں آجاتیں تو عین ممکن تھا انہیں بیڈ روم سے کچن کا فاصلہ بہت طویل لگنے لگتا۔ ویسے بھی آج کل ہمارے ہاں عورتوں کے حقوق کا جتنا چرچا ہے اس کے بعد عین ممکن ہے کہ پیدائش کے وقت شوہر نامدار کو، گائنالوجسٹ کے علاوہ ، زچہ کو بھی نقد رقم فیس کی صورت میں ادا کرنی پڑے۔

کینیڈا کے تین W

امریکا کینیڈا کے بارے میں کہا جاتاہے کہ یہاں کے تینW کا کوئی بھروسہ نہیں۔ یعنی Woman, Work, Weather ۔ میں موخرالذکر یعنی خواتین کے متعلق کوئی رائے نہیں دے سکتا۔کیونکہ اس عرصے میں کوئی تجربہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ البتہ اول الذکر دونوں کا حال واقعی ایسا نظر آیا۔ امریکی معیشت سست روی کا شکار ہے۔جس کے اثرات کینیڈا پر بھی پوری طرح نمایاں ہیں۔ نتیجے کے طور پر بڑے پیمانے پر کمپنیاں ملازمین کو نکال رہی ہیں۔ کسی کو نہیں معلوم کہ کل نوکری پر جائے اور پرسوں نوکری سے جائے۔

دوسرے W کا بھی یہی حال ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے گرمی پڑنا شروع ہوگئی ہے۔ آخری دو دنوں میں تو یہ حال ہوا کہ اہل شہر کی حالت خراب ہوگئی۔ 65سالہ ریکارڈ ٹوٹنے کے قریب ہوگیا۔ خود مجھے بڑی گرمی محسوس ہوئی۔ اور درجۂ حرارت کتنا تھا؟ صرف 32ڈگری سنٹی گریڈ۔ مگر خربوزوں کو دیکھ کر خربوزے نے بھی رنگ پکڑ لیا۔ تاہم دوسرے خربوزوں کی طرح یہ خربوزہ نہ بیچ پرجاسکتا تھا نہ پول میں چھلانگ لگا سکتا تھا اور نہ اپنے چھلکے میرا مطلب ہے کہ کپڑے اتار کر گھوم سکتا تھا۔ گرمی کی اس لہر کے بعد صبح کو طوفان باد وباراں آیا۔ بارش اس قدر تیز تھی کہ پانی سیدھا گرنے کے بجائے 45 ڈگری کے زاویے پر گررہا تھا۔ بارش توکچھ دیر میں رک گئی مگر ٹھنڈی ہوا سارا دن چلتی رہی۔ گرمی جانے کے علاوہ اس ہوا کا دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ خواتین جو پچھلے دنوں آخری حد تک بے قابو ہوچکی تھیں دوبارہ جامے میں آگئیں۔ تاہم اے سی بیچنے والوں کے کاروبار پر اس کا برا اثر پڑا جو ایک دن پہلے تک آڈر بک کرتے کرتے تھک گئے تھے، اب خالی ہاتھ بیٹھے تھے یا کل کے آڈر کینسل کررہے تھے۔

کینیڈین خواتین کی خوبصورتی کا راز

اسی زمانے میں ارشد شادی کے بعد انڈیا سے چھٹیاں گزارکر لوٹ آئے۔اب ہم دونوں کااسٹیٹس برابر اور غم مشترکہ ہوچکا تھا۔ یعنی نکاح یافتہ مگر منکوحہ سے دور۔وہ اکثر مجھے ساتھ لے کر کہیں نہ کہیں نکل جاتے۔ ایک روز میں ارشد کے ساتھ کہیں سے واپس آرہا تھا ۔ دوران گفتگو ارشد نے کہا کہ یہاں کی خواتین ہماری خواتین سے زیادہ خوبصورت ہوتی ہیں۔ میں نے کہا کہ ایسی بات نہیں۔ یہاں کی خواتین اتنی خوبصورت نہیں ہوتیں جتنی لگتی ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔اول یہ کہ گورا رنگ جو ہمارے نزدیک خوبصورتی کا ایک بڑا معیار ہے وہ یہاں کی ہرخاتون میں ہوتا ہے۔ دوسرے یہاں کی ہر لڑکی کماتی ہے اور اپنی تنخواہ کو تمام تر اپنی ذات پر خرچ کرتی ہے۔ اس طرح بازار میں آرائشِ حسن کے جتنے کچھ ٹوٹکے دستیاب ہیں وہ باآسانی ان کی پہنچ میں ہیں۔تیسرے یہاں فیشن کا کریز اور نت نئے آئیڈیے ہم سے کہیں زیادہ ہیں جنہیں یہ خود پر آزماتی رہتی ہیں۔ چوتھے یہاں ٹیکنالوجی اتنی زیادہ ترقی یافتہ ہے کہ جو کسی سے نہیں ہوسکتا وہ ٹیکنالوجی کے ذریعے ہوجاتا ہے۔ مثلاََ کوسمیٹک سرجری سے چہرے اور جسم میں تناسب پیدا کرنا یا لیزر کے ذریعے جلد سے بالوں کی صفائی وغیرہ۔ پانچویں یہاں موٹاپے اور فٹنس کے معاملے میں لوگ اپنا بہت خیال رکھتے ہیں جبکہ ہماری خواتین شادی اور بالخصوص بچوں کے بعد اپنا خیال نہیں رکھتیں۔ چھٹی اور کافی اہم بات یہ ہے کہ چہرے کی جو کچھ کمی یہاں کی خواتین کی کشش کو کم کرتی ہے وہ اسے جسم کی نمائش سے پورا کرلیتی ہیں۔

میں اسے مزید دلائل گنوادیتا مگر اتنے میں گھر آگیا۔ وہ بیچارہ بھی قائل ہوگیا ۔ شاید آپ بھی ہوچکے ہوں اور جس کے لیے یہ لمبی داستان لکھی امید ہے وہ بھی قائل ہوچکی ہوگی۔ یہ باتیں اپنی جگہ مگر یہ حقیقت ہے کہ یہاں کی عورت اگر زیادہ خوبصورت ہو تب بھی جو حسن ہر راہ چلتے کو دعوتِ نظارہ دے اور ہر حوصلہ مند آغوش میں سماجانے کے لیے تیار ہو کوئی سلیم الفطرت شخص اس کا تاثر قبول نہیں کرسکتا۔

طارق کی آمداور میری دربدری

جولائی کے وسط میں میرے اور میرے بھائی رضوان کے ایک مشترکہ دوست طارق کو ٹورنٹو آنا تھا۔ یہ بھی جدہ میں جاب کرتے تھے۔ پچھلے سال میں نے اور میری اہلیہ نے ان کی فیملی کے ساتھ حج کیاتھا۔ انہوں نے مجھ سے رہائش کا بندوبست کرنے کے لیے کہا تھا۔ اس وقت میں جس جگہ مقیم تھا اس کی صفائی کے معیار سے مطمئن نہ تھا۔نیز میرا ارادہ تھا کہ میں وسط جولائی میں عمرے کے لیے روانہ ہوجاؤں۔ اس لیے میں نے سوچا کہ ایک نئی جگہ شفٹ ہوجاتاہوں۔ جہاں فی الوقت میں رہ لوں گا اور بعد میں طارق۔ لہٰذا میں ایک دوسری جگہ شفٹ ہوگیا جو کامران کے گھر کے قریب ہی تھی۔ مجھے اور میرے سامان کو نئے گھر تک ڈھونے کا فریضہ بھی کامران نے ہی سر انجام دیا۔

میں جن کے ہاں شفٹ ہوا تھا ان صاحب کا نام اطہر تھا۔ و ہ خاصے دیندار آدمی تھے اور ساتھ میں بہت صفائی پسند بھی۔ جب طارق آئے تو انہیں لے کر میں ان تمام جگہوں پر گیا جن کا تذکرہ دوسرے باب میں ہوچکاہے۔ یہاں کا ٹرانسپورٹ سسٹم اور دیگر تمام چیزیں میں نے انہیں سمجھادیں۔ میرا ارادہ تھا کہ طارق کی آمد کے دو چار دن بعد میں ان کے سارے کام کرواکر روانہ ہوجاؤں گا۔مگر اس کے بعد میری آزمائش کا وہ سلسلہ شروع ہو گیا جس کی بنا پر میرے پروگرام کے علاوہ ذہنی سکون کا بھی بیڑا غرق ہوگیا۔

عمرہ کی نئی پالیسی

سعودی حکومت نے عمرے کی نئی پالیسی شروع کی ہے۔ سعودی حکومت کے لیے اس کا مفہوم جو بھی ہو ایک عام آدمی کے لیے اس کا مطلب خواری، پریشانی، ذہنی کوفت اور زیادہ خرچے کے سوا کچھ نہیں۔ اس سے قبل طریقۂ کار بالکل سادہ تھا۔ حفاظتی ٹیکہ لگوانے کے بعد عمرے کا ویزا بلا تردد مل جاتا تھا۔ مگر اب عمرہ ویزا کے لیے مخصوص ٹریول ایجنٹ مقرر ہوئے۔ ان سے عمرہ پیکج خریدنا ضروری تھا۔ ٹورنٹو میں یہ ایجنٹ بہت زیادہ پیسے مانگ رہے تھے۔ میں نے اوپر ذکر کیا ہے کہ ٹورنٹو میں فیسٹیول کے موقع پر ہر کسی کو شریک کرنے کے لیے بسو ں کے پاس خصوصی رعایتی نرخ پر فروخت کیے جاتے ہیں۔کرسمس پر یہاں ہر چیز پر سیل لگ جاتی ہے۔ اس کے برعکس مسلمانوں کا معاملہ یہ ہوتاہے کہ انہیں اپنے بھائیوں کو لوٹنے کا کوئی موقع مل جائے۔ اس کے بعد یہ اندھے ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ سعودی حکومت کی پالیسی نے یہ موقع فراہم کردیا۔ سعودی حکومت، بقول ان ایجنٹس کے ، زرِ ضمانت کے طور پر ایک لاکھ ریال ان لوگوں سے لیتی تھی۔یہ پیسہ انہوں نے عام لوگوں سے اس طرح وصول کرنا شروع کردیاکہ جو پیکج وہ سعودی عرب سے 100ڈالر کا خریدتے وہ آگے 700 کا فروخت کرتے۔

بات صرف مہنگے پیکج کی ہوتی تو پھر بھی غنیمت تھا، مگر اس دوران میں پاکستانی ٹریل ایجنٹس کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے جھوٹ، بددیانتی، وعدہ خلافی اوربد اخلاقی کہ ایسے تجربات پیش آئے کہ طبیعت مکدر ہوگئی۔دراصل امریکا اور کینیڈا میں’’کافروں‘‘ سے معاملہ کرتے کرتے میں بھول گیاتھا کہ مسلمان کیسے ہوتے ہیں۔ ان لوگوں نے مجھے بہت اچھی طرح یاد دلادیا کہ مسلمان ایسے ہوتے ہیں۔ میں نے دوسرے باب میں لکھا تھا کہ ہم غیر مسلموں کے اس برے سلوک کا رونا روتے ہیں جو وہ ہمارے ساتھ کرتے ہیں۔وہ ہمارے ساتھ جیسے بھی ہوں اپنے لوگوں کے ساتھ بہت اچھے ہیں۔ ہم تو وہ بد نصیب ہیں جو اپنے بھائیوں کی جیب، دامن، گلا جسے موقع لگے کاٹ لیتے ہیں۔

جاری ہے۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں۔

( ابویحییٰ کی تصنیف ’’جب زندگی شروع ہوگی‘‘ دور جدید میں اردو زبان کی سب زیادہ پڑھی جانے والی کتاب بن چکی ہے۔انہوں نے درجن سے اوپر مختصر تصانیف اور اصلاحی کتابچے بھی لکھے اور سفر نامے بھی جو اپنی افادیت کے باعث مقبولیت حاصل کرچکے ہیں ۔ ان سے براہ راست رابطے کے لیے ان کے ای میل abuyahya267@gmail.com پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔)

مزیدخبریں