اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 100

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 100
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 100

  

حضرت سفیان ثوریؒ نے لوگوں سے فرمایا ’’اگر مجھے اس بات کا یقین کامل ہو گیا کہ اس دنیا میں کوئی شخص کسی آدمی کا محتاج نہیں تو مَیں ضرور لوگوں کے تحفے قبول کرلوں اور جو کچھ وہ لاتے ہیں وہ لے لوں، یا ان سے کوئی شے طلب کروں لیکن جب میں دیکھتا ہوں کہ بادشاہ ہو یا فقیر، امیر ہو یا غریب ہر شخص ایک دوسرے کا محتاج ہے اور ہر آدمی ضرورت مند ہے۔ کوئی شخص کسی کا حاجت روا نہیں تو پھر مَیں کیوں کسی سے کچھ مانگوں اور طلب کرکے اس کا احسان اٹھاوءں۔ مَیں کیوں نہ اس کی بارگاہ سے مانگوں اور سوال کروں جو کبھی کسی کے سوال کو رد نہیں کرتا اور کبھی اپنی نعمتیں عطا کرتے نہیں تھکتا۔

***

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 99 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ایک روز عبدالقدوس گنگوہیؒ حضرت علاؤالدین صابر کلیریؒ کے مزار مبارک کی زیارت کے لیے جانب کلیر روانہ ہوئے۔

جب مزار مبارک سے ایک کوس کا فیصلہ رہا یکا یک برق چمک کر ان کے نزدیک پہنچی ہی تھی کہ آپ نے بصد عجز عرض کیا ’’غلام مشتاق زیارت ہے آگے جیسے مرضی۔‘‘ اسی وقت وہ برق غائب ہوگئی۔ جب قریب روضہ کے پہنچے پھر برق بدستور چمکی۔ حضرت نے پھر بصد نیاز عرض کیا

’’بندہ برائے زیارت حاضر ہوا ہے۔ سر دینے کو تیار ہے۔‘‘

اسی وقت برق غائب ہوگئی۔ جب آپ قریب تربت اقدس کے گئے پھر بدستور برق چمکی۔ چاہتی تھی کہ ان پر گرے مگر یہ نہ ٹلے۔ استقلال سے عرض کیا۔ برق غائب ہوگئی۔ اسی وقت حضرت صابر پیاؒ کی روح مجسم ہوکر مزار سے باہر آئی اور عالم بندگی شیخ عبدالقدوسؒ کو بغل میں لیا اور مہربانی سے فرمایا ’’تو میرے سلسلہ میں سے ہے اس وجہ سے بچ گیا۔ ورنہ اس جگہ پہنچنے کی کسی کو مجال نہیں ہے۔‘‘

حضرت عبدالقدوسؒ گنگوہیؒ نے عرض کیا ’’اپنی برق جمال کو نیام میں کیجئے اور سر جمال آئیے۔ خلق اللہ کو اپنی زیارت سے مشرف کیجئے کہ عالم آپ کی برکات سے فیض حاصل کرے۔‘‘

آپ نے فرمایا ’’عبدالقدوس! تیری خاطر سے برق ذاتی کو عالم لامکاں میں مستور کیا اور اپنی صفات جمالیہ سے بقدر ایک ذرہ کے اس تربت پر جلوہ دیتا ہوں۔‘‘

اس کے بعد آپ کے مزار مبارک پر عرس کی تقریبات شروع ہوئیں۔

***

حضرت ذوالنون مصریؒ سے روایت ہے کہ مَیں ایک روز بیت اللہ کا طواف کررہا تھا اور حالت یہ تھی کہ سب لوگوں کی آنکھیں بیت اللہ کی طرف لگ رہی تھیں اور اسے دیکھ دیکھ کر ٹھنڈی آہیں بھررہے تھے۔

پھر مَیں نے ایک شخص کو دیکھا وہ بیت اللہ کے مقابل کھڑا ہوکر اس مضمون کی دعا کررہا ہے

’’اے میرے پروردگار! مَیں تیرا مسکین بندہ اور آپ کے در سے بھاگا اور دھتکارا ہوا ہوں۔ اے اللہ! مَیں ایسی چیز کا سوال کرتا ہوں کہ وہ آپ کی محبت و قرب کا زیادہ ذریعہ ہو اور ایسی عبادت مانگتا ہوں جو آپ کو زیادہ پسند ہو اور اے اللہ! مَیں آپ سے آپ کے برگزیدہ بندوں اور انبیاءؑ کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں کہ اپنی محبت کا پیالہ مجھے پلادیجئے او رمیرے دل سے اپنی معرفت کے لیے جہل کے پردے اٹھادئیے تاکہ مَیں شوق کے بازوؤں سے آپ تک اُڑ کر عرفان کے باغوں میں آپ سے مناجات کروں۔‘‘

اس دعا کے بعد وہ شخص اتنا رویا کہ آنسوؤں سے زمین کی کنکریاں ترہوگئیں۔ پھر ہنسا اور وہاں سے چل دیا۔ مَیں بھی اس کے پیچھے پیچھے ہوگیا اور اپنے جی میں کہا کہ یا تو یہ شخص کوئی عارف ہے یا مجنوں۔

القصہ وہ مسجد حرام سے نکل کر مکہ مکرمہ کے ویرانہ کی طرف ہولیا۔ پھر مجھ سے مخاطب ہوکر کہا ’’تمہیں کیا ہوا، کیوں میرے پیچھے آرہے ہو، جاؤ۔‘‘

مَیں نے پوچھا ’’آپ کا نام کیا ہے؟‘‘

کہا ’’عبداللہ‘‘

مَیں نے پوچھا ’’کس کے بیٹے ہو؟‘‘

جواب دیا ’’عبداللہ کا۔‘‘

میں نے کہا ’’یہ تو مَیں جانتا ہوں کہ ساری خلقت عبداللہ ہے (اللہ کے بندے) اور ابن عبداللہ (اللہ کے بندے کے بیٹے ) ہیں۔ مَیں آپ کا خاص نام دریافت کرنا چاہتا ہوں۔‘‘

بولے ’’میرے باپ نے میر انام سعدون رکھا ہے۔‘‘

میں نے کہا ’’جو مجنوں کے نام سے مشہور ہے۔‘‘

کہا ’’ہاں، مَیں وہی ہوں۔‘‘

میں نے کہا ’’وہ کون لوگ ہیں جن کے وسیلہ سے تم نے اللہ سے دعا کی ہے۔‘‘

فرمایا ’’وہ اپنے اللہ کی طرف ایسے چلتے ہیں جیسے وہ چلتا ہے اور خدا کی محبت کو نصب العین کیے ہوئے اور لوگوں اور دنیا کی چیزوں سے الگ ہوئے ہیں کہ جیسے کسی کے دل میں آگ لگی ہوئی ہو۔

***

حضرت شیخ ابوبکر کتانیؒ نے لوگوں سے فرمایا ’’جس طرح محشر میں خدا کے سوا کوئی معاون و مددگار نہیں ہوگا اسی طرح دنیا میں بھ ی اس کے سوا کسی کو معاون تصور نہ کرو۔ مخلوق کی محبت باعث عذاب، صحبت باعث مصیبت اور ربط و ضبط وجہ ذلت ہے۔‘‘

***

جب حضرت حسین منصورؒ کو قید خانہ میں ڈالا گیا تو قید خانہ میں آپ کے علاوہ اور بھی تین سو قیدی موجود تھے اور جب آپ نے ان سے کہا کہ کیا تم کو رہا کردوں۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر یہ طاقت ہے تو پھر تم خود کیوں یہاں آئے۔

آپ نے اشارہ کیا تو تمام قیدیوں کی بیڑیاں ٹوٹ گئیں اور جب دوبارہ اشارہ کیا تو تمام قفل ٹوٹ گئے۔ پھر آپ نے قیدیوں سے فرمایا کہ جاؤ ہم نے تمہیں رہا کردیا اور جب قیدیوں نے کہا ’’آپ بھی ہمارے ہمراہ چلئے۔‘‘

تو آپ نے فرمایا ’’میرا اپنے آقا کے ساتھ ایک راز وابستہ ہے سولی پر چڑھے بغیر حل نہیں ہوسکتا۔ گو مَیں اپنے آقا کا قیدی ہوں لیکن شریعت کی پاسداری بھی واجب ہے۔‘‘

***

شیخ عبدالغفورؒ مانو کو مانو اس وجہ سے کہتے ہیں کہ مانو آپ کی محبوبہ کا نام تھا۔ انسان یا جن کی جنس سے تھی۔ اس سے اس قدر نسبت رکھتی تھے کہ اگر کوئی اس کا نام ٹھیکری پر لکھ کر آگ میں ڈال دیتا تو یہ بھی اس کا پیچھا کرتے اور آگ میں گر پڑتے۔ اگر مانو کا نام لکھ کر کنویں میں ڈال دیا جاتا تو یہ بھی اس کے ساتھ ہی گرپڑتے اور اس ٹھیکری کو کنویں کی تہہ سے نکال لاتے۔(جاری ہے)

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 101 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -اللہ والوں کے قصے -