حمزہ شہباز اور  نواز شریف زندہ باد کے نعرے

حمزہ شہباز اور  نواز شریف زندہ باد کے نعرے
حمزہ شہباز اور  نواز شریف زندہ باد کے نعرے

  

 حمزہ شہباز  نے رہائی کے بعد سب سے زیادہ نعرے ”نواز شریف زندہ باد“ کے لگوائے،حالانکہ وہ اپنے والد شہباز شریف زندہ باد کے نعرے بھی لگا اور لگوا سکتے تھے،اس سے یہ پیغام دیا ہے کہ نواز لیگ میں صرف نواز شریف کا سکہ ہی چلتا ہے اور کسی کا نہیں چل سکتا۔یہاں بہت سے لوگوں کی قیاس آرائیاں ہمیشہ سے جاری رہتی ہیں کہ نواز شریف اور شہباز شریف میں اقتدار اور پارٹی پر غلبے کے لئے رسہ کشی جاری ہے۔یہ بھی کہنے والے کم نہیں کہ مریم نواز اور حمزہ شہباز  میں بھی یہ رسہ  کشی موجود ہے،مگر یہ سب خواہشیں ہو سکتی ہیں، حقیقت نہیں۔

شیخ رشید جو آج کل پُراسرار طور پر خاموش ہیں بہت کہتے رہے کہ ن سے ش نکلے گی، لیکن ابھی تک تو ن ہی کا ڈنکا بج رہا ہے،بلکہ ضمنی انتخابات میں کچھ زیادہ ہی بج چکا ہے۔یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نواز اور شہباز کی یکجہتی کو توڑنا چاہتی ہے۔ شہباز شریف کو آگے لایا جا سکتا ہے،مگر اس شرط پر کہ  وہ اپنے بھائی نواز شریف کے بیانیے کی مکمل نفی کر دیں۔ ماضی قریب میں ایسی کئی افواہیں بھی اُڑیں کہ شہباز شریف نواز شریف کا ساتھ چھوڑنے پر آمادہ ہو گئے ہیں اور مسلم لیگ (ن) ش بننے والی ہے، لیکن شہباز شریف ہر بار یہ کہہ کر ایسی پیشین گوئیوں کو  رد کر دیتے ہیں کہ نواز شریف میرا قائد ہے،مَیں اس کے بغیر کچھ بھی نہیں یہ شاید اسی دباؤ کا نتیجہ تھا کہ شہباز شریف نے جیل جانا گوارا کر لیا کسی ایسی ڈیل کا حصہ نہیں بنے،جو شریف خاندان میں دراڑیں ڈالنے کا باعث بنے۔

مریم نواز اور حمزہ شہباز شریف خاندان کی اگلی نسل کے سیاست دان ہیں، مگر دونوں یہ جانتے ہیں کہ اگر سیاست میں زندہ رہنا ہے تو تقسیم ہونے سے بچنا ہو گا، جس روز حمزہ شہباز کی ضمانت منظور ہوئی،اُسی دن وفاقی وزراء اور ترجمانوں نے یہ  کہنا شروع کر دیا کہ اب مسلم لیگ(ن) کی سیاست دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گی، حمزہ شہباز اپنی سیاست کریں گے اور مریم نواز اپنی ڈگر پر چلیں گی، ایسا کیوں ہو گا؟ اس بارے میں کسی کے پاس کوئی جواب نہیں،اِس وقت شریف خاندان کو اقتدار اپنے پاس رکھنے کے لئے دو ایسی شخصیات چاہئیں جو انتخاب لڑنے کے لئے نااہل نہ ہوں، یہ دو شخصیات حمزہ شہباز اور شہباز شریف ہیں، نواز شریف تاحیات نااہل ہو چکے ہیں اور مریم نواز بھی نااہلی کے حکم تلے سیاست کر رہی ہیں،اِس لئے کشمکش تو کوئی ہے ہی نہیں۔شہباز شریف بالفرض وزیراعظم اور حمزہ شہباز پنجاب کے وزیراعلیٰ بن جائیں تو کیا یہ نواز شریف اور مریم نواز کی شکست ہو گی؟ میرا خیال ہے ایسا نہیں ہو گا،کیونکہ نواز شریف کی آج بھی اپنی جماعت پر مضبوط گرفت ہے اور ملک میں اگر مسلم لیگ(ن) سیاست کرنا چاہتی ہے تو اُسے نواز شریف کی چھتری تلے ہی رہنا ہو گا۔ووٹ بنک آج بھی صرف نواز شریف کے نام کا ہے اور یہ بڑی فطری سی بات ہے، جس شخص نے تین بار وزارتِ عظمیٰ حاصل کی ہو، پارٹی کا سربراہ رہا ہو، اب ایک خاص بیانیے کی وجہ سے زیر عتاب ہو اُسے کیسے مکھن میں سے بال کی طرح نکالا جا سکتا ہے۔

مجھے مسلم لیگ(ن) کی سیاست سے ہمیشہ اختلاف رہا ہے، سیاست کو مفادات کے تابع کرنے والوں میں مسلم لیگ(ن) کا بڑا ہاتھ ہے۔ یہ بات بھی مجھے ہمیشہ ناپسند رہی ہے کہ شریف خاندان نے کبھی اپنے پر لگنے والے الزامات کا ثبوتوں کے ساتھ جواب نہیں دیا۔ پاکستان میں اداروں کو تباہ کرنے اور انہیں گروہی وجماعتی دباؤ میں لانے کے الزامات بھی کچھ غلط نہیں، مگر یہ ایک پہلو ہے تو دوسرا پہلو یہ ہے کہ  مسلم لیگ(ن) آج بھی ایک مقبول جماعت ہے۔ اب اس کا ایک جواب تو وہی ہے جو بڑی آسانی سے ہم سب دیتے ہیں کہ عوام میں شعور نہیں، وہ لوٹ مار کے تمام تر ثبوتوں کے باوجود پھر انہی لٹیروں کا ساتھ دیتے ہیں تاہم یہ جواب تو ایک طرح سے عوام کی اجتماعی دانش کو الزام دینے کے مترادف ہے۔

اگر تمام ثبوت موجود ہیں اور پورا میڈیا بھی ٹرائل کر رہا ہے تو عوام آخر سمجھتے کیوں نہیں،کیوں آج بھی ضمنی انتخاب ہو تو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو ووٹ ڈالتے ہیں؟ اِس کا مطلب ہے کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی بات ضرور ہے، جب سے تحریک انصاف کی حکومت آئی ہے دن رات ایک ہی راگ الاپا گیا ہے،خود عمران خان بھی بات بے بات چوروں، لٹیروں اور ڈاکوؤں کا ذکر کرتے ہیں، ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ مَیں اقتدار چھوڑ دوں گا،انہیں این آر او نہیں دوں گا،اب اتنا زیادہ پروپیگنڈہ بھی اگر عوام کا شعور بیدار نہیں کر سکا، انہیں اُن دو جماعتوں سے متنفر کرنے میں کامیاب نہیں رہا، جو بقول حاکمانِ وقت ملک کو برباد کر گئی ہیں اتنا تو پھر تسلیم کرنا چاہئے کہ وہ جماعتیں کچھ  ایسا کام بھی کرگئی ہیں جو عوام کو اُن کی یاد بھلانے نہیں دیتا۔

تحریک انصاف کے وزراء اور ترجمانوں کی یہ باتیں ایک خواہش تو ہو سکتی ہیں کہ مسلم لیگ(ن) میں دراڑ پڑنے والی ہے۔ مریم نواز اور حمزہ شریف ایک دوسرے کے مقابل آنے والے ہیں، پارٹی پر قبضے کے لئے نواز شریف اور شہباز شریف میں جنگ چھڑنے والی ہے،مگر اِس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں کہ اگر شہباز شریف اور حمزہ شہباز نواز شریف کے خلاف میدان میں آنے کے لئے تیار ہیں تو پھر انہیں مہینوں جیل کے اندر کیوں رکھا جاتا ہے۔اب عدالت ِ عالیہ سے حمزہ شہباز شریف کی ضمانت ہوئی ہے تو اُسے بھی ڈیل کا نتیجہ قرار دینے والے درحقیقت خوابوں اور خوش فہمیوں میں رہنے والے لوگ ہیں، اگر نواز شریف کو حمزہ شہباز اپنا لیڈر نہ مانتے تو کیا اُن کا جیل سے رہائی پر وہ استقبال ہوتا، جو ہوا ہے۔ کیا حمزہ شہباز نے نواز شریف زندہ باد کے نعرے لگوا کر شعوری طور پر یہ پیغام نہیں دیا کہ بات اب تک وہیں کھڑی ہے۔ ثابت ہو گیا کہ شریف خاندان کو چور چور کہہ کر ختم کرنے کی پالیسی ناکام ہو گئی ہے ہاں یہ اُس وقت کامیاب ہوتی جب حکومت عوام کے لئے کچھ کرتی اور انہیں احساس دلاتی کہ چوروں کی حکومت نے اُنہیں جو زخم لگائے تھے ہم ان پر مرہم رکھ رہے ہیں، مگر یہاں تو سوائے نئے زخم لگانے کے اور کچھ کیا ہی نہیں گیا۔

مزید :

رائے -کالم -