ڈر کاہے کا۔۔۔۔؟؟؟

ڈر کاہے کا۔۔۔۔؟؟؟
ڈر کاہے کا۔۔۔۔؟؟؟

  

کوئی منظور نظر شخص ہی ہارا ہو گا

تبھی تو اعلان ہوا کھیل دوبارہ ہو گا

یہ شعر  آج کل سوشل میڈیا پر بہت گردش کررہا ہے۔اس شعر کو ڈسکہ الیکشن میں مبینہ بے ضابطگیوں کے نتیجے میں الیکشن کمیشن کی جانب سے دوبارہ الیکشن  کے اعلان کے تناظر میں پیش کیا جارہا ہے ۔ ماضی میں جھانک کردیکھیں تو  انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگتے رہے لیکن جو حالات ڈسکہ میں این اے75 پر دیکھنے کو ملے اس طرح کی مثال تہتر سالہ تاریخ میں نہیں ملے۔ماضی میں سنتےرہے بیلٹ بکس چوری ہو گئے، ووٹوں میں ہئیرپھیر ہو گیا وغیرہ وغیر لیکن یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے کہ 23پولنگ سٹیشنز کی پریزائیڈنگ آفیسر ہی انتخابی بکسوں سمیت ساری رات گمشدہ رہے ۔ صبح جب وہ سب ریٹرننگ آفیسرز کے سامنے پیش ہوئے تو عجیب و غریب عذرداریاں پیش کی گئیں، ایسی عذرداریاں کے سننے والا ہنس کررہ جائے۔

کیسی عجیب بات کہ ’’دھند‘‘ کی وجہ سے نتائج تاخیر کا شکار ہوئے۔ بحرحال یہ اب ثانوی باتیں ہیں لیکن یہ تحقیق ہونا ضروری ہے کہ آخر ایسا ہوا کیوں؟ کس کی ایما پر ایسا کیا گیا ؟ کون کون اس مکروہ دھندے میں ملوث تھا؟ الیکشن کمیشن نے دوبارہ نتائج کا اعلان کر کے ثابت کر دیا کہ  الیکشن کمیشن ایک بااختیار ادارہ ہے، ورنہ ماضی میں اس قومی ادارے پر جانبدار ہونے کے الزامات لگتے رہے ہیں ۔الیکشن کمیشن کے حالیہ فیصلے نے ماضی کے کلنک دھودیے ہیں۔ اب یہ ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے کہ وہ ڈسکہ الیکشن کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف بھرپور اور آئینی طریقے سے مکمل کارروائی کرے۔ الیکشن کمیشن کے اس فیصلے پر اپوزیشن شادیانے بجارہی ہے تو دوسری طرف حکومتی کیمپ میں وہشت کے سائے ہیں، حکومتی شخصیات کے بیانات سے ایسے معلوم ہوتا ہے کہ جیسے سارے کیے دھرے کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوٹ گئی ہو اور اس پر ماتم کے سوا کچھ نہ کیا جا سکے۔ عجیب بات تو یہ تھی کہ ابھی الیکشن کمیشن کی جانب سے این اے 75کے نتائج روک دیے گئے لیکن حکومتی شخصیات نتائج کے اعلان سے قبل ہی اعدادوشمار کیساتھ اپنی جیت کا اعلان کررہی تھیں۔

اسی تناظر میں آپ کو ماضی کا ایک حوالہ دیے دیتا ہوں۔ 2013 کا الیکشن ہوتا ہے رات گیارہ بجے کے بعد مسلم لیگ ن کی جیت کی خبریں آنا شروع ہوتی ہیں، واضح برتری کے آثار نوشتہ دیوار تھے کہ مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف نے بھائی شہباز شریف اور دیگر مسلم لیگی رہنماؤں کیساتھ ماڈل ٹاؤن میں 180-Hمیں کارکنان سے خطاب کیا اور ممکنہ جیت پر کارکنان کو مبارکباد دی۔ یہ تب کیا گیا جب قریباً واضح برتری کے آثار نمودار ہو چکے تھے۔ پھر اس تناظر میں 2014کے دھرنے میں عمران خان صاحب نے فرمایا تھا کہ دھاندلی ہوئی ، کیوں نوازشریف نے مکمل نتائج سے پہلے جیت کا اعلان کیا تھا۔ اب یہی سوال تحریک انصاف کے رہنماؤں سے ہے کہ جب ایک حلقے کا نتیجہ متنازع ہونے کے باعث روک دیا گیا تو کیوں اور کس بنا پر ووٹوں کے اعدادوشمار کیساتھ تحریک انصاف کے امیدوار کی جیت کا اعلان کیا گیا ؟ کیوں الیکشن کمیشن پر یہ کہہ کر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی کہ الیکشن کمیشن نتائج روکنے کا مجاز نہیں فوری طور پر تحریک انصاف کے امیدوار کی جیت کااعلان کیا جائے؟

کیا یہ حرکت  اس ضمن میں نہیں آتی کہ من مرضی نتائج ظاہر کرنے کے لیے واویلا کیا جارہا تھا؟ ویسے جب الیکشن کمیشن نے متعلقہ حلقے میں دوبارہ انتخاب کا اعلان کیا تو پھر حکومتی بینچوں کی جانب سے واویلا کیا گیا کہ پورے حلقے میں الیکشن کےدوبارہ انعقاد کا کیوں کہا گیا؟ لہذا تحریک انصاف کی جانب سے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کااعلان کیا گیا ۔ اگر ان کو مکمل یقین ہے کہ دھاندلی نہیں ہوئی اور تحریک انصاف ہی ڈسکہ این اے 75سے جیت رہی تھی تو پھر دوبارہ انتخاب میں کیا ہرج ؟  اگر دامن صاف ہے تو ڈر کاہے کا؟

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -