آزاد اور خود مختار الیکشن کمیشن

آزاد اور خود مختار الیکشن کمیشن
آزاد اور خود مختار الیکشن کمیشن

  

ڈسکہ میں الیکشن چرانے کی کوشش کی گئی تھی، لیکن عوام اور میڈیا کی مستعدی نے یہ واردات ناکام بنا دی۔ملک میں انتخابات کی 70 سالہ تاریخ میں پہلی بار الیکشن کمیشن پاکستان نے حکومت وقت کے آگے جھکنے کی بجائے جرأت مندانہ اور غیر جانبدار ویہ اختیار کیا، جس کے لئے چیف الیکشن کمشنر ڈاکٹر سکندر سلطان راجہ اور ممبران الیکشن کمیشن یقینا تعریف کے مستحق ہیں۔ پاکستان میں الیکشن کمیشن اگر اسی طرح اپنا فرض منصبی انجام دیتا رہے تو الیکشن چرانے کی حوصلہ شکنی ہو گی اور ملک حقیقی جمہوریت کی طرف گامزن ہو سکتا ہے۔ڈسکہ میں انتخابی عملہ اغوا ہوا تو میرا دھیان 1977ء کے انتخابات کی طرف چلا گیا جس میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکمران پیپلز پارٹی اور اپوزیشن قومی اتحاد کے درمیان کڑا مقابلہ ہوا تھا۔ انتظامی اور انتخابی مشینری نے کھلم کھلا حکمران جماعت کا ساتھ دیا اور بہت سی سیٹوں سے پیپلز پارٹی کے امیدوار دھونس اور دھاندلی سے بلا مقابلہ بھی منتخب ہوگئے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے مقابلہ پر جماعت اسلامی کے جان محمد عباسی امیدوار تھے، لیکن انہیں اغوا کر لیا گیا اور وہ اپنے کاغذات جمع نہ کروا سکے اوریوں بھٹو صاحب بھی بلا مقابلہ منتخب ہو گئے۔ اس اغوا میں اس وقت لاڑکانہ کے ڈپٹی کمشنر خالد کھرل کا نام بھی لیا گیا،جو بعد میں خود عملی سیاست میں آئے اور بے نظیر حکومت میں وفاقی وزیر بنے۔ الیکشن میں دھاندلی کے خلاف قومی اتحاد نے ملک گیر تحریک چلائی تو عوام کے تمام طبقے اس میں شامل تھے۔ ملک بھر کی مساجد کی طرح جہاں میں جمعہ کی نماز پڑھتا تھا وہاں کے خطیب بھی بھٹو صاحب کے خلاف شعلہ بیانی کرتے تھے۔

انہی دنوں بھارت میں الیکشن ہوا، جس میں وزیراعظم اندرا گاندھی اور حکمران پارٹی کانگریس کو شرمناک شکست ہوئی۔ جمعہ کو خطیب صاحب نے تقریر میں پھلجڑی چھوڑتے ہوئے کہا کہ اندرا گاندھی کہتی ہو گی کہ کاش میں کشمیر دے کر بھٹو سے جسٹس سعد سعود جان (چیف الیکشن کمشنر) لے لیتی۔اتفاق سے اگلے دن ایک دوست کے ساتھ ایک پرنٹنگ پریس جانا ہوا۔ یہ لاہور کے گوالمنڈی چوک میں واقع شرکت پرنٹنگ پریس تھا جسے ایک سابق صحافی منہاج الدین اصلاحی چلاتے تھے، ان کے پریس میں اپوزیشن کے حامی جرائد اور اخبار بھی چھپا کرتے تھے۔ مَیں نے اصلاحی صاحب سے خطیب صاحب کی پھلجھڑی کا ذکر کیا تو وہ کہنے لگے انڈیا کا الیکشن آزاد اور خود مختار،ہے لیکن ہمارا نہیں، کیونکہ وہاں چیف الیکشن کمشنر IAS کا بیوروکریٹ ہوتا ہے اور ہمارے یہاں جج۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی جب چیف الیکشن کمشنر بیوروکریٹ ہوگا تو وہ نسبتاً جاندار ہو گا۔ مَیں نے پوچھا ہمارے یہاں جج کیوں لگاتے ہیں تو کہنے لگے یہ بھی جنرل یحی خان کی سنت ہے جسے بھٹو صاحب زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ اصلاحی صاحب کے انتقال کو بہت سال گذر گئے ہیں،لیکن ڈاکٹر سکندر سلطان راجہ نے ان کی کئی عشرے پہلے کہی گئی بات درست ثابت کر دکھائی ہے کہ ججوں کے مقابلہ میں زیادہ جاندار ثابت ہوئے۔

بھارت میں چیف الیکشن کمشنر بیوروکریٹ ہوتا ہے اور وہاں کا الیکشن کمیشن ہمارے مقابلہ میں زیادہ آزاد ہے۔ پاکستان میں 1956ء میں پہلا آئین بناتو ایک سینئیر بیوروکریٹ ایف ایم خان پاکستان کے پہلے چیف الیکشن کمشنر مقرر ہوئے۔ اکتوبر 1958ء میں مارشل لا کے بعد پاکستان کا آئین ختم ہوگیااور چیف الیکشن کمشنر کی ضرورت بھی باقی نہ رہی۔ البتہ فیلڈ مارشل ایوب خان نے 1962 میں ملک میں دوسرا آئین نافذ کیا تو انتخابات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا۔ ایوبی دور میں بھی تین بیورو کریٹس چیف الیکشن کمشنر رہے۔ اختر حسین 1962ء سے 1964ء تک رہے، اس کے بعد ایک اور بیوروکریٹ معین الدین خان 1967ء تک چیف الیکشن کمشنر رہے۔ ان کی ریٹائرمنٹ پر جسٹس ایس اے رحمان کو قائم مقام چیف الیکشن کمشنر بنایا گیا،لیکن کچھ ماہ بعد ایک بیوروکریٹ این اے فاروق چیف الیکشن کمشنر بنائے گئے جنہیں جنرل یحییٰ خان نے مارشل لاء لگایا تو اپریل  1969ء میں فارغ کر دیا۔

اس کے بعد چیف الیکشن کمشنر صرف جج صاحبان(ریٹائرڈ اور حاضر سروس دونوں) ہی مقرر ہوئے،جبکہ 1973ء کے آئین کے تحت (آرٹیکل 219) چیف الیکشن کمشنر کے عہدہ پر سپریم کورٹ کا جج، بیوروکریٹ یا ٹیکنوکریٹ تینوں میں سے کسی کو بھی لگایا جا سکتا ہے۔1969ء سے 2020ء کے دوران 21 جج صاحبان چیف الیکشن کمشنر مقرر ہوئے۔ گذشتہ سال جب ڈاکٹر سکندر سلطان راجہ کو چیف الیکشن کمشنر مقرر کیا گیا تو مجھے خوشگوار حیرت ہوئی کہ 51سال بعد پاکستان میں ریٹائرڈ جج کی بجائے بیوروکریٹ کو اس اہم ترین عہدہ پر تعینات کیا گیا۔سب سے  دلچسپ بات یہ ہے کہ جسٹس ایس اے نصرت کو جنرل ضیاء الحق نے مارچ 1982ء میں قائم مقام چیف الیکشن کمیشن مقرر کیا جو جنرل ضیاء الحق کے پورے دور اقتدار میں 1988ء تک قائم مقام چیف جسٹس ہی رہے اور اس دوران انہوں نے 1984ء کا صدارتی ریفرنڈم اور 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات بھی منعقد کروائے۔ تقریباً سات سال تک”قائم مقام“ چیف الیکشن کمشنر سے کام چلانے سے پتہ چلتا ہے کہ ایک آمر کی ترجیحات کیا ہوتی ہیں۔ الیکشن کمیشن نے ڈسکہ کا ضمنی الیکشن کالعدم قرار دیتے ہوئے 18 مارچ کو پورے حلقہ میں دوبارہ پولنگ کا حکم دیا ہے۔

یہ اچھا فیصلہ ضرور ہے، لیکن ناکافی اور نا مکمل ہے۔ مسئلہ صرف اتنا نہیں ہے کہ ڈسکہ الیکشن میں چوری پکڑی گئی ہے۔ اس سے آگے کا سوال یہ ہے کہ اگر چوری پکڑی گئی ہے تو یقینا چوروں کی نشاندہی بھی ہو گئی ہوگی اور اگر چوروں کی نشاندہی ہو گئی ہے تو ان چوروں کو کیا سزا دی جائے گی۔ ویسے بھی حکومت کا فرض بنتا ہے  کہ انہیں عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔ جب تک ڈسکہ کے چوروں کو عوام کے سامنے پیش اور قرار واقعی سزا نہیں دی جائے گی، پاکستان میں الیکشن چرانے کا سلسلہ ختم نہیں ہوگا۔ اگر 1977ء میں الیکشن کمیشن آزاد او ر خود مختار ہوتا تو جان محمد عباسی کے اغوا کے بعد ذوالفقار علی بھٹو بلا مقابلہ منتخب نہ ہوتے اور اگر متنازعہ حلقوں کے نتائج کالعدم قرار دے کر ان میں دوباہ الیکشن کرا دئیے جاتے تو پاکستان کی تاریخ بالکل مختلف ہوتی۔ 

مزید :

رائے -کالم -